بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / لاہور بغداد نہ تھا

لاہور بغداد نہ تھا


ریمنڈ ڈیوس کی کتاب ’’دی کنٹریکٹر‘‘ کو پڑھتے ہوئے کسی فلم کو دیکھنے کا گمان ہوتا ہے ہر واقعہ لفظوں کی بجائے تیزی سے بدلتے ہوئے منظروں کی صورت میں نظر آتا ہے ہر منظر مکمل منظر نامے اور مکالموں سمیت حواس پر چھا جاتا ہے کسی بھی سنسنی خیز فلم میں دو انسانوں کا دن دیہاڑے لرزہ خیز قتل ایک بھرپور کلائمکس یا نقطۂ کمال ہو سکتا ہے مگر مزنگ چوک میں ستائیس جنوری 2011 کے دن ہونے والی ہولناک واردات اس کہانی کا نقطۂ آغاز ہے اس کے بعداس المیے کا مرکزی کردار ہر منظر پر چھا یا ہوا نظر آتا ہے وہ ایک غیر ملکی ہونے کے باوجود اپنے آپ کو حالات کے حوالے کرنے سے انکار کر دیتا ہے وہ ایک ریاست کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے جب وہ کوٹ لکھپت جیل پہنچتا ہے تو یہ ریاست اسکے سامنے کانپتی اور تھرتھراتی ہوئی نظر آتی ہے جیل کاطاقتور سپرنٹنڈنٹ اور سٹاف اسکے سامنے مجبور اور بے بس ہوتے ہیں وہ مناظر جن میں ایک قیدی جیل کے اندر ہوتے ہوئے بھی ایک ریاست کو للکارتا ہے اس کہانی کا اصل نقطۂ کمال ہے ‘ میں ایک قیدی اور ایک ریاست کے اس تصادم کو بیان کرنا چاہتاہوں مگر اس سے پہلے ریمنڈ ڈیوس کی آنکھوں سے مزنگ چوک میں قتل کے خوفناک منظر کو دیکھتے ہیں کتاب کے صفحہ ستائیس پر اس نے لکھا ہے ’’ موٹر سائیکل کی پچھلی نشست پر بیٹھے ہوئے شخص کے تنے ہوئے پستول نے میرے لئے ایک نہایت مشکل صورتحال پیدا کر دی تھی اس جگہ سے بھاگنے کا کوئی راستہ مجھے نظر آتا تو میں یقیناًاسے اختیار کر لیتاصرف دس فٹ کے فاصلے سے پستول کی نالی دیکھنے کے بعد میں اگر گیس پیڈل کو پورے زور سے دبا کر وہاں سے فرار ہو سکتا تو میں ایسا کر دیتامگر وہاں ایسا کوئی راستہ موجود نہ تھا میرے سامنے بمپر ٹو بمپر ٹریفک تھی میں آگے جا سکتا تھا نہ پیچھے۔

‘ دائیں نہ بائیں میں بری طرح پھنسا ہواتھا اسوقت میں اگر اپنی فولادی آرمرڈ گاڑی میں ہوتا تومجھے کچھ بھی نہ کرنا پڑتا میں اس میں آرام سے بیٹھا رہتا اور چاہتا تو ہنس بھی دیتا اور مزے سے بلٹ پروف گاڑی کی ونڈ شیلڈ پر برسنے والی گولیوں کی بے بسی کے منظر سے لطف اندوز ہوتا مگر اس روزایک ساتھی کی بات مان کر میں نے جوحماقت کی تھی اسکا نتیجہ میرے سامنے تھا میں پتلی چمڑی والی سفید سیڈان میں بیٹھی ہوئی ایک بطخ تھا آزمائش کے اس کڑے وقت میں میری فوجی ٹریننگ ہی میرا واحد سہارا تھی مجھے اپنا دفاع کرنے کی بہترین تربیت دی گئی تھی سو اس لمحے میں نے اسی کو استعمال کیامیں نے جونہی پستول کی نالی کو اپنی طرف سیدھا ہوتے دیکھاتو سب سے پہلے میں نے بٹن دبا کر سیٹ بیلٹ کھول دی اور اسکے فوراً بعد قمیض کے نیچے کمر پیٹی میں لگے ہولسٹر سے ریوالور نکالناشروع کیا بدن پر ہولسٹر کی جگہ کا تعین ہر کوئی اپنی پسند کے مطابق کرتا ہے بعض لوگ اسے پشت پر لگانا پسند کرتے ہیں اور بعض کولھے کی ہڈی یا سینے پر‘ میں اسے پسلی سے کچھ اوپر لگاتا ہوں اور اس دن مجھے پتہ چلا کہ یہ ایک درست فیصلہ تھا اس لمحے میرا ریوالور میرے جسم کے کسی بھی دوسرے حصے میں لگا ہوتا تو میں اسے اتنی آسانی سے نہ نکال سکتااس سہولت کے باوجود مجھے اسے قمیض کے بٹن کھول کر ٹی شرٹ کے نیچے سے نکالنا تھااس کام کے کرنے میں ایک سیکنڈ کا کچھ حصہ لگنا تھامیرے لئے یہ کام نہایت سرعت سے کرنا کوئی مشکل بات نہ تھی میں اپنے بھائی اور دوستوں کیساتھ جنگل میں درختوں پر شاٹ گن کی گولیاں برسایا کرتا تھا اسکے بعد لڑکپن ہی میں والد کی وفات کے فوراً بعد میں نے آرمی جوائن کرلی گھر میں فاقوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے اسکے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہ تھا اور فوجی بننے کا مجھے شوق بھی تھاFort Banning میں نشانے بازی کی تربیت حاصل کرنے کے بعدمیں نے Markmanship Qualification Badge جیسا اعزازی تمغہ حاصل کیامیرے انسٹرکٹر نے بڑے فخر سے میرے بارے میں کہا تھاWhen it came to shooting a gun, I was an expert یعنی گن چلانے کے معاملے میں میں ماہر تھااسکے بعد میں Defensive Pistol Associationکا ممبر بن گیا۔

وہاں مجھے ہولسٹر میں سے بجلی کی سرعت کیساتھ گن نکالنے کی تکنیک سکھائی گئی‘‘ریمنڈ ڈیوس نے لکھا ہے کہ ’’گولی چلانے کا ارادہ کر لینے اورہولسٹر میں سے گن نکال کر فائر کرنے کے درمیانی عرصے کو Draw Time کہا جاتا ہے نشانہ باز جتنا ماہر ہو گا اسکا Draw Time اتنا ہی کم ہو گا میرے انسٹرکٹر نے مجھے کہا تھا کہ تم اگر ایک سیکنڈ سے کم عرصے میں ہولسٹر سے ریوالور نکال کر فائر نہیں کر سکتے تو تم نے مجھ سے کچھ بھی نہیں سیکھااس دن مزنگ چوک میں اسی تربیت کیوجہ سے میں نے ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصے میں ٹی شرٹ کے نیچے سے ریوالور نکال لیا Pretty darn fast, all things considered‘‘یہ سب کچھ بڑی تیزی سے ہوا‘ تمام مسائل کے باوجوداسکے بعد گولی چلانے کا منظر بیان کرتے ہوئے ریمنڈ نے لکھا ہے ’’میرے سامنے موٹر سائیکل پر بیٹھے ہوئے دو آدمیوں کو اگر معلوم ہوتا کہ میں کتنی جلدی گن نکال کر فائر کر سکتا ہوں تو وہ میرے منہ کبھی بھی نہ لگتے۔جیسے ہی میری گن سٹیئرنگ سے اوپر اٹھ کر اپنے مطلوبہ ہدف کے سامنے آئی اس نے آگ برسانا شروع کردی امریکہ میں گاڑیوں کی ونڈ شیلڈ Laminated Safety Glass سے بنی ہوتی ہے وہاں ایک گولی کے لگتے ہی ونڈشیلڈ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا جو گولیاں میں چلا رہا تھا وہ ونڈشیلڈ میں سوراخ کرتی ہوئی گذر رہی تھیں باقی کا شیشہ محفوظ تھا اس روز میں نے جو گن استعمال کی وہ Glock 17 تھی یہ برینڈ نیو ہتھیار مجھے لاہور پہنچنے پر کونسلیٹ میں دیا گیا تھا اسکے علاوہ جی پی ایس‘کیمرہ‘ فون اور Motorola two way radio جو مجھے ملے وہ پہلے بھی کسی کنٹریکٹر نے استعمال کئے ہوئے تھے‘‘ ریمنڈ نے دو جیتے جاگتے انسانوں پر بے رحمی کیساتھ گولیاں برسانے کے عمل کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ اس دن مجھے جو گن دی گئی تھی ۔

اس نے اپنا کام کر دکھایا تھامیں نے اسکے چیمبر سے دس گولیاں چلا کر اپنی جان بچا لی تھی اور یوں خطرے کو دیکھنے سے لیکراسے ختم کرنے تک مجھے صرف تین سیکنڈ لگے آخری گولی چلانے کے فوراً بعد میں نے ادھر ادھر یہ جاننے کیلئے دیکھا کہ لوگوں کا رد عمل کیا تھا مجھے کوئی بھی اپنی طرف بڑھتا ہوا نظر نہ آیا میں گاڑی سے نیچے اترا چاروں اطراف کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لینے کے بعد ریوالور ہولسٹر میں ڈالا میں نے دیکھا کہ سڑک پر زیادہ ترلوگ خاموش تھے یوں لگ رہا تھا کہ انہیں پتہ نہ تھا کہ کیا ہوا ہے دراصل گولیاں چلنے کی آواز سفید سیڈان کے اندر ہی دب گئی تھی جنہوں نے ان دونوں کو موٹرسائیکل پرسے گرتے ہوئے دیکھا وہ سخت خوفزدہ تھے اس قسم کی غیر معمولی صورتحال میں کئی حملہ آور خوفزدہ ہو کربھاگ کھڑے ہوتے ہیں لیکن مجھے معلوم تھا کہ پاکستان میں اس قسم کی واردات کرنے والے اگر بھاگ پڑیں تو لوگ پاگلوں کی طرح انکا تعاقب شروع کر دیتے ہیں بغداد میں گولی کی آواز سنتے ہی لوگ بھاگنا شروع کر دیتے ہیں ایسے میں بچ نکلنا آسان ہوتا ہے لیکن لاہور بغداد نہ تھا مگریہ کنساس سٹی بھی نہ تھا”Lahore wasn’t Baghdad, but it wasn’t Kansas City either”اس المیے کو جنم دینے کے بعدقاتل نے کیا کیا اس بیان کیلئے اگلی قسط کا انتظار کیجئے۔