بریکنگ نیوز
Home / کالم / کیا جمہوریت ناکام ہوچکی ؟

کیا جمہوریت ناکام ہوچکی ؟

کئی لوگوں کے نزدیک جمہوریت مختلف اسقام کا شکار ہے اس کے تحت چلنے والی میونسپل انتظامیہ نااہل اور بدعنوان ہے اس کی مقننہ مختلف اقسام کی لابیز اور سرمایہ داروں کے تابع ہے اس کے لیڈر پہلے تو قانون ساز ی جیسے اہم کام کو خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے اور اگر وہ کبھی دیں بھی تو ان کی قانون سازی خواص دوست ہوتی ہے نہ کہ عوام دوست۔ اس کا حد سے زیادہ انحصار اس رائے عامہ پر ہوتا ہے جس کے بنانے میں گمراہ کن پروپیگنڈے اور جذباتیت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے اس میں اہم مناصب پر سیاسی رہنما اپنے منظور نظر افراد کو تعینات کر دیتے ہیں جن میں اکثر اوسط ذہانت کے مالک ہوتے ہیں سرونسٹن چرچل نے باوجود ان خامیوں کے جمہوری نظام کو دیگر نظاموں پر ترجیح دی اس کیساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر جمہوریت سے بہتر کوئی نظام دریافت کر لیا جاتا ہے تو اسے اپنانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہئے مندر جہ بالا خامیوں کے تدارک کیلئے کئی دانشوروں نے ایسی تربیتی یونیورسٹیوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ جن میں انتظامی امور ‘ ڈپلومیسی اور دیگر حکومتی امو ر سے متعلق شرکاء کو ضروری تربیت دی جائے ان یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل افراد کو میونسپل اداروں میں بھرتی کیلئے اہل قرار دیا جائے ان تربیت یافتہ افراد میں سے ہی ضروری تجربات کے بعد میئرز کی سلیکشن ہو اور پھر انہی افراد میں سے ہی سینٹ اسمبلیوں حتیٰ کہ ملک کے وزرائے اعظم وزرائے اعلیٰ کو چنا جائے آپ اگر امریکہ کے نظام حکومت پر ایک تنقیدی نظر ڈالیں تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ 1929ء سے لیکراب وہاں میئرز‘ گورنرز اور صدور کے عہدوں پر کام کرنے والے افراد کے کام کے معیار میں کافی بہتری آئی ہے۔

اس معاملے میں یورپ امریکہ اور دوسرے ممالک کے مقابلے میں کافی خوش قسمت ہے یورپ کے شہروں کے مسائل کو وہاں کی انتظامیہ احسن طریقے سے حل کرتی ہے کیونکہ اس کی تربیت صحیح انداز اور خطوط پر کی گئی ہے اس کے ہاں سوشل آرڈر کی روایات دیگر ممالک کے مقابلے میں مضبوط ہیں اور اس کے ہاں اقلیتوں کی تعداد دیگر ممالک سے قدرے کم ہے گو یورپی یونین کے قیام سے اس ضمن میں حالات ابتری کا شکار کچھ حد تک ضرور ہو ئے ہیں مغرب کاالمیہ یہ بھی ہے کہ اگرپیداواری صلاحیت سے دولت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس دولت کا بڑاحصہ پروڈکشن کے ذرائع کو مزید مشینی بنانے پر خرچ کر دیا جاتا ہے جس سے پیداوار اور استعمال کے درمیان خلیج وسیع ہو جاتی ہے اس خلیج کو کم کرنے کیلئے جب پروڈکشن گھٹا ئی جاتی ہے تو لیبر کلاس کی تنخواہوں کو کم کیا جاتا ہے ایک مرتبہ پھر دولت اور غربت کے درمیان فرق زیادہ ہو جاتا ہے اس گھن چکر سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے مغرب کے بعض ممالک نے یہ حل نکالا کہ انہوں نے سرمایہ داروں کو مجبور کیا کہ وہ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ صحت عامہ ‘سکیورٹی ‘ تعلیم اور نئے روزگار مہیا کرنے پرخرچ کریں اور ایسا کرکے کافی حد تک ان ممالک میں عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں پیدا کی گئی ہیں قصہ کوتاہ سردست خوب سے خوب تر معاشی نظام کی تلاش جاری ہے کینیڈا کے حالات دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے کہ وہاں نسلی تعصب نامی کوئی شے نظر نہیں آتی اس عیسائی ملک کا وزیر دفاع سکھ ہے تو وزیر خزانہ مسلمان اوراس کا وزیراعظم ڈنمارک ‘ ناروے اور سویڈن کے وزرائے اعظم کی طرح عام گھر میں رہتا ہے ہمارے حکمران تو بادشاہ ہیں جب ہی تو محلات نما گھروں میں رہتے ہیں اور افسوس اس بات کا ہے کہ نام لیتے ہیں اسلام کا ۔