بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان کے روشن مستقبل کے ساتھ کھڑے ہیں ٗ مولانا فضل الرحمان

پاکستان کے روشن مستقبل کے ساتھ کھڑے ہیں ٗ مولانا فضل الرحمان

کراچی ۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جو استعفے دے کر بھی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں وہ کس منہ سے دوسروں سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں، جو آئینی طور پر آپ کا وزیراعظم ہے آپ اسی کو اخلاق سکھا رہے ہیں، وزیراعظم استعفیٰ مانگنے والوں کے سامنے ڈٹ جائیں، کسی صورت استعفیٰ نہ دیں، پاکستان مزید بحرانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، ہم نے دھرنوں کو ناکام بنا کر سی پیک کیلئے راستہ بنایا،وزیراعظم سے اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ مانگنے والوں نے خود وہ کام کئے جو جمہوریت پسند آدمی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، خورشید شاہ آج انہی کے پہلو میں بیٹھے ہیں کل جن سے پارلیمنٹ کو خطرہ تھا، آدھی رات کو کیسے گئے ، ملک اب نئے بحرانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ دیکھنا ہو گا، اب ہمیں آگے بڑھنا چاہیے اور تمام اداروں کو ایک پیج پر آ کر ملک کی سلامتی کیلئے کام کرنا چاہیے۔

دنیا وقت کے ساتھ اصل مسئلے کو سمجھ رہی ہے، مسئلہ پاناما کیس نہیں بلکہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کا ہے، بھارت اور امریکہ مل کر پاکستان میں سی پیک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ، کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والوں سے پوچھتا ہوں کہ کے پی کے میں کرپشن ہے اسکے خاتمہ کیلئے کوئی اقدامات کیوں نہیں کئے جا رہے، وہاں پر کیسز کیوں نہیں اٹھائے جا رہے، اپنے صوبے کے خیبر بینک اسکینڈل کو چھپایا جا رہا ہے، جس نے کے پی کے کو برباد کر دیا وہ پورے ملک کو کیسے کرپشن سے بچائے گا،عوام جے یو آئی(ف) کو حکومت دے کر دیکھیں کرپشن مکمل طور پر ختم ہو جائے گی،دباؤ ڈال کر حکومتوں اور وزیراعظم کو رخصت کرنے کی روایت غلط ہے، پیپلز پارٹی یوسف رضا گیلانی کے متعلق عدالتی فیصلے کو درست قرار نہیں دیتی اور ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر ہم سے قرار داد پاس کروائی گئی کہ یہ ایک عدالتی قتل تھا ، تو کیا کل پھر دوبارہ ایک قرار داد لائی جائے گی کہ یہ فیصلے عدالتی قتل تھے۔ وہ جمعہ کو کراچی میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کو ڈٹ جانا چاہیے ، کسی صورت بھی استعفیٰ نہیں دینا چاہیے، مجھے پیپلز پارٹی پر تعجب ہے جو پی ٹی آئی کے ساتھ جا ملی، کیا عمران خان کی نظر میں آصف علی زرداری کم چور ہے، کیا عمران خان نے پیپلز پارٹی پر جتنے بھی الزامات لگائے آج ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ان الزامات سے دستبردار ہو گئے یا پی پی والوں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا اعتراف کرلیا ہے، کل جو جمہوریت بچانے کے لئے اپنا اپوزیشن لیڈر ہوتے ہوئے نواز شریف کے ساتھ جا بیٹھی، آج کیوں مخالفت میں کھڑی ہے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ دنیا وقت کے ساتھ اصل مسئلے کو سمجھ رہی ہے، مسئلہ پاناما کیس نہیں بلکہ مسئلہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کا ہے، پہلے دھرنوں کے وقت بھی ہم نے اس بات کا تجزیہ دیا تھا کہ دوبارہ بھی حملے ہوں گے مگر اس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ آگے والا حملہ کس شکل میں ہو گا مگر پھر ایک پانامہ ان کے ہاتھ آ گیا جس کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، نئی نسل نہیں جانتی کہ یہ وہی مقدمات ہیں جن سے عدالتیں اور سیاسی جماعتیں پہلے بھی گزر چکی ہیں مگر ہم پاکستان کے روشن مستقبل کے ساتھ کھڑے ہیں، اس کو سبوتاژ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں تاثر جا رہا ہے کہ پاکستان میں اداروں کے درمیان ٹسل بازی ہو رہی ہے جس کے پاکستان پر اچھے اثرات نہیں پڑ رہے، وزیراعظم نواز شریف کا استعفیٰ دینا ملک کا بہت بڑا نقصان ہے، وہ کس بنیاد پر اور کیوں استعفیٰ دیں، جو لوگ خود مستعفی ہو کر بھی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں ان کو کوئی حق نہیں کہ وہ دوسروں کو اخلاقی سبق دیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک طرف کچھ ممبران پارلیمنٹ کے رکن ہوتے ہوئے بھی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا، دوسری طرف جو آئینی طور پر وزیراعظم ہے اس سے استعفیٰ مانگا جا رہا ہے، یہ ناانصافی ہے سب کیلئے ایک ہی طریقہ کار ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح دباؤ ڈال کر حکومتوں اور وزیراعظم کو رخصت کرنے کی روایت غلط ہے، پیپلز پارٹی یوسف رضا گیلانی کے متعلق عدالتی فیصلے کو درست قرار نہیں دیتی اور ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر ہم سے قرار داد پاس کروائی گئی کہ یہ ایک عدالتی قتل تھا ، تو کیا کل پھر دوبارہ ایک قرار داد لائی جائے گی کہ یہ فیصلے عدالتی قتل تھے، روز روز ہم یہی کرتے رہیں گے، آج عدالت کا فیصلہ ہے تو مقدس ہے مگر جب دور گزر جاتا ہے تو اس کو عدالتی قتل قرار دے دیا جاتا ہے، ملک میں کیا کھیل کھیلے جا رہے ہیں، کیوں اداروں کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک اب نئے بحرانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ دیکھنا ہو گا، اب ہمیں آگے بڑھنا چاہیے اور تمام اداروں کو ایک پیج پر آ کر ملک کی سلامتی کیلئے کام کرنا چاہیے، ہم نے دھرنوں کو ناکام بنا کر سی پیک کیلئے راستہ بنایا ہے، انڈیا اور امریکہ مل کر پاکستان میں سی پیک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام (ف) نے کہا کہ فوج سی پیک کی ضامن ہے مگر وہ بھی ضمانت تب پوری کر سکے گی جب ملک میں امن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والوں سے پوچھتا ہوں کہ کے پی کے میں بھی کرپشن ہے اسے ختم کرنے کیلئے کوئی اقدامات کیوں نہیں کئے جا رہے، وہاں پر کیسز کیوں نہیں اٹھائے جا رہے، اپنے صوبے کے خیبر بینک اسکینڈل کو چھپایا جا رہا ہے۔

جس نے کے پی کے کو برباد کر دیا وہ پورے ملک کو کیسے کرپشن سے بچائے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کے پی کے کی پولیس کے نظام کو برباد کر دیاگیا ہے، ان کے چیف سیکرٹری نے باقاعدہ چارج شیٹ دے کر استعفیٰ دیا، دوسرے چیف سیکرٹری نے بغیر چارج شیٹ دیئے استعفیٰ دیا، این جی اوز کے ذریعے صوبے کو چلایا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کے پی کے میں سول بیورو کریسی نے کالی پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا۔اس ملک کی بدقسمتی ہو گی کہ عدالت کا کوئی ایسا فیصلہ آئے جسے ’’جوڈیشل کُو‘‘ سے تعبیر کیا جائے، آج ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے آپ کل اس پر روئیں گے کہ یہ ہمارے ساتھ کیا ہوا، پانامہ کی پکتی ہوئی دیگ ٹھنڈی ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف سے اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ مانگنے والوں نے خود وہ کام کئے جو جمہوریت پسند آدمی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، خورشید شاہ آج انہی کے پہلو میں بیٹھے ہیں کل جن سے پارلیمنٹ کو خطرہ تھا، آدھی رات کو کیسے گئے فیصلے عوام نہیں کیا کرتی۔ انہوں نے کہا کہ میرا جے آئی ٹی سے یا اس کی رپورٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے، جو جے آئی ٹی میں پیش ہوئے ان کو ان کے رویوں کا انداز معلوم ہے، کچھ ذمہ دار اداروں کی طرف سے ٹوئیٹس کے ذریعے معاملے کو خراب کیا گیا جس سے اس معاملے میں ان کے فریق ہونے کا تاثر بھی گیا، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام جے یو آئی(ف) کو حکومت دے کر کرپشن مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔