بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نواز شریف کو کسی پر اعتماد نہیں تو اسمبلیاں تحلیل کروالیں‘شاہ محمود قریشی

نواز شریف کو کسی پر اعتماد نہیں تو اسمبلیاں تحلیل کروالیں‘شاہ محمود قریشی

اسلام آباد۔تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے ایشو کو تحریک انصاف اور عمران خان نے زندہ رکھا جبکہ حکمران جماعت کا خیال تھا کہ لوگ پانامہ لیکس کو چند ہفتوں میں بھول جائیں گے ۔ریمنڈ ڈیوس سفارتکار نہیں تھا وہ خاص مشن پر پاکستان آیا تھا۔ پنجاب حکومت اور شہباز شریف نے رہائی کے لئے راستے بنائے ۔تحریک انصاف نے کہا تھا کہ چار حلقے کھول دیں اگر وہ بات مانی ہوتی تو دھرنا ہی نہ ہوتا ۔

درحقیقت دھرنا کروانے والی (ن) لیگ خود ہے اس طرح جے آئی ٹی بنانے والی (ن) لیگ خود ہے ۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ نواز شریف نااہل ہوتے ہیں تو قومی اسمبلی میں (ن) لیگ کی اکثریت ہے کیا ان کو اپنی پارٹی میں کسی پر بھی اعتماد نہیں ہے کہ کسی ایک کو منتخب کروا لیں ۔

پیپلزپارٹی پر جب یہ وقت آیا تھا تو گیلانی کی جگہ راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم بنا دیا گیا اور جمہوریت کا تسلسل جاری رہا۔اگر نواز شریف کو کسی پر اعتماد نہیں تو اسمبلیاں تحلیل کر کے نئے الیکشن کروا لیں ۔

جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ملک میں آئین کے مطابق آگے بڑھ سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور (ن) نے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے ان کو علیحدہ اکائی کا خواب دکھایا اور پھر دھوکا دیا ۔ پنجاب اسمبلی میں ایک مشترکہ قرار داد پاس کی اور پھر اس کو قومی اسمبلی میں لے کر نہیں گئے ۔

عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ اس کو چلانا ممکن نہیں ۔ پنجاب کی آبادی بیشتر یورپی ملکوں سے زیادہ ہے اور رحیم یار خان اور راجن پور کے لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے لاہور آنا پڑتا ہے یہ بنیادی حقوق کے خلاف ہے ۔ آپ سے سنجیدگی سے سوچھئے اور جنوبی پنجاب کو الگ اکائی کی شکل دیں ۔

بھارت نے پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا حالانکہ وہ پاکستانی پنجاب سے چھوٹا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کو آصف علی زرداری نے دفن کر دیا اور اس کو زرداری لیگ بنا دیا اس لئے لوگ پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر جا رہے ہیں یہ بات ان کو سمجھ نہیں آ رہی ۔

انہوں نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ دینے کے حوالے سے فارن آفس کے پروفیشنل کے ساتھ مشاورت کی ۔ جب ان کا ریکارڈ دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ سفارتکار نہیں ہیں ۔ امریکہ ویانہ کنونشن کے تحت ناجائز استثنیٰ مانگ رہا ہے جب میں نے آصف علی زرداری اور گیلانی کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ جس راستے پر آپ چل رہے ہیں اس پر مت چلو حقائق سامنے آ جائیں گے لیکن وہ بضد تھے ان پر دباؤ تھا مجھے اللہ نے طاقت دی اور میں نے دباؤ برداشت کر لیا اور میں مستعفی ہو کر علیحدہ ہو گیا ۔

جن شخصیات کا ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے ان کا بھی ان کی رہائی میں بہت اہم کردار تھا امریکہ اس کو کیوں چھڑوانا چا رہا تھا وہ کس مشن پر تھا چیزیں کھل کر سامنے آ گئی ہیں اور مزید بھی آئیں گی ۔

ریمنڈ ڈیوس کوٹ لکھپت جیل میں تھا۔پنجاب حکومت اور شہباز شریف نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لئے راہ ہموار کی ۔ ریمنڈ ڈیوس نے خود کہا ہے کہ میری رہائی کے لئے جان کیری نے نواز شریف سے ملاقات کی اور میری رہائی کے لئے جان کیری نے نواز شریف کو کہا کہ کوئی راستہ نکالو ۔ آصف علی زرداری کو حسین حقانی قائل کرتے رہے کہ راستہ نکالو ۔

مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں نے اس پر پٹیشن دائر کر دی اور موقف اختیار کیا کہ اس کے ذمہ داروں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ مجھ پر کوئی پریشر نہیں تھا میں نے ضمیر کی آواز پر استعفیٰ دیا مجھے تو وزارت دی جا رہی تھی ۔ آصف علی زرداری امین فہیم کو وزیر اعظم نہیں بنوانا چاہتے تھے لیکن مجھ پر وزیر بننے کے لئے دباؤ ڈالا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ وزارت لے کر گھر جاتے ہیں تو لوگ ان کا استقبال کرتے ہیں میں ملتان کے لوگوں کو سلام کرتا ہوں کہ میں وزارت چھوڑ کر گیا تو لوگوں نے پرتپاک استقبال کیا ۔

پیپلزپارٹی کے لوگ مجھے کہتے تھے کہ جو پارٹی چھوڑتا ہے وہ ہیرو سے زیرو ہو جاتا ہے لیکن اللہ نے مجھے عزت دی اور ملتان سے ہی دوبارہ منتخب ہوا ۔ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر کے ایک نئے سفر کا آغاز کیا اور عمران خان نے مجھے عزت دی اور پارٹی کا وائس چیئرمین بنا دیا ۔