بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / ترجیحات کا سفر!

ترجیحات کا سفر!

اہل پشاور مسرور ہیں کہ بیگم شہاب الدین ہائر سیکنڈری سکول کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے جسکی عمارت چھبیس دسمبر دوہزار پندرہ کی شب 6.9 شدت کے زلزلے سے شدید متاثر ہوئی تھی197 کلومیٹر زیرزمین اُس زلزلے کے جھٹکے خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں سمیت اسلام آباد اور لاہور تک محسوس کئے گئے تاہم اندرون پشاور شہر کے رہائشی علاقوں بشمول گنج میں اس کے اثرات زیادہ گہرے دکھائی دیئے کیونکہ پشاور کا یہ حصہ ایسے مکانات پر مشتمل ہے جہاں ڈیڑھ دو سو برس سے زیادہ پرانے مکانات آج بھی رہائش کیلئے استعمال ہو رہے ہیں تاہم ایک دوسرے سے پیوست یہ مکانات‘ تعمیراتی ڈھانچوں میں لکڑی کے استعمال کی وجہ سے موسمی شدت و اثرات برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں اندرون گنج کے بوسیدہ مکانات سنجیدہ توجہ چاہتے ہیں جو ایک الگ موضوع ہے پشاور کے قدیمی رہائشی علاقے زلزلوں کی فعال سطح پر ایستادہ ہونے کی وجہ سے پرخطر اور زیادہ توجہ کے مستحق ہیں اور اگرچہ کئی بلدیاتی و ضلعی حکومتوں کی جانب سے بوسیدہ مکانات اور تجارتی طور پر استعمال ہونے والی عمارتوں کو نوٹسز جاری کئے جا چکے ہیں تاہم کم مالی وسائل رکھنے کی وجہ سے یہ مکانات نہ تو مسمار کئے جا سکے اور نہ ہی انکا استعمال ممنوع قرار دینے کے باوجود قواعد پر عمل درآمد ہو سکا ہے۔

پشاور کے ضلعی ناظم کو اندرون شہر کے ان خستہ حال اور غیرمحفوظ مکانات میں مجبوراً زندگی بسر کرنے والوں کی جانب توجہ دینی چاہئے جنہیں شہر کے مضافات میں نیا پشاوربسا کر منتقل کیا جا سکتا ہے اور اندرون شہر کہ جہاں سبزہ زاروں اور درختوں کی کمی ہے تو ایسے قطعات اراضی کا استعمال صحت مند تفریح کے مواقعوں کی فراہمی کی صورت خوشگوار اضافہ ہو سکتا ہے۔ آئے روز غیرمعمولی زلزلوں کے جھٹکوں کے علاوہ اندرون پشاور زیرزمین پانی کی کم ہوتی سطح بھی تشویش کا باعث ہے جس کی وجہ سے زمین بیٹھ رہی ہے اور ایسے کئی علاقے ہیں جہاں زمین میں دھنستے ہوئے مکانات دیکھے جا سکتے ہیں! بیگم شہاب الدین سکول مختلف ادوار میں تعمیر ہونے والی چار حصوں پر مشتمل کثیرالمنزلہ عمارت ہوا کرتی تھی‘ جو مختلف ادوار میں تعمیر ہوئی تاہم ان حصوں کا نہ تو فن تعمیر کے لحاظ سے آپس میں کوئی مماثلت یا مطابقت تھی اور نہ ہی اسے بنانے کے عمل میں مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا۔ المیہ یہ بھی تھا کہ قرب و جوار میں جس کسی سکول کی عمارت ناقابل استعمال ہوتی اسے فیصلہ ساز یہاں منتقل کردیا کرتے اور پھر عام انتخابات و دیگر سرکاری کاموں کے لئے بھی نظرانتخاب بیگم شہاب الدین سکول پر ہی جا ٹھہرتی!اس دباؤ اور خاطرخواہ تعمیرومرمت نہ ہونے کی وجہ سے عمارت خستہ حال ہوتی چلی گئی جسکی رہی سہی کسر زلزلوں نے نکال دی تاہم سال دوہزار پندرہ کے اکتوبر و دسمبر میں پے درپے زلزلوں اور آفٹرشاکس نے آمنے سامنے کی دو تاریخی عمارتوں (بیگم شہاب الدین سکول اُور گورگٹھڑی) کے چند حصوں کو بری طرح جھجھوڑ کر رکھ دیا‘ جس کے بعد فیصلہ ہوا کہ ’بیگم شہاب الدین سکول‘ کو مکمل طور پر مسمار کرنے کے بعد اَزسرنو تعمیر کیا جائے تاکہ نہ صرف طالبات کی گنجائش میں اِضافہ ہو سکے بلکہ ایک ایسی عمارت تعمیر کی جائے جو مستقبل میں زیادہ شدت کے زلزلوں کو برداشت کرنیکی سکت رکھتی ہو لیکن یہ عمل اتنا سادہ و آسان ثابت نہیں ہوا‘ اور جب سکول کی عمارت مکمل طور پر مسمار کر دی گئی تو اِس کے قانونی وارثوں نے حکم امتناعی حاصل کر لیا اور یوں عدالتی کاروائی کی وجہ سے سکول کی تعمیر کئی برس تک التوا کا شکار رہی!محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کی کارکردگی اور قریب اٹھائیس ہزار سکولوں پر نظر رکھنے والے ایک نگران و خودمختار ادارے ’انڈی پینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ‘ کا قیام اپریل دوہزار چودہ میں برطانیہ کے مالی و تکنیکی تعاون سے قائم کیا گیا۔

جس کی ڈیٹابیس (ریکارڈ) میں ’بیگم شہاب الدین سکول‘ کا حوالہ نمبر (کوڈ) ’’36725‘‘ ہے۔ نامعلوم وجوہات کی بناء پر طالبات کے اس سکول سے متعلق تفصیلات اور غیرفعال ہونے کا ذکر یا مستقبل کی منصوبہ بندی کا اَجمالی یا تفصیلی ذکر تو ڈیٹابیس کا حصہ نہیں تاہم اُنیس دسمبر دوہزار پندرہ‘ کے روز لی گئیں عمارت اور کلاس رومز کی تصاویر ڈیٹابیس کا حصہ ہیں جن میں سکول کی سرگرمیوں کو دیکھ کر نتیجہ اَخذ کیا جاسکتا ہے کہ کس طرح چند برس قبل تک علم و شعور پھیلانے والا ایک اہم ادارہ ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہوگیا! اس سکول کی فعالیت کے بارے منتخب قیادت ہونے کے دعویداروں کی تشویش کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کیونکہ کوئی ایک بھی ایسا بیان‘ پریس کانفرنس یا احتجاج ریکارڈ کا حصہ نہیں‘ جس کے ذریعے بیگم شہاب الدین سکول کی بحالی یا اِسکے اَزسرنو تعمیراتی منصوبے کے حوالے سے نکتۂ نظر پیش کیا گیا ہو ۔