بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / خصوصی افراد!

خصوصی افراد!

خیبرپختونخوا میں بصارت سے محروم افراد کیلئے سرکاری و نجی سرپرستی میں ’درس و تدریس کے مواقع‘ کم ہونے کے علاوہ ایسی (برائل Braille) کتب بھی خاطرخواہ تعداد میں دستیاب نہیں جنہیں چھو کر مطالعہ کیا جاتا ہے۔ تیزرفتار ارتقاء پذیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی انتہاء یہ ہے کہ دستی سائز کے ’ایمباسنگ برائل پرنٹرز (Embossing Braille Printer)‘ ایجاد کر لئے گئے ہیں‘ جو کم قیمت بھی ہیں اور ان کا استعمال بھی سہل ہے لیکن خیبرپختونخوا کی سطح پر نہ تو نابینا افراد کی درس و تدریس کیلئے اس قسم کے جدید پرنٹرز اور نہ ہی ان میں استعمال ہونیوالا سافٹ وئر ہی بلاقیمت دستیاب ہے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ملک کے شمال مغربی سرحدی علاقوں سے تعلق رکھنے والے نابینا افراد جب بیرون ملک یا اپنے ہی ملک کے دارالحکومت اسلام آباد جاتے ہیں تو انہیں برائل کتب سے استفادہ کرنے کی سمجھ نہیں آتی اور انہیں پانچویں کلاس سے آگے علم حاصل کرنے میں دوسرے صوبوں کے طالبعلموں سے زیادہ محنت کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ نابینا افراد کے لئے ٹیوشن یا کوچنگ مراکز نہیں جہاں وہ عام بچوں کی طرح رات گئے تک اپنے نصابی علم اور معلومات میں اضافہ کرسکیں۔ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے نابینا افراد کو ان کے حال پر چھوڑنے کی وجہ سے صورتحال ہر گزرتے دن زیادہ بگڑ رہی ہے۔ ہر سال پندرہ اکتوبرکوسفید چھڑی کا عالمی دن پورے زور و شور سے منایا جاتا ہے لیکن واقعات گواہ ہیں کہ خیبرپختونخوا کی سطح پر اس خصوصی دن کی مناسبت سے ہونے والی سرگرمیوں سے کسی نابینا شخص کی زندگی میں کوئی خاطرخواہ بہتری نہیں آئی۔

تصور کیجئے کہ سڑک پر ایک کھلامین ہول کسی بصارت سے محروم شخص کے لئے کتنا بڑا اور جان لیوا حادثے کامؤجب بن سکتا ہے لیکن کسی کو احساس ہی نہیں چودہ جولائی کوایبٹ آباد کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ضلع چارسدہ اور مردان سے تعلق رکھنے والے بصارت سے محروم اساتذہ اور طالب علموں بشمول ایک طالبہ یہاں دس روزہ تربیتی نشست میں شرکت کی‘ جس کا انعقاد ایک مقامی غیرسراکری تنظیم ’ایم پاور پاک‘ نے کیا تھا۔ کورس کے اختتام پر جلال بابا آڈیٹوریم کے تہہ خانے میں منعقدہ تقریب سے ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کیپٹن اورنگ زیب حیدر خان‘ ویمن میڈیکل کالج کے ڈائریکٹر آصف محمود جدون‘ پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کے چیئرمین سید سلطان شاہ‘ ایوب میڈیکل کالج کی پروفیسر ڈاکٹر سلمیٰ اسلم کنڈی اور خصوصی افراد کیلئے محکمۂ تعلیم کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ عجب ہے کہ نابینا افراد کی یہ تقریب نہایت ہی چھوٹے پیمانے پر کی گئی حتیٰ کہ کمرے میں ایک عدد پنکھا تک نہیں لگایا گیا تھا تاکہ ہوا کی آمدورفت ہوتی رہے۔ وہ تو شکر ہے کہ ایبٹ آباد میں حبس کم تھا ورنہ گرمی کی شدت محسوس کرنیوالے زیادہ بے چین ہوتے۔ نابینا افراد ایبٹ آباد کے مہمان تھے کیا اُنہیں اِس طرح سے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی؟ ’ایم پاور پاک‘ کے پروفیسر شمس الرحمن نے تعارفی کلمات میں مسکراتے ہوئے جن حقائق اور دکھوں کا اظہار کیا انکی گہرائی اور شدت سمجھنے کے لئے دردمند روح کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ اپنے قیام 2011ء سے لیکر اپنے وسائل سے ’ایم پاور پاک‘ نے متعدد تربیتی نشستوں کا اہتمام اور ایک ریسورس سنٹر بھی قائم کیا ہے جسکے تحت خیبرپختونخوا میں درسی نصابی کتب کی برائل پرنٹنگ میں منتقلی کا عمل جاری ہے۔

درحقیقت یہ ذمہ داری حکومت کی ہے جو ایک نجی ادارہ اپنے محدود وسائل سے کر رہا ہے! ڈپٹی کمشنر مردان کی درخواست پر برائل کتب ضلع مردان کو فراہم کی گئی ہیں لیکن افسوس کہ ایم پاور پاک کے پاس اپنی برائل مشین نہیں جس کی کل قیمت سات لاکھ روپے سے کم ہے اور ایبٹ آباد کی ایک فلاحی تنظیم نے یہ مشین عطیہ کرنے کا اعلان بھی کیا‘ جو تاحال فراہم نہیں کی گئی ہے۔ ’ایم پاور پاک‘ کے لئے پہلی ترجیح ’برائل پرنٹر‘ کے ساتھ استعمال ہونے والے سافٹ وئر کی خریداری ہے تاکہ وہ کتابوں کو پرنٹنگ کے لئے تیار کر سکیں‘ اِس سافٹ وئر کی کل قیمت ستر ہزار روپے ہے۔ یہ ادارہ فی الوقت سافٹ وئر کا مفت دستیاب ڈیمو ورژن استعمال کر رہا ہے جس میں محدود سہولیات دی جاتی ہیں۔ عجب ہے کہ مردان‘ چارسدہ اور ایبٹ آباد کے معزز ڈپٹی کمشنر صاحبان نجی ادارے ایم پاور پاک کی خدمات کو سراہتے بھی ہیں اور اس سے استفادہ بھی کرتے ہیں لیکن تین اضلاع مل کر بھی ایک ملین روپے نہیں دے سکتے‘ جس سے درسی کتب کی برائل میں تبدیلی کا عمل تیزی اور زیادہ وسیع پیمانے پر شروع کیا جاسکے۔ اے کاش کہ معنوی انداز میں معاشرے کے اِن حسین اور باہمت افراد کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ’خراج تحسین‘ کا سلسلہ صرف اخباری بیانات کی حد تک ہی محدود نہ رہے بلکہ زبانی کلامی دعوؤں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مخیر اَفراد اور نجی ادارے ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنی اپنی سماجی ذمہ داری ادا کریں۔