بریکنگ نیوز
Home / کالم / پانامہ کیس: مہلت کی مہلت!

پانامہ کیس: مہلت کی مہلت!


بیرون ملک اثاثہ جات سے شروع ہونیوالی تحقیقات کہیں سے کہیں جا پہنچی ہے جو درحقیقت مہلت کو دی جانے والی مہلت ہے‘ جس کا فیصلہ کئی لحاظ سے دلچسپیوں کا مجموعہ ہوگا لیکن حقیقت کے کئی رخ ہیں بقول وزیراعظم پچھلے ادوار میں حکمرانوں نے پاکستان کو اندھیروں میں دھکیلا اور اسے ناکام ریاست سمجھا گیا اب دوبارہ ملک کو مختلف حربے اختیار کرکے پیچھے کی طرف دھکیلا جارہا ہے مگر ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔پانامہ جے آئی ٹی کی جانب سے اپنی تفتیش کی حتمی رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد سے اب تک ملک میں ہیجانی کیفیت طاری ہے‘ غیریقینی کی فضا پھیل رہی ہے‘ سٹاک مارکیٹ کریش کررہی ہے اور ملک کی معیشت کی بنیادیں ہلتی نظر آرہی ہیں۔ بیشک ’جے آئی ٹی‘ رپورٹ وزیراعظم اور ان کے خاندان کے خلاف کسی فیصلے سے تعبیر نہیں ہوتی اور حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کے متعلقہ بنچ نے ہی کرنا ہے‘جہاں پانامہ کیس کی سماعت سترہ جولائی سے شروع ہو رہی ہے اس کے باوجود جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر وزارت عظمیٰ برقرار رکھنے کے حوالے سے پریشر قائم ہے کیونکہ اس رپورٹ میں وزیراعظم اور ان کے خاندان کے متعلقہ ارکان ہی کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ان کے خاندان کی آمدن ان کے معلوم ذرائع آمدن سے متجاوز ہوئی ہے جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے بھی آف شور کمپنیوں کے مالک ہونے کے دستاویزی ثبوت پیش کردیئے ہیں۔

وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کو جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا یقیناًقانونی حق بھی حاصل ہے جسکا وہ عندیہ بھی دے چکے ہیں تاہم وہ اپنے منصب سے مستعفی ہو کر اپنے اور اپنے خاندان کے قانونی دفاع کیلئے میدان عمل میں آتے ہیں تو انکی حکومت اور اسمبلی کے اپنی آئینی میعاد مکمل کرنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے‘ جس سے جمہوریت کیخلاف جمہوریت دشمن عناصر کی جانب سے کی جانیوالی سازشیں بھی اپنی موت آپ مر جائیں گی اور آئندہ عام انتخابات کیلئے ان کا اور ان کی پارٹی کا سیاسی مستقبل بھی محفوظ ہو جائے گا اس وقت ان پر سب سے بڑا دباؤ وزارت عظمیٰ کے منصب سے استعفے کا ہی ہے جسکی شدت کا اندازہ اس سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک دوسرے کیساتھ سیاسی ذہنی ہم آہنگی نہ رکھنے والی پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سمیت اپوزیشن کی تقریباً تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر کمبائنڈ اپوزیشن کی شکل میں متحد ہوچکی ہیں اور یک زبان ہو کر وزیراعظم کے استعفے کا تقاضا کررہی ہیں اسوقت حزب اختلاف کی جماعتیں ہی نہیں‘ وکلاء تنظیمیں بھی وزیراعظم پر استعفے کیلئے دباؤ بڑھا رہی ہیں اور اس سلسلہ میں لاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے اسمبلی ہال تک ریلی بھی نکالی گئی چنانچہ اس صورتحال میں وزیراعظم اور ان کی پارٹی جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر مستعفی نہ ہونے کے فیصلہ پر ڈٹی رہے گی تو اس سے سیاسی کشیدگی اور محاذآرائی کی فضا میں شدت پیدا ہوگی جبکہ یہی وہ صورتحال ہوتی ہے جس میں غیرجمہوری عناصر کو جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی سازشیں پروان چڑھانے کا موقع ملتا ہے۔ آج کی صورتحال ان عناصر کیلئے انتہائی حوصلہ افزاء ہے جبکہ ملک پر طاری سیاسی غیریقینی کے باعث ملک کی معیشت غیرمستحکم ہونے سے بیرون ملک بھی پاکستان کا تشخص بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال ملک کے مستقبل کے حوالے سے بھی تشویشناک ہے جبکہ ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز‘ ملک کے سیاسی اور اقتصادی استحکام کے متقاضی ہیں۔

اگر موجودہ سیاسی عدم استحکام کے باعث کل کو جمہوریت کی گاڑی پھر سے ٹریک سے اتارے جانے کی نوبت آتی ہے جسکی نوبت نہ آنے دینے کیلئے وزیراعظم پرعزم ہیں تو انہیں اپنے منصب کو بہرصورت اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے جبکہ ان کے منصب سے الگ ہونے سے ان کی حکومت اور اسمبلی بھی برقرار رہے گی اور حزب اختلاف کے پاس کسی احتجاجی تحریک کیلئے سڑکوں پر آنے کا جواز بھی ختم ہو جائے گا وزیراعظم اور نواز لیگ کو مکمل طور پر یقین اور اعتماد ہے کہ بیس کروڑ عوام کی جے آئی ٹی انہیں آئندہ انتخابات میں پھر سرخرو کرے گی تاہم یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب جمہوریت کی عملداری قائم رہے گی اور آئینی عمل مکمل ہونے پر آئندہ عام انتخابات کی نوبت آئے اگر حکومتی اور حزب اختلاف کی سیاسی دھماچوکڑی کے نتیجہ میں کل کو جمہوریت کی گاڑی ہی ٹریک سے اتر جاتی ہے تو پھر ایک دوسرے سے برسر پیکار سیاستدانوں کو ماضی کی طرح اگلے دس بارہ سال تک طالع آزماؤں کیخلاف باہم مل کر لڑنا پڑے گا اس لئے حکومتی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کیلئے ’فہم و دانش‘ کا یہی تقاضا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو دھکا دیکر سسٹم کیلئے غیریقینی حالات پیدا نہ کریں فریقین کی جانب سے صبرو تحمل کا مظاہرہ ہی بہترین حکمت عملی ہے۔ اگر سیاسی کشیدگی بڑھی تو پھر حکومت اور حزب اختلاف سمیت کسی کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: امتیاز عالم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)