بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / دہشت گردوں اور بغاوت کے ذمہ داروں کے سرتن سے جدا کر دیے جائیں گے‘ ترک صدر

دہشت گردوں اور بغاوت کے ذمہ داروں کے سرتن سے جدا کر دیے جائیں گے‘ ترک صدر


استنبول۔ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ گزشتہ برس حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے والے باغیوں اور دہشت گردوں کے سر تن سے جدا کر دیے جائیں گے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز یہ بات ناکام فوجی بغاوت کا ایک برس مکمل ہونے پر ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب میں کہی۔ اردگان نے اس موقع پر کہا کہ تختہ الٹنے کی یہ سازش ترکی پر حملہ تھی، تاہم یہ حملہ نہ پہلا تھا اور نہ آخری۔انہوں نے کہا کہ 15 جولائی کی شب جب ترک ملت کو یہ احساس ہوا کہ فتح اللہ دہشتگرد تنظیم کے ذریعے ترکی حملے کے اقدام کا نشانہ بن گیا ہے تو ملت نے فوری طور پر اس کا ردعمل پیش کیا۔

ہزاروں محب وطن باغیوں کے خلاف سڑکوں، اسکوائروں، فوجی بیرکوں اور ائیر پورٹوں پر جمع ہو گئے اور حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔صدر اردگان نے کہا کہ باغیوں نے اپنے قبضے میں لئے ہوئے ٹینکوں، بموں، ہیلی کاپٹروں اور طیاروں سے حملہ کیا اور ترک ملت نے اس رات ایمان کی قوت سے دنیا کے جدید ترین ہتھیاروں پر غلبہ پا لیا۔صدر رجب ایردوان نے وطن کی پاسداری کرنے پر ملت کے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ 15 جولائی نہ تو پہلا حملہ تھا اور نہ ہی آخری ہو گا، فیتو، پی کے کے اور داعش کے پیچھے کون ہیں اسے ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور ہم پہلے ان غداروں پر غلبہ پائیں گے۔ترکی کے ہزاروں سالہ حکومتی روایت کے مالک ملک ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترک ملت نے اپنی ہزار سالہ تاریخ میں متعدد دفعہ اپنے مقدسات کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے کی روایت کو 15 جولائی کی شب ایک دفعہ پھر تازہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم موت کو موت سے ڈرا کر اپنے راستے پر آگے بڑھنا جاری رکھیں گے، اپنے سینوں سے ایمان کو، دلوں سے حوصلوں کو دست و بازو سے قوت کو اور پشت سے پسینے کو کم کئے بغیر مسلسل کام کریں گے۔صدر رجب طیب اردگان نے مزید کہا کہ ہم اپنے سرکاری ادارواں کو دہشتگرد تنظیم کے اراکین سے صاف کرنا جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ فیتو کے مقدمات میں اب آہستہ آہستہ فیصلے صادر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

آپ یقین رکھیں کہ اس ملک کی توہین کرنے والا کوئی بھی غدار سزا کے بغیر نہیں رہے گا۔صدر اردگان نے کہا کہ اگر ملت خدمت گزاروں کو سر آنکھوں پر بٹھانا جانتی ہے تو توہین کرنے والوں کا سر کچلنا بھی جانتی ہے استنبول میں اس موقع پر ہزارہا افراد نے ترک پرچم اٹھا رکھے تھے۔ گزشتہ برس ہونے والی اس ناکام فوجی بغاوت میں قریب ڈھائی سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔