بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / الیکشن کمیشن نے شفاف انتخابی عمل کیلئے عدالتی فیصلوں کی روشنی میں ضابطہ اخلاق تیار کرلیا

الیکشن کمیشن نے شفاف انتخابی عمل کیلئے عدالتی فیصلوں کی روشنی میں ضابطہ اخلاق تیار کرلیا


اسلام آباد۔الیکشن کمیشن نے شفاف انتخابی عمل کیلئے عدالتی فیصلوں کی روشنی میں ضابطہ اخلاق تیار کرلیاجبکہ چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے کہا ہے کہ آئندہ انتخابی عمل کو شفاف بنانا چاہتے ہیں، تمام شہریوں کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے ،انتخابات میں پیسوں، طاقت اور اسلحہ کے بے دریغ استعمال کو سختی سے روکا جائے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن کاسیاسی جماعتوں کیساتھ مجوزہ ضابطہ اخلاق پرمشاورتی اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ(ن)کے علاوہ کسی بھی سیاسی جماعت کے سربراہ نے شرکت نہ کی۔

مسلم لیگ(ن)کی جانب سے انوشہ رحمان، عبدالقادر بلوچ اور طارق فضل چوہدری شریک ہوئے۔ چیف الیکشن کمشنر سردار رضا نے مشاورتی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آزاد اور خودمختار ادارہ ہے جسے آئین انتخابات کیلئے تمام اختیارات دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کیلئے ضابطہ اخلاق کا مسودہ تیار کیا گیا ہے اور سیاسی جماعتوں سے بھی اس پر مشاورت کی جائے گی،انتخابات کے تمام تر انتظاما تاور شہریوں کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے ، غیرجانبدار انتخابا ت کے انعقاد کی بھی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، میڈیا سے مل کر شفاف انتخابات کی کوشش کر رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ امیدوار انتخابات میں پیسے کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں، الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل میں رقم کے بے دریغ استعمال کوروکنے کا اختیار حاصل ہے۔ انتخابات میں طاقت اور اسلحہ کا بے دریغ استعمال روکنے کے لئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں کیونکہ جلسے جلوسوں میں اسلحہ کے استعمال سے قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں ۔

ان قیمتی جانوں کو بچانے کے لئے ہر ممکن سخت اقدامات کئے جائیں گے انہوں نے کہاکہ عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کو کسی تادیبی کارروائی کا اختیار حاصل ہے الیکشن کمیشن کے اختیارات کے حوالے سے سپریم کورٹ نے 8جون2012ء کے فیصلے میں تفصیلی روشنی ڈ الی ہے