بریکنگ نیوز
Home / کالم / قومی زبان اور حکومتیں

قومی زبان اور حکومتیں

پاکستا ن کو معرض وجود میں آئے ہوئے ستر برس بیت چکے ہیں ۔ ابھی تک ہم یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ ہماری قومی زبان کون سی ہے۔سپریم کورٹ تک میں فیصلہ ہو چکا کہ اردو کو حکومتی سطح پر دفتری زبان بنایا جائے اور یہ کہ سی ایس ایس کے امتحانات اردو میں لئے جائیں مگر اس پر عمل نہیں ہو سکا اور لگتا ہے کہ جب تک ایک مافیا ہمارے سر پر سوار ہے یہ کام ہونے کا نہیں۔ ہندوستان کے وزیر تعلیم نے پہلے دن سے فیصلہ کیا تھا کہ حکومتی اور تعلیمی زبان انگریزی ہو گی اور سب نے مان لیا تھا کہ حکومتی زبان انگریزی ہو گی ۔ جہاں تک ہندی کا تعلق ہے تو وہ ملکی زبان ہے مگر اس کا تعلیمی اداروں میں اس حد تک عمل دخل نہیں ہے کہ جتنا انگریزی کا ہے۔ ہندوستان نے اول دن ہی سے انگریزی کو تعلیمی زبان بنایا اور اس پر سختی سے عمل کیا اسلئے کہ ان کو معلوم تھا کہ علوم کی زبان انگریزی نے ہی بننا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سائنس او رٹیکنالوجی میں اتنی زیادہ ترقی کی ہے کہ ہم اس کا سوچ بھی نہیں سکتے۔قائد اعظم محمد علی جناح نے اردو کو قومی زبان اس لئے قرار دیا تھا کہ یہ واحد زبان ہے کہ جو ہمیں ایک رکھ سکتی تھی ۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم انگریزی کو تعلیمی زبان نہ رکھتے اور اگر اردوکو علمی زبان بنانا تھا تو اس میں دنیا کے تمام علوم کے ترجمے لانے چاہئے تھے مگر بد قسمتی سے لوگوں نے اردو زبان کو سیاسی طور پر اور اپنی روزی روٹی کا ذریعہ تو بنایا مگر اس کی جھولی میں دنیا کے علوم کو لانے میں بخل سے کام لیا جو سائنسی علوم اردو میں ترجمہ کئے بھی ان میں اردو کا کوئی عمل دخل تھا ہی نہیں۔ یہ مان لیا گیا کہ اردو میں ہر زبان کو قبول کرنیکی صلاحیت ہے اسلئے انگریزی کی ساری ٹرمینالوجی کو من و عن اپنایا گیا جس سے نہ توطالب علموں کو اردو حاصل ہو سکی اور نہ ہی انگریزی ۔

جن لوگوں کو ترجموں کے لئے چنا گیا وہ اسی طرح سفارشی تھے جس طرح یہ دارا لترجمہ ۔ اس دارالترجمہ میں سے جو شاہکار نکلے وہ نہ اردو تھی اور نہ انگریزی ۔ ان سے جو ٹیکسٹ بکس سامنے آئیں ان کا حال یہ تھا کہ طلباء نہ اردو کے رہے اور نہ انگریزی کے۔ اس کا فائد یہ ہوا کی اردو میڈیم سے کوئی بھی طالب علم اس قابل نہیں کہ وہ اردو یا انگریزی میں دو لفط تک لکھ سکے۔یہاں تک کہ ایف اے ‘ایف ایس سی کا طالب علم اپنا امتحانی فارم تک پُر نہیں کر سکتے۔ ادھر سیاسی لوگوں کی سیاست اس اردو کے سر پر زندہ ہے کہ وہ اس بات کو ایکسپلائٹ کرکے اپنی سیاست چمکاتے ہیں حالانکہ انکی اپنی اولادیں انگلینڈ اور امریکہ میں زیر تعلیم ہیں اور وہ ہمارے کل کے بادشاہ بننے کی ٹریننگ لے رہے ہیں۔ کل کو ہم ان کو سر پر اٹھا رہے ہوں گے اس لئے کہ ہم کو اسی کی تعلیم دی جا رہی ہے جو بھی سیاستدان یا حکومتیں اردو پر زور دے رہی ہیں ان کے بچوں کو دیکھیں تو ایک بھی ہمارے سکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کر رہا ان کے لئے الگ سکول ہیں جن میں ہمارے بچے پڑھنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ ہم اردو کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیئے گئے ہیں اور حکمران خاندان جو کبھی بائیس تھے اور اب ساٹھ ستر ہو گئے ہیں وہ ہمارے بچوں کو ہر دوسرے دن ایک نعرہ دے دیتے ہیں جس کو لیکر ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بچے ہڑتالیں کرتے ہیں اور اپناوقت ضائع کرتے ہیں ان ہڑتالوں کے پیچھے ہمارے یہی سیاست دان ہوتے ہیں۔

جو ہمارے بچوں ابھار کر تماشا کرتے ہیں کہ ہمارے بچے ہنگاموں میں اپنی زندگیاں تباہ کر لیں گے اور انکے بچے اپنی پڑھائیاں مکمل کر کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو جائیں گے اور ہمارے بچے انکی سیاست کا ایندھن بنتے رہیں گے اردو ایک ایسا ہتھیار ہے کہ جو کچھ جماعتوں نے اپنے ایجنڈے پر رکھا ہوا ہے اس لئے کہ یہی ہتھیار عوام کو بادشاہوں کے بچوں کا وفادار بنانے کیلئے استعمال ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گااب ہم اسی طرح حکمرانوں کے بچوں کے نعرے مارتے رہیں گے جس طرح ہم بلاول وغیرہ کے لئے مار رہے ہیں حد یہ ہے کہ ہمارے بہت ہی پڑھے لکھے لوگ بھی اس سازش میں شامل ہیں۔ اور وہ اس لئے کہ یہ لوگ بھی ان ہی اداروں کے تعلیم یافتہ ہیں جو حکمران بناتے ہیں یہ لوگ جو حکمرانوں کے بچوں کی تعریفیں کرتے ہیں وہ اسی لئے کہ عوام ان کو اپنا حاکم مان لیں اور اردو میڈیم صرف نعرے ہی مارتے رہ جائیں جو اردو میڈیم خوش قسمتی سے اس گروہ میں شامل ہو جاتا ہے دیکھا گیا ہے کہ وہ بھی اسی رنگ میں رنگا گیا ہے اور باقی اردو میڈیم کو یہی سبق دیتا نظر آتا ہے کہ تم لوگ صرف حکمرانوں کے نعرے مارنے کیلئے پیدا ہوئے ہو۔