بریکنگ نیوز
Home / کالم / انسداد بدعنوانی قانونی!

انسداد بدعنوانی قانونی!

چوبیس جولائی سال دوہزار دو: برطانیہ کی ملکہ الزبتھ الیگزینڈرا میری (Elizabeth Alexandra Mary) نے ’کرائم بل 2002ء‘ نامی ایک قانون کو شاہی منظوری دی اور لاگو کردیا۔ یہ قانون برطانیہ کی حکومت کو اختیار دینے کیلئے بنایا گیا کہ وہ مشکوک ذرائع آمدنی بشمول جرائم سے حاصل کئے گئے اثاثوں کو ضبط کرلے برطانیہ میں یہی قانون بنیادی طورپر سرمائے کی غیرقانونی نقل و حمل (منی لانڈرنگ) کے انسداد سے متعلق بھی تھا۔ستائیس اپریل سال دوہزار سترہ: ملکہ برطانیہ الزبتھ الیگزینڈرا میری ہی نے ’کریمنل فنانس ایکٹ 2017ء‘ نامی قانون پر شاہی منظوری کی مہر ثبت کی جس کے بارے میں کریمنل لاء کے ایک ماہر راجر ساہوتا (Roger Sahota) کا کہنا تھا کہ ’’اِس قانون سازی سے سال دوہزار دو میں کی گئی قانون سازی کو جامع بنایا گیا ہے جس میں منی لانڈرنگ کرنے والوں کے اثاثے ضبط کرنے کے حکومت کے اختیارات میں توسیع ہوئی ہے۔‘‘ اپریل سال دوہزار سولہ: تحقیقاتی صحافت کی عالمی تنظیم (انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیشن جرنلسٹ (آئی سی آئی جے) نے ایک کروڑ پندرہ لاکھ (11.5 ملین) دستاویزات جاری کیں جو ایک معروف ادارے ’’موسیک فونیسکا (Mosack Fonseca)‘‘ کی ملکیت تھیں۔ یہ ادارہ خفیہ ناموں سے سرمایہ کاری کے امکانات‘ معلومات اور سہولیات کی فراہمی میں دنیا کا چوتھا ایسا بڑا اِدارہ ہے اور اِس کے ذریعے ’آف شور سرمایہ کاری‘ کی جا سکتی ہے۔

ایک کروڑ پندرہ لاکھ دستاویزات جنہیں دنیا پانامہ لیکس کے نام سے جانتی ہے کے منظرعام پر آنے کے بعد برطانوی حکومت نے قانون نافذ کرنے والوں کو نئے اختیارات دے دیئے کہ وہ مشکوک ذرائع آمدنی سے حاصل کردہ اثاثوں کو بناء کسی عدالتی کاروائی یا قانونی چارہ جوئی کا اختیار دیئے ضبط کرلیں!برطانیہ کے کریمنل فنانس ایکٹ دوہزار سترہ کے تحت اگر کسی ایسے شخص کے اثاثے مشکوک پائے گئے جو سیاست سے وابستہ ہو تو ایسی صورت میں کسی عدالتی سماعت یا مزید تحقیقات کی ضرورت باقی نہیں رہے گی کہ آیا ان اثاثوں کے پیچھے کوئی جرم چھپا ہے یا نہیں‘ چونکہ مذکورہ اثاثے معلوم ذرائع آمدنی سے الگ اور زیادہ ہوں گے اس لئے انہیں انسداد بدعنوانی کے قانون کے تحت بحق سرکار ضبط کر لیا جائے گا دس جولائی سال دوہزارسترہ: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ’چھ رکنی جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی)‘ تشکیل دی تاکہ وہ ’پانامہ لیکس‘ کی روشنی میں مشکوک ذرائع آمدنی اور بیرون ملک اثاثوں کی چھان بین اورپانامہ لیکس کے بقول اس سرمایہ کاری میں ملوث حکمران شریف خاندان کی ملکیت اور ان ذرائع کی کھوج کرے‘ جس سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکے۔ مذکورہ جے آئی ٹی کو ساٹھ روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا اور وقت مقررہ پر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق جے آئی ٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ شریف خاندان کے ذرائع آمدنی ان کے رہن سہن اور اثاثوں سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ ‘ جے آئی ٹی رپورٹ کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا گیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی دسویں جلد خفیہ رکھی جائے جس میں بیرون ملک اثاثہ جات کے بارے قانونی مشاورت کی درخواست و امکانات کا ذکر کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں برطانیہ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ جب سے پانامہ لیکس کا ہنگامہ برپا ہوا ہے عالمی سطح پر سرمائے کی غیرقانونی نقل و حمل پر کڑی نگاہ رکھی جا رہی ہے اور پاکستان میں جاری پانامہ کیس پر بھی عالمی اداروں کی نظریں ہیں۔

برطانیہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ماننا ہے کہ ہر سال برطانیہ کے ذریعے 100 ارب پاؤنڈز کا مشکوک سرمایہ یہاں وہاں جاتا ہے جس کے بیشتر حصے کی جائیداد کی صورت سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ رواں برس منظور ہونے والے کریمنل فنانس ایکٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار حاصل ہے کہ وہ مشکوک ذرائع آمدنی سے حاصل اندرون یا بیرون (آف شور) سرمایہ کاری کے بارے میں سوال کریں اور آمدنی کے ذرائع قانونی ثابت نہ ہونے کی صورت میں انہیں ضبط کر لیا جائے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کے مذکورہ قانون اُورجے آئی ٹی کے پیش کردہ نتیجہ خیال کے بیان میں الفاظ کی (حیرت انگیز) مماثلت پائی جاتی ہے! برطانوی قانون کا اطلاق غیرملکی سیاست دانوں یا سرکاری حکام یا ان کے معاونین پر ہوتا ہے جس کے ذریعے برطانیہ کو یہ قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے وابستہ سہولت کار کیخلاف بھی کاروائی کرے جنہوں نے برطانیہ کا استعمال ذاتی سرمائے کو خفیہ رکھنے کیلئے کیا یا برطانیہ افریقہ کے آمروں سمیت ان تمام بااثر کہلانے والوں کیخلاف کاروائی کرے جنہوں نے اپنے ممالک کی بجائے بیرون ملک اور خفیہ طور سے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے! (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)