بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سوات میں ٹریفک پولیس وارڈن سسٹم اور ٹورسٹ پولسینگ کا افتتاح

سوات میں ٹریفک پولیس وارڈن سسٹم اور ٹورسٹ پولسینگ کا افتتاح

پشاور ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ کامیابی کا حصول ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن اپنی کامیابی میں تسلسل اس سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے ۔ صوبے میں قیام امن کے حصول میں پولیس ، آرمڈ فورسسز اور عوام نے بے تحاشا قربانیاں دیں ۔اب ہمارا ہدف قیام امن کے تسلسل کو بر قرار رکھنا ہے اور اس میں سستی اور کاہلی کیلئے کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے خبر دار کیا کہ اگر ادارے ذمہ داری کے ساتھ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کریں لوگوں کو انصاف نہ ملے ، اُن کے حقوق محفوظ نہ ہوں، اُنہیں تکالیف اور مصائب کا سامنا کرنا پڑے تو وہ حکومتوں سے مایوس ہو کر غلط راستے اختیار کرتے ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ پولیس کو عوام کا اعتماد تب حاصل ہوا جب اُن کی حکومت نے اُنہیں بااختیار بنایا ۔پولیس سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا اور پولیس نے با اختیار ہو کر عوام کی خواہشات کے مطابق اُن کے مصائب اور تکالیف کم کرنے کیلئے اقدامات کئے۔ ہم پولیس کو ایک بہترین فورس کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جو سیاسی اثر و رسوخ سے آزا دہواور اس کی کارکردگی پر کوئی انگلی نہ اُٹھا سکے ۔وہ آج ایک روزہ دورہ سوات کے دوران پولیس ٹریننگ سکول مینگورہ کے دوران پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کررہے تھے۔

وزیراعلیٰ نے ٹریفک پولیس وارڈن سسٹم اور سوات میں ٹورسٹ پولسینگ کا افتتاح بھی کیا۔کامیاب ریکروٹس کو نمایاں کارکردگی پر ٹرافیاں، سر ٹیفکیٹس دیئے ۔ انہوں نے مارچ پاس کا معائنہ کیا۔ بعدازاں وزیراعلیٰ نے مینگورہ میں500 بستروں پر مشتمل سیدو ہسپتال کا درجہ بڑھانے ، سید و میڈیکل کالج میں اکیڈمک بلاک ، ہاسٹل ، لیکچر تھیٹرز، لیبارٹریز وغیرہ کے تعمیرا تی کام کا افتتاح کیا۔ منصوبے کی پی سی ون کی لاگت 299.98 ملین روپے ہے عمارت کی لاگت 275.72 ملین روپے ، ترقیاتی / بیرونی لاگت 24.26 ملین روپے اور کنٹریکٹ لاگت 288.695 ملین روپے ہے ۔ منصوبہ 28 ماہ میں مکمل ہو گا۔اس موقع پر صوبائی وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، ضلعی ناظم ،ضلعی حکومت کے ممبران اور انسپکٹر جنرل آف پولیس، کمشنر و ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر افراد بھی موجود تھے ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ پولیس فورس نے ماضی کی روایتی سوچ سے نکل کر مسائل کے حل کیلئے جدید سوچ کا سہارا لیکر اُن وجوہات پر سوچ بیچار اور کام کیا جن سے معاشرے میں برائیاں جنم لیتی ہیں اور ان جرائم کا پولیس فورس پیشہ وارانہ انداز میں تدارک کیا۔پولیس کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے اہداف کا از سر نو تعین کیا اور سخت اہداف اپنے سامنے رکھے کیونکہ پی ٹی آئی کی حکومت نے مشن سمجھ کر ان اداروں کو ان کے حقیقی کام پر لگایا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ماضی میں پولیس کی وجہ سے جرائم پھیلتے تھے جبکہ ہم نے پولیس کوجرائم سے لڑنے کیلئے تیار کیا ۔امن ہمارا حتمی مقصد ہے ۔ ہماری حکومت نے پولیس کو فورس بنانے کیلئے اپنی اہلیت دکھائی۔

اب یہ بااثر اور سیاستدانوں کی تابع نہیں بلکہ عوام کی تابع ہے اور یہ تسلسل جاری رہے گا۔نئے ریکروٹس کو تربیت مکمل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے پولیس فورس کو اپنی تمام صلاحیتیں ایمانداری اور بہادری سے اداکر نے اور معاشرے سے جرائم کی بیخ کنی کیلئے عزم وحوصلے کی علامت بننے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہاکہ جب انہیں اقتدار ملا تو صوبہ دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا۔ خود کش بمبار ، بھتہ خور ،دندانتے پھر رہے تھے ۔

اغواء برائے تاوان عام تھی ۔ اُن کی حکومت نے عزم دکھائی ، بنیادی نوعیت کے فیصلے کئے اور پولیس کو روایتی اور جدید دور سے ہم آہنگ اقدامات اور فیصلہ سازی کے قابل بنا یا ،پولیس کوبا اختیار بنایا اور اسے قانونی شکل دی ۔پولیس کو سیاسی اور بااثر لوگوں سے آزاد کرانا ضروری ہو گیا تھاکیونکہ سیاست زدہ پولیس معاشرے کے بااثر لوگوں اور حکمرانوں کی تابع تھی اور اسی وجہ سے معاشرتی برائیاں زیادہ مہیب شکل میں موجود تھیں۔ ہم نے بہتری کا آغاز کیا اور پولیس نے ذمہ داری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی شروع کیں ۔صوبے کو دہشت گردی سے پاک کرنے میں آرمڈ فورسز ، پولیس اور عوام نے بے تحاشہ قربانیاں دیں خصوصاًسوات کے لوگوں کی قربانیاں سب سے زیادہ ہیں ۔انہوں نے سوات کے عوام کی دلیری پر اُنہیں خراج تحسین پیش کیا جس سے امن قائم ہوا اور پرامن سوات ایک بار پھر پرکشش علاقہ بن چکا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سوات میں پولیس وارڈن سسٹم ، ٹریفک پولیسنگ اور ٹورسٹ پولیسنگ بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی ۔

انہوں نے پولیس کو یاد دلایا کہ پولیس، ہسپتال، کچہری وغیرہ سے عوام کا روزانہ واسطہ رہتا ہے اور اگر عوام کو ریلیف نہ ملے تو یہ نہ صرف حکومت بلکہ اداروں کیلئے بھی بدنامی کا باعث ہوتی ہے ۔انہوں نے یقین دلایا کہ سیاست سے پاک پولیس زیادہ ذمہ داری اور پیشہ وارانہ انداز میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے کام کرے گی ۔انہوں نے کہاکہ پولیس آزاد اور خود مختار ہے جسے قانونی شکل دی گئی ہے تاہم بااختیار پولیس زیادہ ذمہ داراور پروفیشنل ہونی چاہیئے اس میں یقیناًکمزوری ہو گی اور کہیں کہیں کوتاہی بھی نظر آئے گی لیکن بہتری کا سفر جاری رہتا ہے۔ہمیں گزشتہ چار سال میں پولیس نے اچھے نتائج دیئے۔ہم نے نہ سیاسی طور پر اور نہ ذاتی فائدے کیلئے پولیس کو استعمال کرنے دیا اگر ہم مداخلت نہ چھوڑتے تو پولیس کی طرف سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کبھی سامنے نہ آتا۔

انہوں نے کہاکہ پولیس کی کارکردگی کے پیچھے کئی ایک محرکات ہیں جس میں پولیس کو ایک ذمہ دار پروفیشنل فورس بنانا ، سیاسی مقاصد کیلئے پولیس کے استعمال کی حوصلہ شکنی ، مختلف سطح پر باز پرس اور عوام کو ڈرانے کی بجائے اُنہیں ریلیف دینے کیلئے جوابدہ بنانا ہے۔انہوں نے کہاکہ جب عوام کو ریلیف نہیں ملتا یا غریب غریبوں کے مصائب کو سمجھا نہیں جاتا اور ان کا حل نہیں نکلتا تو ادارے کی کارکردگی تنزلی کا شکار ہوتی ہے۔

ماضی میں لوگوں نے اپنے دُنیاوی اور سیاسی لالچ کیلئے اداروں کو استعمال کیا ہے اور آج ہمارے سامنے جتنی بھی برائیاں ہیں اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے ۔وزیراعلیٰ نے پولیس فورس کی ضروریات کا جواب دیتے ہوئے آئی جی پی کو ایک مکمل اور جامع پلان تیا ر کرنے کی ہدایت کی اور یقین دلایا کہ اُن کی حکومت اُن کو کبھی مایوس نہیں کرے گی ۔قبل ازیں آئی جی پی نے پولیس فورس کے کارناموں اور پولیس فورس میں اصلاحات کے نتیجے میں ہونے والے پروفیشنلزم پر بات کی ۔