بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / امریکی فوج کا کنٹر میں فضائی حملہ ٗ داعش امیر ہلاک

امریکی فوج کا کنٹر میں فضائی حملہ ٗ داعش امیر ہلاک


کابل /واشنگٹن ۔افغانستان میں تعینات امریکی فوج نے 11جولائی کو صوبہ کنٹر میں فضائی حملے میں داعش کے امیر ابوسید کی ہلاکت کی تصدیق کردی ۔امریکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں تعینات امریکی افواج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ابو سید، جو افغانستان میں صوبہ خوراسان کی داعش کے عراق اور شام کے لیے امیر تھا،11 جولائی کو صوبہ کنڑ میں گروپ کے صدر دفتر پر ہونے والے فضائی حملے میں ہلاک ہوایہ بات افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ، جنرل جان نکلسن نے ایک بیان میں کہی ہے۔جنرل نکلسن نے کہا ہے کہ یہ کارروائی افغانستان میں 2017 تک صوبہ خوراسان کی داعش کو شکست دینے کی مہم کا ایک حصہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ابو سید داعش کا تیسرا امیر ہے، جنھیں گذشتہ سال ہلاک کیا گیا، اور ہماری یہ کوششیں تب تک جاری رہیں گی جب تک ان کا صفایا نہیں ہو جاتا۔ان کے بقول افغانستان میں داعش (خوراسان) کو کوئی محفوظ ٹھکانہ میسر نہیں آئے گا۔اس سے قبل، بدھ 12 جولائی کو ننگرہار کے صوبائی سلامتی کے اہل کار کے حوالے سے آنے والی ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ مشرقی افغانستان میں مشتبہ امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں داعش کے چار اہم کمانڈر ہلاک ہوئے۔

یہ ڈرون حملہ منگل کی رات گئے کیا گیا۔اس میں مشرقی صوبہ کنڑ میں داعش کے شدت پسندوں کو ہدف بنایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ داعش کے 11 شدت پسند ہلاک ہوئے، جن میں چار کمانڈر بھی شامل ہیں۔پولیس کے صوبائی سربراہ، جمعہ گل ہمت نے وائس آف امریکہ کی افغان سروس کو بتایا کہ ڈرون نے گمبیر کے علاقے میں داعش کے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا۔ داعش کے چار کمانڈروں کے علاوہ، حملے میں داعش کے سات لڑاکے بھی ہلاک ہوئے۔ہلاک ہونے والے کمانڈروں میں محمد رحمن بھی شامل ہے۔

جو دہشت گرد گروپ کے مالی امور کے سربراہ تھے؛ اور نورا، جو صرف نام کے ایک ہی حصے سے جانا جاتا تھا، جن کا ذمہ صوبے میں نئی لڑاکا فورس بھرتی کرنا تھا۔پولیس سربراہ کے مطابق، کارروائی میں، رحمن کا ایک بھائی بھی ہلاک ہوا۔سنہ 2015 کے اوائل میں، مشرقی صوبہ ننگرہار کے جنوبی علاقوں میں داعش کی صوبہ خوراسان کی خودساختہ شاخ نمودار ہوئی، جو علاقہ افغانستان اور پاکستان کے سنگلاخ علاقے میں واقع ہے یہ دہشت گرد گروپ مشرقی صوبہ ننگرہار کے متعدد اضلاع میں سرگرم ہے۔