بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد واضح طور پر ثابت ہو گیا ، دو ججز کا فیصلہ درست تھا، سراج الحق

جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد واضح طور پر ثابت ہو گیا ، دو ججز کا فیصلہ درست تھا، سراج الحق

اسلام آباد ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد واضح طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ دو ججز کا فیصلہ درست تھا اور وزیر اعظم پاناما کیس میں ملوث ہیں اب استعفٰی نواز شریف کے لیے باعزت آپشن ہے اور اپنی پارٹی میں سے کسی اور کو وزیر اعظم بنا دیں اب سپریم کورٹ کا بھی امتحان ہے اسے اس کیس کو زیادہ لمبا نہیں کرنا چاہیے فیصلہ جتنا جلد ہو گا ملک و قوم کے لیے بہتر ہو گا، ایک اور جے آئی ٹی بنائی جائے جو پانامہ کیس میں شامل تمام لوگوں کی تحقیق کرے۔

اداروں اور اچھی شہرت کے حامل ججز پر مشتمل کمیشن بنایا جائے جو کرپشن کے تمام الزامات کی تفتیش کرے،جنوبی افریقہ کی طرز پر ٹروتھ اینڈری کنسیلیشن کمیشن بننا چاہیے ،پانامہ سکینڈل میں ملوث تمام سیاستدانوں ،بیوروکریٹس ،ججز اور سرمایہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے، آف شور کمپنیاں بنانے اور اربوں کے قرضے معاف کروانے والوں کا احتساب چاہتے ہیں، سیاستدان ،بیوروکریٹس اور جرنیلوں نے ایکا کر لیاہے سب ایک دوسرے کو بچاتے ہیں۔

ایوب، ضیاء اور مشرف نے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو بچایا،پاکستان کو عوامی انقلاب کی ضرورت ہے جس کے نتیجہ میں جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہو سکے ، پرویز مشرف کو واپس بلا کر ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں عمران خان نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے ،یہ بات سچ ہے کہ خیبر پختونخوا میں احتساب کا موثر نظام نہیں بن سکا، جنرل حامد کے پاس اگر کوئی راز ہیں تو انہیں چھپانے نہیں چاہیے تھا اسے اپنے ملک کے لیے آگے بڑھنا چاہیے تھا میں اعتراف کرتا ہوں کہ وزیراعلیٰ نے ایم ڈی خیبر بینک کے خلاف کارروائی کا فرض ابھی تک ادا نہیں کیا، تحریک انصاف کو قومی وطن پارٹی کے وزراء پر کرپشن کا غلط الزام لگانے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔خیبرپختونخوا سے الحاق فاٹا کے عوام کے دل کی آواز ہے،جماعت اسلامی فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کے لیے اگست میں فاٹا سے اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی، کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا ہوگا،کشمیریوں کا وکیل پاکستان ہے، کشمیر کے حوالے سے حکومت ذمہ داری پوری نہیں کررہی ۔

ایک انٹرویو میں سراج الحق نے کہا کہ وزیر اعظم فی الفور استعفٰی دیں اسمبلی میں ن لیگ کی اکثریت ہے کسی اور کو وزیر اعظم بنا دے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ کیس جتنا لمبا ہو گا معیشت اور ملک کے تشخص اور عزت و قار کے لیے اچھا نہیں اس لیے اب سارا راستہ یہی ہے کہ سپریم کورٹ از خود فیصلہ کر لے اور قوم کے سامنے صاف صاف بات رکھ دے آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والی کہانی نہ ہو بلکہ آر ہو یا پار ہو، قوم نے بہت انتظار کیا ہے تمام ادارے اس میں مصروف رہے ہم نے سپریم کورٹ میں جا جا کر بہت وقت لگایا ہے ۔

یہ کیس مسلم لیگ کے خلاف نہیں بلکہ ایک خاندان کے خلاف ہے،سپریم کورٹ کا بھی امتحان ہے سب امتحان میں ہیں خود نواز شریف اور ان کا خاندان بھی امتحان میں ہے جے آئی ٹی بھی امتحان میں ہے نجات کا راستہ صرف سچ کا راستہ ہے ہیر پھیر کرنے میں سب کا نقصان ہے امیر جماعت نے کہا کہ ہمارا مشورہ ہے کہ وزیر اعظم اپنے اختیارات استعمال نہ کریں ایک طرف ہو جائیں اپنی سرکاری حیثیت اور اختیارات اس کیس کے لیے استعمال نہ کریں جو بھی وزیر اعظم ہوتا ہے اس کے اثرات تو ہوتے ہیں لیکن اگر وہ ایک طرف ہو جائیں اور سپریم کورٹ ان کو کلین اور کلیئر قرار دے تو ہم بھی سچائی صداقت اور امانت پر شاباش دیں گے۔