بریکنگ نیوز
Home / کالم / احتساب کے دشمن

احتساب کے دشمن


کوئی سیاستدان بھی اپنا احتساب نہیں چاہتا لہٰذا بہتر ہو گا اگر ہمارے سیاستدان بھلے وہ حکومت میں ہیں کہ اپوزیشن میں احتساب کی رٹ لگانے سے باز آ جائیں سیاست دانوں کا خیال یہ ہے کہ ان کا احتساب عام انتخابات میں ہو جاتا ہے اور اگر وہ الیکشن جیت کر اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ وہ دودھ میں نہلا دیئے گئے ہیں اور ان سے مزید پوچھ گچھ پھر زیادتی کے مترادف ہے کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے کئی ماہ سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی اسامی کو خالی رکھا لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اس اسامی پر اگر کوئی تعینات بھی تھا تو حکومت نے کبھی اسکی کسی بات کو مانا بھی تھا؟ آڈٹ کا محکمہ تو اس ملک میں کئی برس سے موجود ہے اگر وہ صحیح کام کرتا یا بقول کسے اسے آزادی سے کام کرنے دیا جاتا تو کیا پھر نیب کی ضرورت پڑتی ؟ کیا پھر کسی اینٹی کرپشن کے محکمے کے بنانے کا جواز پیدا ہوتا ؟یہ تو وہ بدقسمت ملک ہے کہ جس میں 2008 ‘2013ء اور 2017ء میں کرنسی کے بحران ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پیدا کئے جاتے رہے جن کے نتیجے میں سٹے باز اور بینک روپے کی قدر میں کمی کرکے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں اور ملک کی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان چند گھنٹوں میں پہنچاتے ہیں اور پھر صاف بچ جاتے ہیں ؟کیا اقدام اٹھایا ہے پی پی پی اور (ن) لیگ کی حکومتوں نے ان لوگوں کیخلاف کہ جو ان بحرانوں کے خالق تھے ؟ اس بدقسمت ملک کو دو محاذوں سے زک پہنچائی جا رہی ہے ایک اندرونی محاذ سے اور ایک بیرونی محاذ سے‘ بھارت جو ہمارا ازلی دشمن ہے وہ کبھی بھی پاکستان دشمنی سے باز نہیں آنے والا یہ بات تو طے ہے کہ سی پیک سے امریکہ اور بھارت دونوں کی جیسے سٹی گم ہو گئی ہے اور چونکہ گوادر جو کہ اس عظیم ترقیاتی منصوبے کامرکز ہے وہ بلوچستان میں واقع ہے لہٰذا ان دونوں ممالک کی یہ کوشش ہے کہ بلوچستان کو جس قدر بھی ممکن ہو زک پہنچائی جائے اپنے اس مذموم ارادے کی تکمیل کیلئے بھارت روزانہ کسی نہ کسی نئی سازش کا آغاز کرتا ہے۔

مثلاً حال ہی میں اس نے ہند بلوچ فورم کے نا م سے ایک تنظیم تشکیل دی ہے جسکا کا مقصد یہ ہے کہ بلوچستان میں انتشار پھیلایا جا ئے اس تنظیم کا حال ہی میں آگرہ میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اس موضوع پر بحث کی گئی کہ بلوچستان کی آزادی کی تحریک میں بھارتی کس قسم کا کردار ادا کر سکتے ہیں اس مجلس کے مہمان خصوصی تھے بھارتی فوج کے ایک سابق جرنیل جس کا نام ہے میجر جنرل ریٹائرڈ جی ڈی بخشی ‘ قارئین کو یاد ہو گاکہ نریندر مودی نے اپنے دورہ چین کے دوران سی پیک کے بارے میں چینی قیادت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیاتھا اور چینی رہنماؤں پر واضح کیا تھا کہ سی پیک بھارت کیلئے ناقابل قبول ہے بھارت کیوں سی پیک کا مخالف ہے ؟ محض اسلئے کہ یہ منصوبہ پاکستا ن کی معیشت کو بڑا سہارا دے گا اور ایک خوشحال پاکستان بھارت کی آنکھوں میں سماتا نہیں چونکہ بلوچستان میں چینیوں کی ایک بڑی تعداد اس عظیم منصوبے کی تکمیل میں ہمارا ہاتھ بٹا رہی ہے ان کی حفاظت کیلئے افواج پاکستا ن کے تربیت یافتہ جوان ڈیوٹی پر متعین ہیں۔

جن کی تعداد 8 ہزار کے قریب ہے بھارت اب ہند بلوچ فورم کے ذریعے اپنے تمام وسائل استعمال کر رہا ہے کہ بلوچستان میں موجود ناراض بلوچوں کو وہاں تخریبی کاروائیوں کیلئے بروئے کار لائے تاکہ سی پیک کے کاموں میں رخنہ پڑے یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پانامہ کیس کا ڈراپ سین ایک ایسے نازک موڑ پر ہو رہا ہے کہ جب سی پیک کو زیادہ سے زیادہ حکومتی توجہ درکار ہے حکومت کئی مہینوں سے مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اسلام آباد میں کوئی کا م نہیں ہورہا ہے کسی کو یہ خبر نہیں کہ کل کیا ہونیوالا ہے ؟ کیا موجودہ حکمران کل برسر اقتدار بھی رہیں گے یا نہیں ؟ ہر محب وطن پاکستانی کی دعا ہے کہ قطع نظر اس سے کہ کون رہتا ہے اور کون جاتا ہے سی پیک کے کسی کام میں رکاوٹ نہیں آنی چاہئے کہ اسکی کامیاب تکمیل میں پاکستان کی بقا ہے یہ وہ واحد منصوبہ ہے جس میں پاکستان کی بقا مضمر ہے یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کے قرضے اتار دے گا بلکہ ہماری معیشت کو بھی اپنے پاؤں پر کھڑا کر دے گا ساتھ ساتھ لاکھوں ملازمتیں بھی لائے گا اور بجلی لا کر اندھیروں کا خاتمہ بھی کر دے گا۔ ناراض بلوچوں کو منانے او ر ان کو قومی دھارے میں لانے کیلئے خاطرخواہ سیاسی ہوم ورک نہیں کیا گیا نہ زرداری کی حکومت نے کیا او ر نہ موجودہ حکمرانوں نے اور یہ افسوس کی بات ہے ۔