بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پانامہ پیپرز تلے دبے عوامی مسائل؟

پانامہ پیپرز تلے دبے عوامی مسائل؟


وطن عزیز میں پانامہ کا ہنگامہ جاری ہے، سیاسی محاذ سخت گرم ہے اور ہر طرف سے پرجوش بیانات آرہے ہیں، سیاسی درجہ حرارت موسم گرما کے ٹمپریچر کے ساتھ بڑھتا چلا جارہا ہے، وزیراعظم نوازشریف نے وفاقی کابینہ کے بعد پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی استعفیٰ نہ دینے کا دوٹوک اعلان کیا ہے، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انہیں عوام نے منتخب کیا ہے اور ان کے ضمیر پر کوئی بوجھ بھی نہیں ہے، دوسری جانب اپوزیشن وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا کہہ رہی ہے، پانامہ کیس میں جے آئی ٹی اپنی رپورٹ دے چکی ہے جبکہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنا ابھی باقی ہے، اس سارے منظر نامے میں عوام کو درپیش مسائل پس منظر میں جاتے نظر آرہے ہیں، گرمی کی شدت میں اضافے کیساتھ بجلی کی قلت اور لائن لاسز پر لوگ لوڈشیڈنگ کی مشکلات کا شکار ہیں، لوگوں کو درپیش اس مشکل کا حل ایک جانب بجلی کی پیداوار بڑھانے اور آبی ذخائر میں اضافے کیلئے اقدامات کا متقاضی ہے تو دوسری طرف ٹرانسمیشن لائنوں کی مرمت کیلئے ایک کریش پروگرام ناگزیر ہے ضرورت وطن عزیز کی کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبی معیشت مستحکم بنانے کیلئے حکمت عملی ترتیب دینے کی ہے۔

اس ضمن میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ایک اہم سنگ میل ہے جس کیلئے امن اور سیاسی استحکام ناگزیر ہے تاکہ سٹاک ایکس چینج کریش ہونہ ہی روپے کی قدر میں کوئی کمی آئے، ضرورت ملک میں بڑھتے تجارتی خسارے کو کم کرنے کیلئے اقدامات کی بھی ہے، اس سب کیساتھ عالمی کساد بازاری اور منڈی کے اتار چڑھاؤ میں غریب اور متوسط شہریوں کو مہنگائی کی چکی میں سے نکالنے کیلئے اقدامات ضروری ہیں، اس کیساتھ عام شہری کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا بھی منتخب قیادت کی ذمہ داری ہے، اس وقت آبادی کا ایک بڑا حصہ پینے کے صاف پانی تک سے محروم ہے اس شہری کو تعلیم اور علاج کی معیاری سہولت بھی حاصل نہیں، اس کے بچے کیلئے روزگار کے مواقع بھی کم ہیں، اسے رہائش کیلئے مکان کی ضرورت ہے، سیاسی قیادت کو اپنے تمام اختلافات کیساتھ ساتھ کم ازکم اس عام شہری کو درپیش مسائل کے حل کیلئے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینی چاہئے تاکہ مرکز اور صوبوں کی سطح پر باہمی رابطوں کے ساتھ اس پر عملی کام ممکن ہوسکے۔

بارشوں سے تباہی

صوبائی دارالحکومت پشاور اور صوبے کے دیگر علاقوں میں ہونیوالی بارشوں نے سروسز کی فراہمی اورترقی کے ذمہ دار اداروں کے اقدامات اور عملی نتائج کے درمیان فاصلے ایک بارپھر واضح کردیئے ہیں، پشاور کی سڑکیں جوہڑوں کی شکل اختیار کرکے سیوریج سسٹم کی قلعی کھول رہی تھیں جبکہ گھروں اور دکانوں میں داخل ہونیوالا پانی سڑکوں، گلیوں کی تعمیر وترقی میں تکنیکی پوزیشن کے حوالے سے سوالیہ نشان دکھا رہاتھا، بار بار تجربہ گاہ بننے والی چوک یادگار کی پارکنگ پانی سے بھر گئی جبکہ جگہ جگہ ابلنے والے نالوں کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا، یہ ساری صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اب تمام سٹیک ہولڈر ادارے سر جوڑ کر مسئلے کے حل کیلئے عملی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ ان کے عملی نتائج برسرزمین نظر آسکیں، بصورت دیگر اعلانات اور اقدامات صرف فائلوں میں ہی لگے رہیں گے۔