بریکنگ نیوز
Home / کالم / غلط فہمیاں:اسٹیبلشمنٹ نشانے پر!

غلط فہمیاں:اسٹیبلشمنٹ نشانے پر!

پانامہ کیس میں بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم نے اپنے حصے کا کام مکمل کرکے رپورٹ جمع کرا دی ہے تاہم اس حوالے سے شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں سیاستدانوں سے ہوتے ہوئے عوامی حلقوں میں بھی زیربحث ہیں جہاں ایک جانب حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کو امید ہے کہ سپریم کورٹ پاناما پیپرز کیس کا فیصلہ آئندہ ہفتے میں جاری کردیگی وہیں حکمراں جماعت مسلم لیگ (نواز) کی قیادت نے اب تک ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں اور ایسے عناصر کی بناء نام لئے نشاندہی کی جا رہی ہے‘ جو بقول حکمران جماعت نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کی سازشیں کر رہے ہیں اور نہایت ہی سخت الفاظ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے خلاف ایسی سازشیں بند کر دی جائیں لیگی رہنماؤں کی ساری توجہ ’’اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ‘‘ سے ہٹ کر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم پر مرکوز ہوگئی ہے جس نے شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ الزامات کی تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ کہ ’’ہمارا سازش کا پیغام کارکنان اور عوام تک پہنچ چکا ہے‘ اب ہم صرف جے آئی ٹی پر بداعتمادی میں اضافے اور اس کی رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے پر غور کررہے ہیں۔‘‘لیگی نکتۂ نظر سے قیادت کی توجہ کا مرکز تبدیل ہونے کی دو وجوہات ہیں‘ ان میں سے ایک سپریم کورٹ کی جانب سے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق‘ رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی آصف کرمانی کی تقاریر طلب کرنا ہے۔ واضح رہے کہ ان تقاریر میں ایسا مواد شامل تھا جس میں نواز شریف کے خلاف ہونیوالی سازشوں میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے ملوث ہونے کی جانب اشارہ کیا گیا تھا جبکہ دوسری وجہ نواز شریف کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لیگی قیادت اب اپنے ابتدائی بیان کو بھی تبدیل کرچکی ہے‘۔

رہنماؤں کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ نواز شریف کیخلاف سازش کے ہدایتکار ملک سے باہر بیٹھے ہیں جبکہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان انہی کے کہنے پر کام کررہے ہیں یعنی عمران خان اداکار ہیں۔ اس حوالے سے سعد رفیق سے یہ جاننے کی کوشش کہ جن ’غیر ملکی ہدایت کاروں‘ کی وہ بات کررہے ہیں کیا وہ پاکستانی پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں‘ کامیاب نہ ہوسکی۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے دوہزار چودہ کے اسلام آباد دھرنے کے دوران بھی پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے سابق آئی ایس آئی چیف پر نواز شریف کو ہٹانے کے لئے اس احتجاج کی منصوبہ بندی کرنیکا الزام عائد کیا تھا۔ چونکہ جے آئی ٹی اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کراچکی ہے لہٰذا عوامی طاقت کے مظاہرے اور پرانے مؤقف کو دہرانے کا فائدہ نہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت پارٹی اس بات پر متفق ہے کہ وزیراعظم نوازشریف استعفے کیلئے ڈالے جانے والے دباؤ کے سامنے ہار نہیں مانیں گے‘ شریف خاندان سپریم کورٹ میں کیس کا سامنا کرے گا اور عدالت کے فیصلے کو تسلیم کریگا۔‘ خیال رہے کہ پنجاب حکومت کا ماننا ہے کہ پاناما پیپرز کیس میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی جانب سے کسی سازش کے ’’ثبوت موجود نہیں۔‘‘ ترجمان پنجاب حکومت کے بقول پاناما پیپرز کیس میں فوج سمیت دیگر اداروں کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف سازش کے کوئی شواہد موجود نہیں‘ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو اسے سامنے آنا چاہئے‘ تاہم جے آئی ٹی سے جانچ پڑتال کی جاسکتی ہے۔جب یہ الزام عائد کیا گیا کہ عمران خان غیر ملکی ہدایت کاروں کے سکرپٹ پر عمل کررہے ہیں تو اس کی وجہ ان کا جمہوری نظام کی سرحد کو پار کرنا تھی۔ ملکی ترقی کیلئے سیاسی استحکام وقت کی ضرورت ہے اور جب عمران خان اور کمپنی دھرنوں کے ذریعے ترقی کے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ خیال آتا ہے کہ ایسا غیر ملکی ہدایت کاروں کے کہنے پر ہورہا ہے جو پاکستان کو آگے بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

پی ٹی آئی کے بقول چونکہ شریف خاندان خود سیاسی نظام کیخلاف ہونیوالی ہر سازش کا حصہ رہا ہے‘ اس لئے اُسے لگتا ہے کہ اسکے ساتھ بھی ایسا ہی ہورہا ہے اور اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔ موجودہ پاکستان میں فعال میڈیا‘ سول سوسائٹی اور آزاد عدلیہ کی موجودگی کے ہوتے ہوئے کوئی بھی جمہوری نظام کے خلاف سازش کی کوشش نہیں کرسکتا۔ پی ٹی آئی کو توقع ہے کہ سپریم کورٹ پاناما پیپرز کیس کا فیصلہ آئندہ ہفتے میں سنادیگی جے آئی ٹی کی رپورٹ مجرمانہ تحقیقات ہیں اس لئے شریف خاندان انہیں سپرئم کورٹ میں چیلنج نہیں کرسکتا۔ سپریم کورٹ اگر وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف کیس نیب عدالت کو بھجوادیتی ہے تو اِس فیصلے کو ضرور چیلنج کیا جاسکتا ہے۔‘‘وفاقی حکومت کے آئینی مشیر اور سیاسی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے سیاسی سازش کے ثبوت تلاش کرنے کی بجائے ’نواز لیگ‘ اپنے آپ کو یکجا رکھنے اور اس مشکل مرحلے سے بصورت اتحاد و اتفاق معاملہ کرنے پر تمام توجہ اور وسائل مرکوز کرے تو نہ صرف حال بلکہ مستقبل کے ممکنہ دور اقتدار کو بھی بچایا جا سکتا ہے۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: آصف محمود
ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)