بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نواز شریف کو زبردستی اقتدار سے ہٹانے کی کوششوں میں شریک نہیں ہونگے ،غلام احمد بلور

نواز شریف کو زبردستی اقتدار سے ہٹانے کی کوششوں میں شریک نہیں ہونگے ،غلام احمد بلور

اسلام آباد۔اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ نواز شریف کو زبردستی اقتدار سے ہٹانے کی کوششوں میں شریک نہیں ہونگے تاہم عدالت کا ہر فیصلہ قبول ہوگا ۔ خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا گیا ہے ، صوبے میں عمران خان کا کوئی مدمقابل سیاستدان نہیں ہے ملک سے دہشتگردی سے خاتمے کیلئے ایران بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ہونگے۔

کالا باغ ڈیم پختونوں کی تباہی اور بربادی کا منصوبہ ہے اگر کالا باغ ڈیم بن گیا تو دریائے کابل اور سندھ کا پانی رک جائے گا اور وادی پشاور ایک جھیل بن جائے گا جہاں پنجاب کے عوام مچھلی کے شکار کے لئے آئینگے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ سکینڈل کیس کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے کیونکہ اس میں وزیراعظم کا نام بھی شامل نہیں ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے استعفے کے سلسلے میں ہمارا یہ موقف ہے کہ بیٹے کی غلطی کی سزا باپ نہ کو نہیں دی جاسکتی ہم نہ وزیراعظم سے استعفیٰ مانگے گئے اور نہ کسی احتجاجی تحریک کا حصہ بنیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ جب نیوز لیکس کا معاملہ سامنے آیا تھا تو بعض افراد کی خواہش تھی کہ فوج وزیراعظم کی چھٹی کروادے تاکہ ان کا راستہ ہموار ہوجائیں حالانکہ اگر نواز شریف چلے بھی جاتے تو کوئی دوسرا وزیراعظم بن جاتا تاہم نیوز لیکس کے معاملے میں فوج نے جمہوری اداروں کی بالادستی تسلیم کرکے اپنے وقار میں اضافہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ عمران خان صرف اقتدار کے دیوانے ہیں اور انہیں سیاست کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں نہ جانے ان کی سیاسی تربیت کس نے کی ہے ۔

ان کی وزیراعظم بننے کی خواہش اس بار بھی پوری نہیں ہوگی تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں عمران خان کا کوئی مدمقابل نہیں ہے کیونکہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کی خیبر پختونخوا میں کوئی دلچسپی نہیں جبکہ اسفند یار ولی خان علالت کے باعث فعال نہیں ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی چار سالہ کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے صوبائی حکومت نے عوام سے جو وعدے کئے تھے وہ پورے نہیں کئے اگر پی ٹی آئی کو صوبے سے کچھ نشستیں ملیں تو وہ بھی عمران خان کی شخصیت کی وجہ سے ملیں گی ۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے اقتدار میں ہم پر کرپشن کے الزامات لگائے گئے مگر ہم اپنی صفائی پیش نہ کرسکے حالانکہ پنجاب میں بھی لوگوں نے جائیدایں بنائیں اور شوگر ملیں لگائیں مگر وہاں کسی پر کوئی الزام نہیں لگا ۔

انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کا کوئی بندہ غلط کام کرتا ہے تو اس کا ذمہ دار پوری پارٹی کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں ہماری اپنی غلطیوں اور بعض زیادتیوں کی وجہ سے ہمیں انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا انجینئرڈ الیکشن کی ماہر قوتوں نے ہمیں تپتے صحرا میں پھینک دیا تھا انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کامیاب خارجہ پالیسی اور عمدہ سفارت کاری کے ذریعے آسکتا ہے جبکہ ہمارے ہاں ڈپلومیسی کا فقدان ہے ہمارا کوئی بھی سیاستدان اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر قدم نہیں اٹھا سکتا ۔

اگر ہمیں پاکستان کے مستقبل کو بہتر بنانا ہے تو پھر بھارت ایران اور افغانستان کے ساتھ کنفیڈریشن یا یورپ کی طرز پر یونین بنانا ہوگی کیونکہ دہشتگردی اس وقت تک قابو نہیں پایا جاسکتا جب تک ایران بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں بنائے جاتے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے تو ہمیں پڑوسی ممالک سے دشمنی ختم کرنا ہوگی انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم پختونوں کی تباہی اور بربادی کا منصوبہ ہے اگر کالا باغ ڈیم بن گیا تو دریائے کابل اور سندھ کا پانی رک جائے گا اور وادی پشاور ایک جھیل بن جائے گا جہاں پنجاب کے عوام مچھلی کے شکار کے لئے آئینگے ۔