بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / چترال میں جیب کھائی میں جاگری

چترال میں جیب کھائی میں جاگری

چترال۔ وادی ارکاری کے اویر آرکاری سے چترال آنے والا جیپ چیو پل کے قریب چنار کے پاس حادثے کا شکار ہو گئی مسافر جیپ اچانک دریا میں گر گئی جس کے نتیجے میں جیپ میں سوار سولہ افراد پانی میں ڈوب گئے۔ مقامی رضاکاروں نے فوری طور پر نو افراد کو پانی سے زندہ نکالے جبکہ جیپ کو بھی چترال سکاؤٹس کے کرین کی مدد سے پانی سے نکالا جس کی فرنٹ سیٹ پر راحیلہ بی بی دختر گل رحیم سکنہ اویر ارکاری نامی ایک جوان لڑکی کی لاش بھی پڑی تھی۔

اس حادثے میں زندہ بچنے والا بشیر الدین جو اس تمام واقعے کا عینی شاہد بھی ہے اسے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال میں داخل کیا گیا جہاں ڈاکٹر آصف علی شاہ کے مطابق ان کی جان حطرے سے باہر ہے۔ بشیر الدین ولد گل بیاز نے بتایا کہ وہ صبح اوویر ارکاری سے چترال آرہا تھا اس جیپ میں پندرہ سولہ لوگ سوار تھے جبکہ دو خواتین بھی ان میں شا مل تھے۔ جوں ہی یہ بدقسمت گاڑی چیو پل کے قریب پہنچ گیا تو اچانک دریا ئے چترال میں گرگیا ۔ سڑک کے کنارے دریا کی جانب بنائے گئے حفاظتی دیوار بھی انتہائی ناقص میٹریل سے بنایا گیا تھا ۔

وہاں موجود ایک عینی شاہد نے کہا کہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا وہ وہاں قریب تھا ان کا کہنا ہے کہ محکمہ مواصلات یعنی کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو) نے دریا کے جانب سڑک کے کنارے جو حفاظتی جنگلے یعنی دیوار بنائے تھے اس میں صرف پتھر ہی تھے اوپر سے سیمنٹ کا ہلکا سا پلستر کروایا تھا جونہی یہ جیپ اس حفاظتی دیوار سے ٹکرایا گیا وہ معمولی جھٹکے سے دریا میں گرگیا اور ساتھ ہی جیپ بھی دریا برد ہوا۔ان کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے سڑک کے کنارے پہاڑ کے جانب کھدائی کرکے نالے بنانا تھا مگر ابھی تک اس پر کوئی نالہ نہیں بن سکا اور اب فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے اسے بند کروارہے ہیں جس کی وجہ سے سڑک مزید تنگ ہوا اور اس قسم کے حادثات پیش آتے ہیں۔

پچھلے سال بھی اسی مقام کے قریب ایک مسافر پک اک ڈاٹسن دریا میں گر گیا تھا جس کے نتیجے میں نو افراد جاں بحق ہوئے تھے انہوں نے شکایت کی کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو با اثر افراد کی عمارتوں کو بچانے کیلئے سڑ ک کی بیچ میں حفاظتی دیواریں تو بناتے ہیں مگر دریا کے کنارے پر سڑ ک پر کوئی حفاظتی دیوار نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو انتہائی ناقص۔ ہمارے نمائندے نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی موقف جاننے کیلئے ان کے دفتر گیا تو پتہ چلا کہ ایگزیکٹیو انجنیر مقبو ل اعظم کئی دنوں سے پشاور میں تھے چند لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ ایکسین صاحب کا مکان پشاور میں زیر تعمیر ہے اور وہ اس کی نگرانی کرنے کیلئے زیادہ تر پشاور میں رہتا ہے۔ تاہم سب ڈویژنل آفیسر طارق علی کہا کہ وہ میڈیا کے سامنے بات کرنے کے مجاز نہیں ہے اور جب ایکسئن پشاور سے آئے تو وہ خود بتا سکتے ہیں۔

لاپتہ افراد میں افضل خان ولد گل بہار،محمد عارف ولد شیر غازی، حسن شاہ ولد زار نبی، سمیر خان ولد مراد خان، محمد حسن ولد شیر غزب، اصلاح الدین ولد رحیم خان ساکنان اویر ارکاری شامل ہیں جبکہ زحمیوں میں شیر الدین ولد شیر غزب، گل رحیم ولد میاں گل، انور میاں ولد پہلوان، محمد ولی ولد گل عجب، سلمان ولد محمد اسماعیل، شیر عزب ولد شیر غازی، اور سمیرا انار ولد شیر عذب شامل ہیں۔ ان سب زحمیوں کو ابتدائی طبعی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کیا گیا اور ان میں سے صرف بشیر الدین ولد گل بہار ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اسرار اللہ بھی ضلع سے باہر ہے ان کے بارے میں بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ مہینے میں پندرہ پشاور میں اور پندرہ دن چترال میں گزار تے ہیں۔ اس واقعے کی اطلاع سنتے ہی چترال سکاؤٹس کے کمانڈنٹ کرنل نظام الدین شاہ نے ریسکیوں کے کاموں کا خود نگرانی کی اور ہر قسم تعاون کی یقین دہانی کرائی۔