بریکنگ نیوز
Home / کالم / ناصر علی سید

ناصر علی سید


جب خیبرپختونخوا پولیس نے ڈی آرسی کے قیام کا فیصلہ کیا اور گل بہار پولیس سٹیشن میں تجرباتی بنیادوں پر اسکا آغاز کیا تو پہلے مرحلے میں شہر کے چند زعما کا انتخاب کیا جو اس مصالحتی جرگے کے مشران کے فرائض انجام دیں گے،یہ کام خالصتاََ اللہ کی خوشنودی اور مخلوق کی بھلائی کیلئے بلا کسی معاوضہ کے انجام دیا جانا تھا سو انتخاب کا مرحلہ خاصا کڑا تھا اس وقت کے پولیس سربراہ ناصر خان درانی تھے اور یہ ساری مشق انہوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے تعاون اور اجازت سے کی تھی کیونکہ ایسا ہی ایک کامیاب تجربہ وہ پنجاب میں کر چکے تھے وہ ایک بہت ہی مخلص ‘سمجھدار اور دبنگ پولیس سربراہ تھے اور ایک ایسے وقت میں انہوں نے یہ منصب قبول کیا تھا جب یہاں کے موسم ہر لحاظ سے بہت گدلے تھے اسلئے انہوں نے پہلی شرط ہی یہی رکھی تھی کہ پولیس فورس سیاسی دباؤ سے آزاد ہو گی پرویز خٹک نے نہ صرف یہ شرط مانی بلکہ اس پر پوری قوت اور توانائی سے عمل بھی کیا اور تقریبات میں بہت ہی تکلف سے شرکت کرنے والے بلکہ ستر فی صد تقریبات میں خود جانے کی بجائے آخری لمحوں میں اپنے کسی وزیر مشیر کو بھجوا دینے والے پرویز خٹک خیبر پختونخوا پولیس کی چھوٹی سی چھوٹی تقاریب میں بھی باقاعدہ شرکت کرتے رہے ہیں ان کی خواہش تھی کہ خیبر پختونخوا پولیس فورس کی کارکردگی کا مقابلہ پاکستان کے باقی صوبوں کی پولیس فورس کی بجائے عالمی پولیس سے ہو اور ناصر خان درانی اسی پر کام کر رہے تھے۔مگر پولیس فورس کی نظر آنے اور نہ آنیوالی خرابیاں اتنی پختہ ہو چکی تھیں کہ انہیں کھرچ کھرچ کر صاف کرنا پڑ رہا تھا،ماضی میں بھی بہت سے دبنگ اور لیجنڈری افسران نے یہ کوشش کی تھی مگر ان کی کامیابی کا تناسب ناصر خان درانی سے اسلئے کم تھا کہ انہیں صوبائی حکومت کا بھرپور ساتھ میسر نہ تھا۔ مجھے اس صورتحال کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے ایک تو پولیس کی جتنی بڑی تقریبات ہوتیں تو کم و بیش سو فیصد تقریبات کی میزبانی میرے حصے میں آتی ، بلکہ ایک سے زیادہ آئی جی پی صاحبان کی تقاریر لکھنے کی ذمہ داری بھی میری ہوتی اور میں اس وقت بہت انجوائے کرتا جب کمپئیرنگ کے دوران پولیس سربراہان کی تقاریر کی تعریف کر رہا ہوتا(جو در اصل میری ہی لکھی ہوتیں) ۔ایسی بہت سی یادیں میری یاداشت کی گٹھڑی میں بندھی ہیں۔

بات مصالحتی جرگہ اور پولیس فورس میں اصلاحات کی ہو رہی تھی ،مصالحتی جرگہ کیلئے پشاور کے جن 29 احباب کو چنا گیا ان کے انتخاب میں دوستِ عزیز سماجی تنظیم کاروان کے چیئرمین خالد ایوب نے شب وروز کام کیا تھا۔ پہلے اور تجرباتی بنیادوں پر کام کرنیوالے منصفیں میں ،میں بھی شامل تھا، ہم نے باقاعدہ حلف اٹھایا تھا اور یہ حلف ہم سے کسی وزیر سفیر کی بجائے ایک عالم دین نے لیا تھامیں نے کہا نا کہ ناصر خان درانی کی اپنی ایک سوچ اور اپنا ایک وژن تھا۔ اس دن ناصر خان درانی نے بریفنگ کے بعد جو غیر رسمی گفتگو کی تھی اس میں سے ایک بات میں کبھی نہیں بھولتا انہوں نے کہا کہ جب پولیس سٹیشن جائیں گے تو آپکو بہت سی ایسی چیزیں نظر آئیں گی جو درست نہیں ہو نگی مگر پلیز انہیں اگنور کر دینا، میں ان پر کام کر رہا ہوں مگر ایک بار ہمارا یہ تجربہ کامیاب ہو جائے پھر رفتہ رفتہ ان کو بھی دیکھ لیں گے۔اب میں سوچتا ہوں کہ وہ ٹھیک کہہ رہے تھے ایک زمانے کے بگڑے ہوئے اتنی آسانی سے نہیں سدھر سکتے۔ جانے انجانے میں ہاتھوں سے لگی ہوئیں گرہیں اتنی لتھڑی ہوئی تھیں کہ اب انہیں دانتوں سے بھی کھولنا ممکن نہ رہا تھا ۔ مگر ا انہوں نے کچھ ہی دنوں میں اپنی حکمت عملی اور پیشہ ورانہ مہارت سے بڑی کامیابیاں حاصل کیں لیکن جو بات ابھی تک اس فورس کا نصیبہ نہیں بن سکی وہ عام آدمی اور پولیس کی دوستی اور باہمی احترام ہے، نئے پڑھے لکھے آفیسرز تو شاید قدرے بہتر رویے کا اظہار کر لیتے ہیں مگر گلی کوچوں اور بازاروں میں جو پولیس تعینات ہوتی ہے ان کے باقی مسائل اور تربیت تو ایک طرف ان کی وردی بھی ٹھیک نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کی گفتگو میں وہ رکھ رکھاؤ ہو تا ہے جس کا تقاضا ان کی یونیفارم کرتی ہے اور جس سے بات کرو وہ یہی کہتا ہے یہ سسٹم آسانی سے ٹھیک ہونے والا نہیں اور اس بات کا اتنا اثر لے لیا گیا کہ اصلاح احوال کو پوری توجہ ہی نہ دی گئی اور عام آدمی پولیس سے دور ہوتا گیا پھر عالمی سطح پر حالات نے کروٹ لی اور پرائی جنگ ہم اپنے آنگن لے آئے تو پھر عام آدمی کے ساتھ فورسز بھی نشانے پر آ گئیں۔

ایسے میں باقی ملک کی نسبت خیبر پختونخوا کی پولیس فورس نے بیش بہا قربانیاں دیں اور ماضی کے برعکس یہ قربانی پولیس افسران نے بھی دی اور کیسے کیسے جوان رعنا جام شہادت نوش کر گئے ان میں سے سب کی شہادت نے شجاعت کی ایک الگ داستان رقم کی یوں عام آدمی کے دل میں پولیس فورس کیلئے نرم گوشہ پیدا ہوا ۔ پھر خیبر پختونخوا پولیس فورس نے اگست کے پہلے ہفتے میں ایک پولیس ویک منانے کا فیصلہ کیا جسکی بڑی تقریب چار اگست کو بڑے پیمانے پر منائی جاتی ہے، مجھے یاد ہے کہ جب یہ فیصلہ ہوا تھا تو ایک دن مجھے اس وقت کے ایڈیشنل آئی جی میاں محمد آصف نے فون کیاکہ مل بیٹھ کر اپنی نوعیت کی اس پہلی تقریب کے خد وخال ترتیب دیتے ہیں میں نے کہا میں کسی وقت حاضر ہو جاؤں گا، کہنے لگے ضرور آئیے گا مگر اس وقت تو اپنے گھر کا ایڈریس بتائیے۔میں نے بتایا تو کہنے لگے گویا ہم ٹھیک جگہ پر ہیں، باہر آئیے نا، میں باہر آیا تو میاں آصف اور دوستِ مہرباں فہیم صدیقی( ایڈیشنل اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا) گلی میں کھڑے تھے(میرا ان سے باقاعدہ تعارف میرے دوست افسر تعلقات عامہ ریاض احمد نے کرایا تھا، ریاض احمد ہی کے کہنے پر میں نے ان کے امریکہ کے سفرنامہ کا پیش لفظ بھی لکھا تھا) انہیں گھر کے دروازے پر دیکھ کر مجھے بے ساختہ سابقہ آئی جی پی سعید خان یاد آ گئے جو خود ڈرائیو کرکے میری سرکاری رہاش گاہ گلشن رحمان آئے تھے۔

خیر پھر ہم نے یوم شہدائے پولیس کاپروگرام ڈسکس کیا جس کی خود انہوں نے شاندار کمپئیرنگ کی میں نے اردو نظم پڑھی دوسرے برس بھی یہ تقریب ذرا اور انداز سے ترتیب دی گئی اور اب پھر چار اگست کی آمد آمد ہے پولیس ویک اس بار بھی اسے شاندار طریقے سے منانے کی تیاریاں ہیں اس بار بھی انہیں قلم قبیلہ کے فعال دوست ڈاکٹر فصیح الدین کا ساتھ حاصل ہے جن کی خواہش ہے کہ یہ تقریب نہ صرف شہدائے پولیس کے شایان شان ہو بلکہ گزشتہ تقریبات سے زیادہ شاندار بھی ہو۔شاید اسی لئے گزشتہ کل پی آر او ٹو آئی جی پی ریاض احمد کی دعوت پر جب میں اور مشتاق شباب پہنچے تو سعداللہ جان برق، حماد حسن،حسام حر،امجد علی خادم،آصف نثار غیاثی،ریاض احمد خان(نوائے وقت) خالد سہیل ملک اور ڈاکٹر فصیح الدین سمیت بہت سے دوست مو جود تھے جبکہ ایڈیشنل آئی جی پی ہیڈکوارٹرز اشرف نور چیئر کر رہے تھے احباب نے اچھی تجاویز دیں دیکھئے ان کی روشنی میں اب کے یہ تقریب کیسے ترتیب پاتی ہے۔ لیکن بنیادی بات یہی ہے کہ اب عام آدمی پولیس کے قدرے قریب ہو گیا ہے۔ گویا پولیس کے شہدا کی قربانیوں کو اس خطے کے باسی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جیسے محلے میں کسی کی برسی کی تقریب ہو مگر جب پولیس مین اور عام آدمی کی دوستی اور پکی ہو جائے گی تو یہ تقریب اپنے گھر ہر شخص کے آنگن کی تقریب بن جائے گی اور سب مل کر ایک ہی بات کہیں گے۔
جو چاہتے ہو امر دل کی چاہتیں رکھنا
وطن کے نام ہی ساری محبتیں رکھنا