بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / کاریک رکن ممالک میں تعاون غربت کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہو گا ،وزیراعظم

کاریک رکن ممالک میں تعاون غربت کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہو گا ،وزیراعظم


اسلام آباد۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہمضبوط علاقائی روابط کیلئے مواصلاتی نظام کی ترقی ضروری ہے،باہمی تعاون سے ہی غربت کا خاتمہ ممکن ہے ، وسط ایشیائی علاقائی اقتصادی تنظیم کے رکن ممالک میں تعاون غربت کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہو گا ،کاریک ملکوں کی شراکت ترقی کے خواب کو حقیقت میں بدلے گی ۔وسط ایشیائی علاقائی اقتصادی تنظیم کاریک کے 15ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کاریک پروگرام کا تصور 1996میں پیش کیا گیا جس کا مقصد رکن ملکوں میں پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنا ہے اور علاقائی روابط میں مضبوطی کے لیے مواصلاتی نظام کی ترقی ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ کاریک ملکوں کی شراکت ترقی کے خواب کو حقیقت میں بدلے گی اور رکن ممالک میں تعاون غربت کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا ۔۔ان کا کہنا تھا کہ علاقائی روابط میں مضبوطی کے لیے مواصلاتی نظام کی ترقی ضروری ہے ،کاریک وسط ایشیائی ممالک کی منڈیوں تک پہنچنے کا ذریعہ ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ کاریک وسط ایشیائی منڈیوں تک پہنچنے کا اہم منصوبہ اور رکن ممالک میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم فورم ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کاریک ملکوں میں اہم ادارہ ہے ۔نواز شریف نے مزید کہا کہ کاریک ممالک آپس میں توانائی ٹرانسپورٹ اور تجارت میں تعاون کر سکتے ہیں اور کاریک وسطی ایشیائی ریاستوں تک پہنچنے کا اہم منصوبہ ہے اور ان دس ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کیلئے اہم فورم بھی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ اس تنظیم میں ملکوں کی شراکت ترقی کے خواب کو حقیقت میں بدلے گی کاریک منصوبے ہی اے ڈی بی اور دوسرے شراکت داروں کو تعاون فراہم کرہے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک منصوبوں پر کام جاری ہے اور سی پیک کے فوائد کاریک ملکوں تک بھی پہنچیں گے ۔انہوں نے کہاکہ تنظیم میں شامل ممالک کو توانائی ، ٹرانسپورٹ اور تجارت میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے کیو نکہ کاریک کا مقصد رکن ملکوں میں پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنا ہے اس لئے ہمیں ملکر مذکورہ شعبوں میں کام کرنا ہوگا ۔ ۔ کاریک تنظیم میں دس ممالک شامل ہیں جن میں پاکستان ،چین ،افغانستان ،آذربائیجان ،قازقستان ،کر غزستان ،منگولیا ،تاجکستان ،ترکمانستان اور ازبکستان بھی شامل ہیں ۔