بریکنگ نیوز
Home / کالم / صحیح فورم

صحیح فورم

جمہوریت کی بنیاد قومی اور صوبائی اسمبلیاں ہوتی ہیں بد قسمتی سے ہمارے آمروں نے انکی حیثیت کو بلا شبہ بہت نقصان پہنچایا ہے آمروں نے اپنے غیر قانونی عمل کو تقویت دینے کیلئے انتخابات کروا کر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی تشکیل تو کی مگر ان کو بے وقعت بنانے کیلئے اسمبلیوں کو اصل کام سے دور رکھا ۔ کسی بھی اسمبلی میں کوئی قانون پاس نہیں ہوا سوائے اس کے کہ جو حکم ڈکٹیٹر نے آرڈیننس کی صورت میں دیا اس پر مہر ثبت کرنے کے لئے اسمبلیوں کا استعمال کیا گیااپنی مرضی کے نتائج لینے کیلئے اسمبلی اراکین کے لئے ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز دیئے گئے جو ایک طرح کی سیاسی رشوت تھی اس لئے کہ جو ترقیاتی فنڈ کسی بھی رکن اسمبلی کو دیئے گئے اس کا نہ تو کوئی آڈٹ ہوتا اور نہ ہی دیکھا جاتا کہ فنڈز جس امر کے لئے حاصل کئے گئے ہیں کیا اس پر استعمال ہوئے ہیں یا نہیں۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ اراکین اسمبلی نے ان فنڈز کو اپنے بینک بیلنس بڑھانے کا ذریعہ بنا لیا ۔کیوں کہ کوئی پوچھنے والا نہیں تھا اس لئے اس فنڈ کو صرف سیاسی رشوت ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے جب ایک رکن اسمبلی نے ترقیاتی فنڈ لے لیا اور اس کا غلط استعمال کر لیا تو وہ اس کی فائل میں درج ہو گیا اب اگر وہ رکن اسمبلی حکومت کے خلاف بات کرتا تو اس کے سامنے فائل رکھ دی جاتی جس سے اس کے پسینے چھوٹ جاتے اور وہ ہمیشہ کے لئے حکومت کے خلاف اپنی زبان بند کر دیتایہ عمل چونکہ ایک بڑے عرصے تک جاری رہا اسلئے یہ ہمارے اسمبلی ممبران کا استحقاق بن گیا اب جو جمہوری حکومت بھی آتی اس کو لازماً ان فنڈزکا اجرا کرنا پڑتااور اگر کوئی حکومت ان فنڈز کو بند کرتی تو اس کیخلاف حزب اختلاف تو ہوتی ہیں حزب اقتدار میں بھی پھوٹ پڑ جاتی اور حکومتی پارٹی کے لوگ اول تو پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شمولیت اختیا ر کر لیتے جسے لوٹا ازم کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔

جب اس پر پابندی لگی تو پارٹی میں ہی ایک ایڈوانس گروپ بننا شروع ہو گیااور جب تک ترقیاتی فنڈریلیز نہ ہوئے حکومت کو ہاتھ پاؤں مارنے پر مجبور کر دیا گیاچنانچہ پارٹی اراکین کو ساتھ ملائے رکھنے کیلئے فنڈز کا حربہ استعمال کرنا پڑا اب بھی ترقیاتی فنڈز ہی کسی رکن اسمبلی کا اپنی پارٹی کیساتھ رہنے کا سبب ہے۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے نمائندے اسمبلی میں اسلئے نہیں جاتے کہ وہ اپنے ملک کی بہتری کے لئے کچھ کریں گے بلکہ اس لئے جاتے ہیں کہ وہ قومی خزانے سے ترقیاتی فنڈز کے ذریعے ڈاکہ ڈالیں گے ورنہ ایک اسمبلی کا رکن انتخاب جیتنے کے لئے جو کروڑوں روپے خرچ کرتا ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ اس کے دل میں قوم کا بہت درد ہوتا ہے بلکہ وہ اس کو ایک انوسٹمنٹ سمجھتا ہے جس میں نقصان کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اس کو خرچ کی گئی رقم بمع سودواپس مل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کے اراکین جو پہلی دفعہ رکن قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑتے ہیں انکے پاس اپنی سواری بھی نہیں ہوتی ۔ وہ اپنی الیکشن کمپین یا پیدل کرتے ہیں یا کسی دوست رشتہ دار کی سواری استعمال کرتے ہیں مگر جیتنے کے ایک سال بعد وہ اپنے علاقے میں بہت ہی قیمتی گاڑیوں میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک بات پر بہت زور دیا جاتا ہے کہ چونکہ اسمبلی کے ممبران امیر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اسلئے وہ غریبوں کے مسائل سے واقف نہیں ہوتے اگر اسمبلی میں غریبوں اور متوسط طبقے کو نمائندگی ملے تو ہی انقلاب آ سکتا ہے ۔