بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / ریمنڈ ڈیوس سے پانامہ لیکس تک

ریمنڈ ڈیوس سے پانامہ لیکس تک

عالمی منظرنامے پررونما ہونیوالے نت نئے واقعات دنیا کو ایک نئی سمت میں لے جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں بحر ہند میں امریکہ‘ انڈیا اور چین کے بحری بیڑوں کا آمنا سامنا‘ موصل سے داعش کی پسپائی ‘ قطر کا سعودی عرب کی شرائط ماننے سے انکار اور صدر ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی مشکلات ‘ سب دور رس نتائج کے حامل ایسے معاملات ہیں جنکی چھان بین اور تجزیہ کیا جا سکتا ہے پاکستان میں جے آئی ٹی کی رپورٹ اور عدالت عظمیٰ کا آنیوالا فیصلہ ایک ایسی صورتحال ہے جس پر تجزیوں کا چمنستان سجا ہوا ہے اس فسادفی الارض میں بھی اپنا حصہ ڈالا جا سکتا ہے اگرچہ کہ نکتہ وروں نے دو چار دنوں ہی میں اس کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دےئے ہیں بظاہر کوئی گوشہ ایسا نہیں بچا جسکی تاریکی کو منور کیا جا سکے مگر میاں نواز شریف تین عشروں سے پاکستان کی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ میں شامل رہے ہیں انکے دوست اور دشمن تادیر انکی سیاست اور شخصیت پر طبع آزمائی کرتے رہیں گے مجھے انکے خلاف کرپشن کے اس مقدمے کی ٹائمنگ نہایت اہم نظر آتی ہے میاں صاحب اگراپنی وزارت عظمیٰ بچا لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو چند ماہ بعد ہونے والے سینٹ کے انتخابات میں انکی جماعت اتنی بڑی اکثریت حاصل کر لے گی کہ وہ دشمنوں کیلئے ایک آسان ٹارگٹ نہ رہیں گے اسوقت وہ خارجہ اور دفاعی معاملات میں اپنی پالیسیوں کو نافذ کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے کسی بھی سیاستدان کی شخصیت میں طاقت کا اتنا ارتکاز ہمارے مقتدر حلقوں کیلئے کبھی بھی قابل قبول نہ تھا وہ یہ بھیانک خواب نہیں دیکھنا چاہتے اسلئے وقت سے پہلے اسکا بندوبست ضروری تھا پاناما لیکس اگر نہ ہوتیں تو دھرنے ہوتے‘ دھرنے اگر کارگر نہ ہوتے تو ہماری تفنن طبع کیلئے کسی دوسرے تماشے کا بندوبست کر دیا جاتا وزیر اعظم کے مخالفین کہہ سکتے ہیں کہ انکی کرپشن ناقابل معافی ہے یہ بات درست سہی مگر کیا وزیر اعظم کی رخصتی سرکاری دفتروں اور طاقت کے ایوانوں سے کرپشن کا خاتمہ کر دیگی اور اس سے بھی اہم بات یہ کہ جے آئی ٹی اگرپرویز مشرف کیخلاف بنائی جاتی تو اس نے کیا اسی چابکدستی اور برق رفتاری کا مظاہرہ کرنا تھاامریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے روس سے ایک سال پرانے تعلقات کی تفتیش کیلئے چنے گئے خصوصی مستغیث (Prosecuter) نے کہا ہے کہ اسے مکمل تحقیقات کیلئے ایک سال کے لگ بھگ عرصہ چاہئے واٹر گیٹ سکینڈل کی تفتیش ڈیڑھ برس تک ہوتی رہی تھی۔

اس مقدمے کے سب گواہ اور تمام ریکارڈ واشنگٹن ہی میں موجودتھے پھر بھی سال سے زیادہ عرصہ لگا ہمارے تفتیش کاروں نے لندن اور دبئی کے چکر بھی لگائے اور وزیر اعظم کی تین نسلوں کے کاروباری معاملات کی چھان بین بھی ساٹھ دنوں میں مکمل کرکے تفتیش و تحقیق کی دنیا میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا اس مقدمے کے اس پہلو پر مزید گفتگو کی گنجائش موجود ہے مگر اس سے پہلے ریمنڈ ڈیوس کی کلائمکس کی طرف بڑھتی ہوئی کہانی کا بیان ضروری ہے ‘وطن عزیز کی پیچیدہ اور محیرالعقول سیاست کی تفہیم کیلئے اس امریکی ایجنٹ کے انکشافات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے وہ یقیناًایسی کوئی بات نہیں لکھ سکتا جسکی اجازت نہ ہو مگر کوٹ لکھپت جیل میں غیض و غضب کے عالم میں اس نے جو حقائق طشت از بام کئے ہیں وہ توجہ طلب ہیں وہ اس ہذیان کو اپنی کتاب سے حذف کر سکتا تھا مگروہ امریکی قارئین کو اپنا رعب و دبدبہ اور طنطنہ بتانا چاہتا ہے وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ امریکہ کی حکومت ہر جگہ قائم و دائم ہے اور امریکی اپنے جھنڈے کو ہر جگہ گاڑھ سکتے ہیں اسکے علاوہ اس نے جس زاویہ نگاہ سے ہمارے تھانوں ‘ عدالتوں اور جیلوں کو دیکھا ہے وہ بھی خاصہ چشم کشا ہے اسکی ہر بات کو سچ نہیں مانا جا سکتا مگر اس نے مزنگ چوک‘ انارکلی پولیس سٹیشن‘ لاہور پولیس ٹریننگ کالج‘ کوٹ لکھپت جیل اور ماڈل ٹاؤن کور ٹ میں جو کچھ دیکھااسے جھوٹ نہیں کہا جا سکتاریمنڈ ڈیوس دو پاکستانی قتل کرنے کے بعد پورے پچاس دنوں میں اپنا مقدمہ بھگتاکر چلتا بنا اسکے تین ماہ بعد بن لادن کا ایبٹ آباد میں قتل بھی دو چار ہفتوں میں لپیٹ دیا گیا پھر پرویز مشرف کی رخصتی نے اسکے تمام جرائم کا کفارہ ادا کر دیا اسکے بعد ہم کچھ عرصے تک میمو گیٹ سے لطف اندوز ہوتے رہے ۔

پھر 2013 کے انتخابات کے بعد عمران خان ہمارے لئے دھرنوں اور پاناما لیکس کے سجے سجائے تحفے لے آیا اب اگر ریمنڈ ڈیوس نے ایک پرانے سنسنی خیز سکینڈل کی بند کھڑکیاں کھولی ہیں تو ان میں سے نظر آنے والے منظر کو دیکھ لینے میں کیا حرج ہے مجھے تو مزنگ چوک سے لیکر اسلام آباد میں طاقت کے ایوانوں تک پھیلی ہوئی یہ سچی کہانی پاناما سکینڈل سے کہیں زیادہ تہلکہ خیز اور فکر انگیز نظر آتی ہے ‘ہم نے پچھلے کالم میں ریمنڈ ڈیوس کو سفید سیڈان میں سے دس گولیاں چلانے کے بعد باہر نکلتے ہوئے دیکھا تھااس نے سڑک پر دو لاشوں کی موجودگی میں ہجوم کی بے نیازی کو دیکھتے ہوئے اپنے بیگ میں سے کیمرہ نکالا اور محمد فہیم اور فیضان حیدر کے بے جان جسموں کی درجن بھر تصویریں بنائیں اس بر سر بازار قتل و غارت کے چھ برس بعداس نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے اپنی کتاب ’’ دی کنٹریکٹر‘‘ کے صفحہ اکتیس پر لکھا ہے Any time lives are lost it is tragic, but I was not going to lose a bit of sleep over killing these two men ریمنڈ نے دو انسانوں کے قتل کے فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ جب محمد فہیم نے اپنے پستول کی نالی کا رخ میری طرف کیا تو وہ ایک فیصلہ کر چکا تھا اسکے بعد ایک فیصلہ میں نے کرنا تھا ہم میں سے کوئی بھی اگر اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرنے میں ایک ملی سیکنڈ کی تاخیربھی کرتا تو اسے اپنی زندگی کی صورت میں اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی میں نے پہلی گولی چلا کر اپنی جان بچا لی یہ کوئی جرم نہ تھا دنیا میں کسی بھی جگہ ہرشخص کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے میں نے اس دن مزنگ چوک میں اسی حق کو استعمال کر کے اپنی جان بچائی‘‘ And I walked away with a clear conscience because my number one goal was to come home to my family تو کیا گھربحفاظت لوٹنے کیلئے قتل عام کرنے میں کوئی حرج نہیں اور ایسا کر دینے کے بعد ضمیر پر کسی داغ ندامت کا ہونا بھی قاتل کی شان کے خلاف ہے ہم جانتے ہیں کہ ریمنڈ کا کتا اگر کسی دن بھوکا رہ جائے تو اسکا ضمیر اسے بے خواب کر دیگا مگر دو مسلمانوں کا قتل اسکے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا اس سفاک قاتل نے اس واردات کے بعد نیند نہ کھونے اور ضمیر کے بے داغ ہونیکی بات کیوں کی اس سوال کا جواب ہمیں اسکے ذہن کے تاریک گوشوں تک لے جاتا ہے اس نے اپنی مکروہ ذہنیت کی نقاب کشائی اپنے لفظوں میں خا صی تفصیل کیساتھ بیان کی ہے کیا اسے معلوم نہ تھا کہ وہ کیا لکھ رہا ہے اس سوال کا جواب اگلے کالم میں ملاحظہ فرمائیے ۔