بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / ٹرمپ کیلئے دھچکا، جج نے سفری پابندیوں میں نرمی کردی

ٹرمپ کیلئے دھچکا، جج نے سفری پابندیوں میں نرمی کردی


واشنگٹن۔ امریکی ریاست ہوائی کے ایک جج نے کہا ہے کہ امریکا میں مقیم افرادکے دادا، دادی، نانا، نانی اور دیگر عزیز و اقارب کوصدر ٹرمپ کی سفری پابندیوں کے تحت ملک میں داخلے سے نہیں روکا جا سکتا۔ریاست ہوائی کے ضلعی جج ڈیرک واٹسن کی جانب دیا جانے والا یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کے امیگریشن کریک ڈاون کے مقابلے میں تازہ کارروائی ہے۔ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ فقط انتہائی قریبی رشتے دار ہی امریکا میں آسکیں گے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے فیصلہ کیا تھا کہ ان میں وہاں کے رہائشیوں کے دادا دادی یا نانا نانی، پوتے پوتیاں یا نواسے نواسیاں، بھائیوں یا بہنوں کی اولاد، شوہر اور بیوی کے بہن بھائی یا کزن وغیرہ شامل نہیں۔ تاہم جج نے قریبی رشتے داروں سے متعلق حکومتی وضاحت کو بہت محدود قرار دیا ہے۔

فیصلے میں جج ڈیرک واٹسن کا کہنا تھا کہ مثال کے طورپر عقل سلیم یہ کہتی ہے قریبی خاندان کے افراد میں دادا اور دادی بھی شامل ہیں۔ اس فیصلے کے نہ صرف ہوائی بلکہ پورے امریکا میں دوررس اثرات مرتب ہونگے۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے تمام ملکوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کا جو امریکا جانا چاہتے ہیں، تفصیلی ڈیٹا فراہم کریں تاکہ امریکی عہدیدار یہ طے کر سکیں کہ ان شہریوں سے دہشت گردی کا توکوئی خطرہ نہیں ہے۔

غیرملکی میڈیا نے ایک سفارتی خط کے حوالے سے بتایاکہ یہ خط ایک روز پہلے تمام امریکی سفارتخانوں کو بھیجا گیا تھا۔ اس خط میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 6مارچ کے ایگزیکٹو آرڈرکے تحت دنیا بھرکے لیے ویزوں کی جانچ پڑتال کے طریقہ کارکو اختصار سے بیان کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ تقریبا 3 ہفتے قبل امریکا کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمان ملکوں پر سفری پابندیوں کے قانون کو جزوی طور پر بحال کر دیا تھا اس حکم نامے میں 6 مسلمان ممالک پر 90 روز کی سفری پابندی اور پناہ گزینوں پر بھی120روزہ پابندی عائد کرنے کاکہا گیا تھا۔