بریکنگ نیوز
Home / کالم / فارسی کا احیاء

فارسی کا احیاء

اردو زبان میں لکھے ہوئے لٹریچر کا صحیح مزہ صرف وہ ہی شخص لے سکتا ہے کہ جسکی فارسی زبان پر بھی گرفت ہو ماضی بعید میں فارسی کا مضمون ہمارے نصاب کا باقاعدہ حصہ ہوا کرتا تھا بلا شبہ اس زبان میں علم وحکمت کا ایک خزانہ ہے کوئی سعدی شیرازی مولانا روم ‘انوری اور ان کے پائے کے دیگر درجنوں فارسی کے شعراء کے کلام کا بھلا کیسے لطف اٹھا سکتا ہے کہ اگر وہ فارسی زبان کی ابجد سے واقف نہ ہوآپ غالب اور اقبال کی شاعری کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتے جب تک کہ آپ کو فارسی زبان پر عبور حاصل نہ ہمارے نزدیک فارسی زبان کو جس کسی نے بھی ہمارے تعلیمی نصاب سے دیس نکالا دیا وہ نہ صرف یہ کہ فارسی زبان کا دشمن تھا اس نے اردو زبان سے بھی دشمنی کا مظاہرہ لیا ‘ بہرحال اب دل کو رونے یا جگر کو پیٹنے سے کیا فائدہ ہمیں اس ملک میں فارسی زبان کے احیاء کی کوشش کرنی چاہئے اور اس ضمن میں جو کاوش بھی کی جاتی ہے اسے سراہا جائے کسی بزرگ نے کیا خواب کہا ہے کہ ایک اونس لکھنے کیلئے ایک ٹن پڑھنا پڑھتا ہے کتاب لکھنا اور وہ بھی کسی زبان کی گرامر پرکوئی آسان کام نہیں پچھلے دنوں سید غیور حسین کی کتاب ’’ قند پارسی‘‘ ہمارے زیر مطالعہ رہی‘مصنف خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران پشاور سے منسلک ہیں یہ کتاب 128 صفحات پر مشتمل ہے جس میں غیور صاحب نے قواعد زبان فارسی ‘اردو فارسی مشترکہ الفاظ اور فارسی اردو مشترکہ الفاظ مختلف معانی کیساتھ اور سادہ فارسی مصادر پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے غیور صاحب کی بلاشبہ یہ بہت بڑی کاوش ہے کہ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے یہ کتاب فارسی زبان کے لٹریچر میں ایک گرانقدر اضافہ ہے ہر لکھاری کی یہ کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے قارئین کی خواہش یا فرمائش کو مد نظر رکھتے ہوئے وقت کیساتھ اپنے کتاب کو مزید کار آمد بنانے کیلئے اس میں ضروری اضافے کرتا رہے۔

کیا ہی اچھاہو اگر غیور صاحب قندپارسی کے آئندہ ایڈیشن میں فارسی ضرب الامثال کے باب میں مزید اضافہ کریں اور اسی طرح وہ فارسی زبان سے متعلق درج ذیل موضوعات پر کچھ لکھیں جیسا کہ مروجہ اصناف سخن ‘ متروکہ اصناف‘ حرکات و سکنات‘ اوقافی علامات‘ درست املا‘ تلفظات‘ تذکیر وتانیث واحد جمع منافات ‘ سابقے لاحقے‘ غلط العام اور نافذہ اصطلاحات یہ کیسے ممکن ہے کہ بات ہو رہی ہو فارسی زبان کی اور غالب کا تذکرہ نہ ہو مرزا رحیم بیگ کو غالب اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں۔’’ کیا تو نے سنا جوعرفی و فیضی میں گفتگو ہو ئی‘ لغات فارسی اور ترکیب الفاظ میں کلام تھا ، عرفی نے کہا کہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اور نطق آشنا ہو گیا ہوں اپنے گھر کی بڑھیوں سے لغات فارسی اور ترکیبیں سنتا رہا ہوں فیضی بولا کہ جو کچھ تم نے اپنے گھر کی بڑھیوں سے سیکھا ہے وہ ہم نے خاقانی و انوری سے اخذ کیا ہے زبان دانی فارسی میری ازلی دستگاہ اور یہ عطیہ خاص منجانب اللہ ہے فارسی زبان کا ملکہ مجھ کو خدا نے دیا ہے مشق کا کمال میں نے استاد سے حاصل کیا ہے ۔ایک اور جگہ پر وہ مولوی عبدالغفور خاں نساخ کو ایک خط میں لکھتے ہیں۔

’’خاکسار نے ابتدائے سن تمیز میں اردو زبان میں سخن سرائی کی ہے پھر اوسط عمر میں بادشاہ دہلی کا نوکر ہو کر چند روز اسی روش پر خامہ فرسائی کی ہے نظم و نثر فارسی کا عاشق اورمائل ہوں ہندوستان میں رہتا ہوں مگر تیغ اصفہانی کا گھائل ہوں ایک کم ستر برس دنیا میں رہا اور اب کہاں تک رہوں گا ایک اردو کا دیوان ہزار بارہ سو بیت کا‘ ایک فارسی کا دیوان دس ہزار کئی سو بیت کا تین رسالہ نثر کے یہ پانچ نسخے مرتب ہو گئے اب اور کیا کہوں گا مدح کا صلہ نہ ملا غزل کی داد نہ پائی ہرزہ گوئی میں ساری عمر گنوائی‘‘
ایک اور جگہ مرزا رحیم بیگ کو انہوں نے یہ بھی لکھا
’’ ایک لطیفہ لکھتا ہوں اگر خفا نہ ہو جاؤگے تو خط اٹھاؤگے جتنی فرینگیں اور جتنے فرہنگ طراز ہیں یہ سب کتابیں مانند پیاز ہیں لباس در لباس پیاز کے چھلکے جس قدر اتارتے جاؤگے چھلکوں کا ڈھیر لگ جائے گا مغز نہ پاؤگے فرہنگ نویسوں کا قیاس معنی کمتر صحیح اور بیشتر غلط ہے خصوصاً دکنی تولغو ہے پوچ ہے پاگل ہے دیوانہ ہے وہ تو یہ بھی نہیں جانتا کہ ہائے اصلی کیا ہے اور ہائے زائدہ کیا ہے ۔