بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / قومی ذمہ داری کا تقاضا

قومی ذمہ داری کا تقاضا

ہر شہری کے پاس نہ تو اتنا وقت ہے اور نہ ہی وسائل ہیں کہ وہ اپنے طور پر قومی معاملات سے متعلق سیاسی قیادت کے بیانات و استدلال کی حقیقت کا کھوج لگا سکے اور اس کے بعد ہر ایشوکے حوالے سے آزادانہ طور پر اپنی رائے قائم کرنے کے قابل ہو سکے ۔ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ نہ تو ہمارے حافظے اس قدر قوی ہیں کہ ماضی میں ملکی سطح پروقوع پذیر ہونے والے حالات وواقعات کے نتائج کا خیال قومی نوعیت کے کسی بھی حالیہ قضیے سے متعلق ذہن بناتے وقت پوری طرح ہم پر اثر انداز ہو سکے اور نہ ہی سلسلہ روز و شب کی اسیر زندگی ہمیں ملکی معامات پر رائے قائم کرتے وقت کچھ زیادہ غور و فکر کرنے کی اجازت دیتی ہے یوں شہریوں کی اکثریت محض جذباتی اتار چڑھاؤ‘سیاسی و سماجی وابستگیوں اور سطحی نوعیت کے دیگر عوامل کی بنیاد پر موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے تاثر قائم کر رہی ہے اب چونکہ اس امر سے بھی اختلاف ممکن نہیں کہ آج کے جدید دور میں پروپیگنڈے کی طاقت سے ذہنوں کو متاثر کرنا اورجھوٹ کو اس انداز سے پیش کرنا کہ سننے یا دیکھنے والے اسے سچ مان لیں بہت آسان ہو چکا۔

یہ بھی عام مشاہدے کی بات ہے کہ وہ لوگ جو آؤٹ سپوکن( زبان کے تیز ) ہوتے ہیں اپنی اس صلاحیت کی بنیاد پر اپنے غلط موقف کوبھی درست تسلیم کروالینے یا کم از کم مخالف کی درست بات کے حوالے سے سامعین و ناظرین کے دلوں اور ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں لہٰذایہ کہنا بھی غلط نہ ہوگاکہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں ایک عام آدمی کی سوچ کے غلط ہونے کا امکان موجود ہے ۔پشتو زبان کی ایک کہاوت کا اردو ترجمہ ہے کہ ’’جب تک سچ پہنچتا ہے جھوٹ گاؤں کے گاؤں اجاڑ چکا ہو تا ہے ‘‘قومی ذمہ داریوں کا تقاضا ہے کہ ملکی معاملات سے متعلق کوئی بھی رائے قائم کرتے وقت اور اس رائے کے زیر اثر عمل کے میدان میں آگے بڑھتے وقت مذکورہ کہاوت کو ضرور مدنظر رکھا جائے۔ ہم میں سے ہر ایک پر لازم ہے کہ وہ یہ ضرور سوچے کہ’’ کہیں میں کسی ایسے جھوٹ کا شکار بننے تو نہیں جا رہا جسکی حقیقت کھلنے پر مجھے افسوس و ندامت کے سوا کچھ حاصل نہ ہو ، کوئی ایسا جھوٹ جسکے پردے میں چھپے سچ کے سامنے آتے آتے میرا مستقبل منزل کی جانب پیش قدمی کے بجائے مخالف راستے پر گامزن ہو چکا ہو ۔ دو طرفہ الزام تراشی و بیان بازی کے شورو غل میں جب سامعین و نظرین کی سماعتیں اور بصارتیں انڈر پریشر ہوتی ہیں صورتحال کابہ نظر غور جائزہ لینا اور صحیح فیصلے تک پہنچنامشکل ہو جاتا ہے ایسے میں صورتحال کا آزادانہ طور پر جائزہ لینے کیلئے خود کو شور شرابے کے ماحول سے الگ تھلگ ر کھنا ضرور ی ہوتا ہے ، مختلف میڈیا چینلزپر جاری دھواں دھار تبصروں اور تجزیوں کا اثر لینے اور ان سے متعلق رائے قائم کرنے سے قبل انھیں پرکھنا لازمی ہے اینکرز کے انداز بیان اور اسکی پیش کردہ معلومات سے متاثر ہونے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ صحافتی اصولوں اور اقدار کی روشنی میں اس کے طرزگفتگو اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے طریقہ کار پر نظر رکھی جائے کسی بھی ٹیلی ویژن چینل نشریات کی یلغار کا شکار بننے سے قبل اس چینل کی غیر جانبداری اور آزاد ی اظہار و افکار کے تقاضوں کی روشنی میں اس کے کردار کو جانچنا بھی لازمی ہے۔

عوام کے ذہنوں کو متاثر کرنیکا باعث بنتی نشریات کا تنقیدی نظرسے جائزہ لیا جائے تو سوالوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اسفند یار ولی‘آفتاب شیرپاؤ اور جاوید ہاشمی ‘شیخ رشید سے بڑے سیاستدان ہیں لیکن آج کل قومی ایشوز پر انکی رائے کو وہ کوریج نہیں مل رہی جو شیخ رشید کے اظہار خیال کو مل رہی ہے کیوں ؟۔ کیا اسلئے کہ آفتاب شیرپاؤ اور اسفند یار ولی نے مثبت اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانامہ کیس کا معاملہ عدالت پر چھوڑ دیا جائے اور فریقین عدالت کا حتمی فیصلہ آنے تک ایک دوسرے پر الزام تراشی اور سیاسی محاذ آرائی سے گریز کریں جبکہ شیخ رشید عدالت سے باہر اپنی عدالت لگا کر فیصلہ سنا ررہے ہیں اور انتشار و افراتفری پھیلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟جس بھارتی میڈیاپر اسکی پاکستان مخالف یک طرفہ پالیسی اورتعصب کی بنا پرپاکستانی میڈیا ناقابل اعتبار کی مہر لگاچکا اسی بھارتی میڈیاکے ایک آرٹیکل جس میں کہا گیا کہ’’ نواز شریف حکومت جانے سے آرمی مضبوط ہو گی‘‘ کو بعض چینلز کا نواز ، مودی دوستی کے قابل اعتبار ثبوت کے طور پر پیش کرناکیا معنی رکھتا ہے؟مانا کہ عمومی مزاج کچھ اس قسم کا ہوچکاکہ تنقید پر مبنی اظہار خیال اور چبھتے ہوئے سوالات ذہنی تسکین کا سامان فراہم کرتے ہیں اورہر منفی پروپیگنڈے پر حقیقت کا گمان ہوتا ہے لیکن یہ بھی یاد رکھا جائے کہ اس کیفیت کے زیر اثر رہ کر عقل و شعور کوماؤف کرلیناخود کو ایک نشے کا عادی بنانے کے مترادف ہوگا۔