بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ڈو مور کے مطالبے اور شرائط ؟

ڈو مور کے مطالبے اور شرائط ؟

امریکی ایوان نمائندگان نے بھارت سے دفاعی تعاون میں اضافے اور پاکستان کی امداد پر سخت شرائط کا بل منظور کر لیا ہے ‘ یکم اکتوبر سے نافذ ہونیوالے اس بل سے متعلق میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس کی حمایت میں344 جبکہ مخالفت میں81 ووٹ ڈالے گئے ‘ اس سب کیساتھ ایوان نمائندگان نے بھارت کیساتھ دفاعی تعاون کیلئے خارجہ اور دفاع کے اداروں کو 6 ماہ میں حکمت عملی تشکیل دینے کا بھی کہاہے ‘ قاعدے کے مطابق دفاعی پالیسی بل اَب سینٹ میں پیش کیا جائے گا جہاں سے منظوری کے بعد امریکی صدر اس کی منظوری دیں گے ‘دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل افغانستان میں کام کرنیوالے 65 بھارتی قونصل خانوں کو دہشتگردی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے انہیں بند کرنیکا مطالبہ کر رہی ہے اقوام متحدہ اور عالمی عدالت کو بھجوائے گئے مکتوب میں اس حوالے سے تفصیلات بیان کر دی گئی ہیں ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ قونصل خانے ختم ہونے سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو گا‘ دریں اثناء چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا ہے کہ ’’را‘‘ پاکستان کے خلا ف افغان سرزمین استعمال کر رہی ہے ان کا کہنا ہے کہ ’’را‘‘ سمیت دشمن ایجنسیاں افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان مخالف کاروائیاں کر رہی ہیں۔

برسرزمین حالات اور خطے کے منظر نامے میں پاکستان کے جاندارکردار کو خود امریکہ کے ذمہ دار ایک سے زائد مرتبہ تسلیم کر چکے ہیں اس کے برعکس حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنیوالے کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی قاعدے قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں ‘ بھارت مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کے ریفرنس سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو سرد خانے میں ڈالے ہوئے ہے ‘ پاکستان کیساتھ معاملات کو بات حیت کے ذریعے نمٹانے میں بھی بھارت ایک سے زائد مرتبہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کر چکا ہے افغانستان میں روسی مداخلت سے آج تک پاکستان نہ صرف لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے افغان امن عمل میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہا ہے امن وامان کی صورتحال نے پاکستان میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کیساتھ معیشت کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے اس سب کے باوجود پاکستان کے حوالے سے رویہ خود امریکہ کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان ثبت کر رہا ہے ۔

گرانی کا نیا طوفان

وطن عزیز کی گرما گرم سیاسی فضاء میں جبکہ سیاسی قیادت ایک دوسرے کیخلاف بیانات میں مصروف ہے آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان کو بجلی اور پٹرول مہنگا کرنیکی تجویز دیدی ہے ‘ آئی ایم ایف نے صوبوں کو بھی ٹیکس لگانے کا کہا ہے ‘ کھربوں روپے کے قرضے اٹھانے اور ایک قرض کی قسط ادا کرنے کیلئے دوسرا قرض لینے کی روایت میں ہمارے فنانشل منیجرزنیا قرضہ منظور ہونے کو اقتصادی شعبے میں اپنی بڑی کامیابی بنا کر پیش کرتے ہیں اس ساری مس مینجمنٹ میں اب بجلی اور پٹرول مہنگا ہونے پر سارا بوجھ غریب اور متوسط طبقے کو ہی برداشت کرنا پڑے گا یہ شہری پہلے ہی گرانی کی چکی میں پس رہے ہیں انہیں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں یہ پینے کا صاف پانی نہ ملنے کا گلہ بھی رکھتے ہیں ضرورت عالمی ادارے کی شرائط من وعن تسلیم کرنے کی بجائے اقتصادی شعبے میں اصلاحات کے ذریعے بیرونی قرضے چکانے اور شہریوں پر بوجھ کم سے کم رکھنے کیلئے حکمت عملی وضع کرنیکی ہے اس کیلئے تمام جماعتوں کو مل بیٹھ کر تجاویز دینا ہوں گی تاکہ غریب شہریوں کو مزید مشکل سے بچایا جا سکے ۔