بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / شہباز شریف کی نا اہلی کیلئے ریفرنس دائر

شہباز شریف کی نا اہلی کیلئے ریفرنس دائر


لاہور۔پاکستان تحریک انصاف نے وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی نا اہلی کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا جبکہ سینئر رہنما بابر اعوان نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کیخلاف ریفرنس کسی اخباری تراشے پرمشتمل نہیں ،جے آئی ٹی رپورٹ میں ان کے خلاف دوجگہ ڈیکلریشن آیاہے اور یہ ریفرنس شہباز شریف کو نا اہل کرنے کے لئے کافی ہے ،سارے کا سارے ٹبر چور نکلا ہے ،پنجاب کے وزیر اعلی گاڈ فادرنمبرII ہیں۔

پورا پاکستان پانامہ کا مدعی ہے ، آئند ہ پیر کے روز نکلنے والا سورج پاکستان میں شفافیت ،احتساب اور تبدیلی کا سورج بن کر طلوع ہوگا ،اگر حکمران واقعی شیر دل ہیں تو سازش کرنے والے کا نام بتائیں،بین الاقوامی قانون سخت ہیں کوئی ان کی کرپشن میں ان کا ساتھ نہیں دے گا ، قطر کا خط جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے لکھا،لندن پلان حکمران خاندان نے خود بنایا ہم نے نہیں بنایا ،کیا کیلبری فونٹ والوں کی معذرت بھی سازش کا حصہ ہے؟۔

بابر اعوان نے چیئرمین سیکرٹریٹ گارڈن ٹاؤن میں پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید ، سابق گورنر چوہدری محمد سرور اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کی ۔ بابر اعوان نے کہا کہ آج پنجاب کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،گارڈ فادر IIکی چوری ثابت ہو گئی ہے،وزیر اعلی پنجاب خود مستعفی ہو جائیں ورنہ عدالت ان کو نکالے گی۔ انہوں نے کہا کہ 126 دن کا دھرنا اور 126 دن کی سماعت جدوجہد کا حصہ ہے،جلد نئے پاکستان کا سورج طلوع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی نا اہلی کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ہے،16 مارچ 1999 ء کے فیصلے میں ڈکری جاری ہوچکی ہے،تب پیسے دے کر مک مکا کیا گیا جن میں شہباز شریف بھی شامل تھے،اس وقت 34 ملین امریکی ڈالر ادا کیے گئے،سب گاڈ فادر ایک اور دو کے درمیان ہوا،اس میں عمران خان اور بابر اعوان کہیں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو پیسے جمع کرائے گئے اس کا ذکر کہیں بھی نہیں کیا گیا، پانامہ ہیٹ والے صاحب نے سب سے بڑے بینک کے سربراہ سے ہاتھ ملایا اور کہا ہم نے 6 ارب دیدئیے ہیں ،بتایا جائے 6ارب روپے کہاں سے آئے ، آپ کی ظاہر کردہ آمدنی میں اس کا کہیں ذکر نہیں ۔

آپ کے بینک اکاؤنٹس سے نہیں نکلا ، ہاں اگر آپ کو کہیں سے 12ارب کا تحفہ آیا ہے تو دکھا دیں ۔انہوں نے ایک ارب 20کروڑ قرض لیا جو بڑھ کر 6ارب ہو گیا۔یہ لاہور کے جنگلے اور شریفوں کے سریے سے آیا اب ہر جگہ سے سریا نکلنے والا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تضاد پر وزیر اعلیٰ کی نااہلی ثابت ہوچکی ہے۔ہم نے اس سے پہلے پنجاب اسمبلی میں نااہلی کا ریفرنس دائر کیا تھا ،تب شوگر مل کیس زیر سماعت کا بہانہ بنایا گیا،اسپیکر صاحب کی مجبوری تھی کہ کیونکہ انہیں بھی ٹکٹ لینا تھی،تب ہم نے کہا کہ ان کے اسپیکر کچھ نہیں کرسکیں گے،لاہور ہائیکورٹ نے کہا تھاکہ نہ سنیں تو آپ ہمارے پاس آجائیں ۔ بابر اعوان نے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہمارے خلاف سازش ہو رہی ہے ، اگر شیر دل ہو تو سازش کرنے والوں کانام کیوں نہیں لیتے،پاکستان کے خلاف کوئی اسلامی ملک سازش نہیں کرسکتا،یو اے ای سے جو ثبوت آئے ہیں کیا وہ سازش ہیں؟۔

کزن سے زیادتی ہونے کا رونا رورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظفر حجازی کے تین ورکروں نے دباؤ کا بیان دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون سخت ہیں کوئی ان کی کرپشن میں ان کا ساتھ نہیں دے گا ۔ہیلی کاپٹر قطر سے لایا گیا، ایل این جی کا مہنگا ترین ٹھیکہ کیا گیا ۔قطر کا خط جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے لکھا، لندن پلان ہم نے نہیں بنایا ،کیلبری فونٹ والوں کی معذرت بھی سازش کا حصہ ہے؟۔انہوں نے کہا ہے کہ آپ ہمیں بتا دیتے جو چیز آپ کو 2006ء میں چاہیے تھی ہم آپ کو 2005ء میں جاری کر دیتے لیکن یہ جنوری 2007ء میں آیا ۔ ظفرعلی شاہ کیس سب کے سامنے ہے جس میں عدالتی کور دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے سات این آر او کیے اور وہ گن کر بتائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک چور پاکستان کے سب سے بڑے بینک کا سربراہ ہے جبکہ ایک وزارت خزانہ کا سربراہ ہے ،دنیا کا پہلا وزیر خزانہ جسے پتہ نہیں چلا کے روپے کی قدر کیسے کم ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ کبھی ایک بیٹا 34کروڑ تحفہ بھیجتا ہے کبھی کوئی کروڑوں کاتحفہ دیتا ہے ۔حکمران خاندان نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ معاف کروایا ،چھ بڑے اداروں کو دھمکیاں دی گئیں۔ بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان کے خلاف نااہلی کا کوئی کیس نہیں اورنہ وہ جارہے ہیں،ایک فلیٹ بنایا وہ بھی بیچ کر پیسہ پاکستان لائے ۔ شہباز شریف نے اداروں پر بمباری کی اس لیے وہ نااہل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پوری امید ہے کہ آزاد عدلیہ صحیح فیصلہ دے گی۔

شہباز شریف کے خلاف ترجیحات پر کیس فائل کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی پر سوالات اٹھائے جارہے لیکن اب وقت ختم ہوچکا ہے ،دنوں سے زیادہ وقت نہیں لگے گا،ٹرک کے پیچھے نہیں لگائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت میں نہیں لیکن جب ہم آئیں گے تو پہلے سو دن ایسے ہی چور پکڑیں گے،خیبر پختوانخواہ میں اپنا وزیر پکڑنا اس کی روشن مثال ہے۔چوہدری سرور نے کہا ہے کہ ہم صرف شر یف خاندان ہی نہیں ہر کرپٹ شخص کا احتساب چاہتے ہیں ‘ظفر حجازی کوانکے عہدے سے نہ ہٹانا پوری قوم کیساتھ مذاق ہے انکو فوری عہدے سے ہٹاکر گر فتار کیاجائے۔سعودی عرب میں کر پشن کی وجہ سے جیل کی سزا کاٹنے والے کو حکمرانوں نے نیشنل بنک کا سربراہ بنادیا ہے،حکمران کر پشن کر نیوالوں کو روکنے کی بجائے انکو عہدوں سے نوازرہے ہیں۔