بریکنگ نیوز
Home / کالم / انصاف ہونا چاہئے

انصاف ہونا چاہئے


ہماری عدالت عظمیٰ کے پہلے چیف جسٹس کو کسی سرکاری دعوت میں مدعو کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر شمولیت سے انکار کیا تھا کہ اگر عدالت عظمیٰ کا چیف جسٹس کسی سرکاری دعوت میں شریک ہو گا تو غالباً اس کو حکومت کے خلاف کسی مقدمے میں انصاف کا دامن چھوڑنا نہ پڑے۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کا منصب اتنا اہم ہوتا ہے کہ اسے اپنی زندگی سے بہت سی تقریبات کو نکالنا پڑتا ہے۔اس کی دوستیاں بھی محدود ہو کے رہ جاتی ہیں اور اس کی رشتہ داریاں بھی ایک حد میں آ جاتی ہیں۔ عدالت میں جج کی زبان نہیں بولتی بلکہ اسکے فیصلے بولا کرتے ہیں جب عدالت میں جج بولنا شروع کر دیں تو ان کے فیصلو ں میں انصاف کا وہ معیار نہیں رہ سکتا کہ جو اسکے منصب کا لازمی جز ہوتا ہے۔یہ بھی نہیں ہوتا کہ عدالت میں جو کچھ وکلاء بحث کریں اس پر عدالت کے باہر تبصرے ہوں ایک مباحثے میں ایک بہت بڑے وکیل نے عدالت پرپھبتیاں بھی کسیں اور اس پر عدالت کو نوٹس بھی لینا پڑا اور مذکورہ وکیل صاحب کو معافی مانگنی پڑی جب کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات ہی غلط ہے کہ کوئی بھی شخص عدالت کے باہر آ کر عدالت کی کاروائی پر بات کر سکے۔مگر یہ ہو اس لئے رہا ہے کہ جج صاحبان اپنے فیصلوں کی بجائے اپنی زبان سے بولنے لگے ہیں۔جج صاحبان کو صرف وکلاء کو سنناچاہئے اور جو نکتہ واضح نہ ہو پائے اس پر وکیل سے وضاحت طلب کر لینی چاہئے۔اور بس۔ وکیل نے جو کہا ہے اس پر جج صاحبان کو اپنا فیصلہ کرناہوتا ہے اور جس طرح آج کل جج حضرات ریمارکس دے رہے ہیں۔

اس پر وکلاء حضرات اور فریقین کو عدالت کے باہر عدالت لگانے کا موقع ملتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس بات کی کسی بھی طرح اجازت نہیں ہونی چاہئے۔اس ہائی پروفائل مقدمے میں جو جے آئی ٹی بنائی گئی ہے اس پر شروع ہی میں شیخ رشید نے پھبتی کسی اور اس کے بعد ہر طرف سے اعتراض آنے شروع ہوگئے اگر یہ کام پہلے دن ہی سے اس طرح ہو جاتا کہ اس کے خلاف بولنے والے کو پہلے دن ہی توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑتا تو یہ جے آئی ٹی پر اعتراضات کا خاتمہ ہو جاتا اور جے آئی ٹی اپنا کام بغیر کسی الٹے ریمارکس کے کرتی جاتی اور آج اسکی کاروائی پر کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔کہنے کو تو اس جے آئی ٹی کو سپریم کورٹ کا ہی حصہ کہا جاتا رہا مگر اس پر اعتراضات ایسے کئے جاتے رہے کہ جیسے یہ عام آدمیوں کا ایک گروپ ہو جو اپنی مرضی سے لوگوں کو پوچھ گچھ کر رہی ہے اور ہر ایک کو تعصب کا نشانہ بنا رہی ہے۔ ایک بات اور کہ اس جے آئی ٹی نے جس طرح کام کیا ہے اور جس طرح اس کی کارکردگی پر باہر آ کر تبصرے ہوتے رہے ہیں تو اس میں ایک بات واضح ہو رہی ہے کہ جے آئی ٹی کے سامنے ایک خاص نقطہ تھا کہ جس پر ہر ملزم یا گواہ کو پرکھا جاتا رہا یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن اس کی ساری کاروائی کو تعصب پرمبنی کہہ رہی ہے۔ اسی طرح بہت سے تبصرہ نگار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ جے آئی ٹی کی کاروائی میں بہت سا خلا ہے۔ اب یہ تو سپریم کورٹ تک ہے کہ وہ اس رپورٹ کومن و عن قبول کرتی ہے یا اس پر لوگوں کے شکوک کا ازالہ کرنے کے لئے اس پر بحث مباحثہ کرتی ہے۔ہاں ایک بات ضرور ہو کہ کسی کے ساتھ بھی زیادتی نہ ہو۔