بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ایک بار پھر تاخیر

ایک بار پھر تاخیر

پشاور اور دوسرے اضلاع میں انتظامیہ اور خدمات کے ادارے بارشوں سے ہونے والی تباہی اور شہریوں کوپیش آنے والی بڑی اذیتوں کے بعد مختلف اقدامات کے اعلانات کرنے لگے ہیں مون سون اور پری مون سون کے درجنوں الرٹس کے باوجود موسلادھار بارشوں میں پشاور کے شاہی کٹھے سمیت درجنوں نالے ابل پڑے بارشوں کا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوا اور مختلف حادثات میں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں آندھی اور بارش کے دوران حسب سابق بجلی کا نظام درہم برہم ہوا اور لوگ بارش رک جانے کے بعد بھی گھنٹوں اندھیروں میں رہے بجلی کی بندش کے باعث ریلیف کے لئے کام بھی انتہائی دشوار ہوا سڑکوں پر پانی آنے کے باعث ٹریفک جام رہی جس کے باعث زخمیوں کو ہسپتال پہنچانا بھی مشکل تھا اس ساری صورتحال کا پشاور کے ٹاؤن ون میں نوٹس لیا گیا اور شاہی کٹھہ پر تجاوزا ت کو بڑی رکاوٹ قرار دیاگیا ملازمین کی ہفتہ وار چھٹیاں منسوخ کرکے تجاوزات کے خاتمے کے لئے کام کا آغاز کیاگیا جبکہ باقی ادارے ابھی تک خاموش ہی ہیں مون سون اور پری مون سون اچانک نہیں آئے بارشوں سے متعلق الرٹ پہلے سے جاری تھے متعلقہ محکموں کو ضروری انتظامات کی ہدایات پہلے سے مل چکی تھیں ۔

اس کے باوجود صورتحال ماضی سے بہتر کی بجائے بدترہی دکھائی دی اب اگر بارش کے پانی کی نکاسی کا انتظام بہتر بنا بھی دیا جائے تو کیا لوگوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ ہوسکتا ہے بجلی کی ترسیل کو فول پروف بنابھی دیاجائے جو سردست ممکن ہی نہیں دکھائی دیتا تو کیا لوگوں نے جو پوری پوری رات اندھیروں میں گذاری اور چھوٹے بچے گرمی سے بدحال رہے تو اس کا ازالہ ممکن ہے ضرورت بعدازخرابی بسیار جہاں بہتری کے لئے اقدامات اٹھانے کی ہے تووہیں اَب تک ان اقدامات سے متعلق لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والوں سے پوچھ گچھ کی بھی ہے بصورت دیگر اسی طرح آندھی طوفان اور بارشیں ہوتی رہیں گی اور لوگ مشکلات سے گزرتے رہیں گے صوبے کی سطح پروزیراعلیٰ کو سروسز کی فراہمی کے ذمہ دار اداروں سے جواب طلب کرنا چاہئے تو وفاق کی سطح پر وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ متعلقہ محکموں سے جواب طلبی کریں۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے کام کا بھی از سر نو جائزہ ضروری ہے صرف محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کی روشنی میں الرٹ جاری کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں الرٹ کیساتھ تمام سٹیک ہولڈر ڈیپارٹمنٹس کو ایک چھت تلے جمع کرکے ضروری اقدامات اور ان کیلئے متعلقہ محکموں کے درمیان قریبی رابطہ بنانا بھی ناگزیر ہے‘ سروسز کی فراہمی کے ذمہ داروں کو اضافی وسائل بھی دینا ہوں گے آندھی طوفان میں صرف بجلی منقطع ہونے سے متعلق درجنوں اطلاعات اور شکایات نوٹ ہوتی ہیں جن کے ازالے کیلئے مطلوبہ وسائل اور افرادی قوت قطعاً ناکافی ہے اسی طرح نالوں کو فوری طور پر کھولنے کیلئے مشینری اور ورکرز کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے صورتحال کا اعلیٰ سطح پر ادراک نہ کیا گیا تو ہر مرتبہ کی طرح اس بار بھی چندروزگرما گرم بیانات آئیں گے اور اس کے بعد اگلے طوفان اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا انتظار کیا جائے گا عملی اقدامات اب بھی نہ اٹھائے گئے تو لوگوں کا اعلانات اور بیانات سے اعتماد اٹھ جائے گاجو مرکز اور صوبوں کی حکومتوں کی ساکھ کو متاثر کرنے کاذریعہ ثابت ہوگا۔