بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / جے آئی ٹی رپورٹ اور معیشت

جے آئی ٹی رپورٹ اور معیشت

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے گزشتہ روز پریس بریفنگ میں بتایا کہ پانامہ کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سپریم کورٹ نے بنائی ہے یہ وہ ایشو ہے جس کا فوج سے کوئی تعلق نہیں میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ فیصلہ بھی عدالت عظمیٰ نے کرنا ہے ان کا کہنا ہے کہ آرمی کے دو افسروں نے ٹیم میں اپنے فرائض ایمانداری سے سر انجام دیئے قانون پر ہر ایک کو عملدرآمد کرنا چاہئے ‘ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے حکومت کیخلاف سازش کے سوال کا تو جواب دینا بھی مناسب نہیں فوج کسی سازش کا حصہ نہیں دوسری جانب پانامہ کیس میں شریف خاندان کی جانب سے جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیئے گئے ہیں عدالت سے جے آئی ٹی کی رپورٹ مسترد کرنے کی استدعا کی گئی ہے درخواست میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رپورٹ میں غیر جانبداری کاعنصر موجود نہیں اور تحقیقاتی ٹیم نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا ہے (ن) لیگ کے رہنما دانیال عزیز کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ ابہام پر مبنی ہے۔

جس میں کوئی حتمی رائے شامل نہیں ‘ پانامہ پیپرز کی رپورٹ کے ساتھ ہی دنیا کے بعض دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سیاسی گرما گرمی شروع ہوئی جو تاحال جاری ہے جہاں تک کیس کا تعلق ہے تو اس کا فیصلہ عدالت عظمیٰ نے کرنا ہے اس میں جے آئی ٹی کے حوالے سے پا ک فوج کے ترجمان بھی اپنی بریفنگ میں صورتحال کے تناظر میں موقف واضح کر چکے ہیں معاملہ جے آئی ٹی کا ہو یا کوئی دوسرا ہمارے اداروں سے متعلق کوئی غیر ذمہ دارانہ بیانات نہیں آنے چاہئیں دوسرا یہ کہ کیس کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے ایسے میں عدالتی فیصلے کے انتظار کیساتھ ضرورت وطن عزیز کو درپیش معاشی چیلنجوں پر توجہ کی متقاضی ہے سٹاک ایکسچینج متاثر ہے ‘ بیرونی قرضے بڑھ رہے ہیں ٹیکس لگانے کی شرائط آ رہی ہیں عام شہری کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے ایسے میں ضرور ت مرکز اور صوبوں کو مل کر موثرحکمت عملی اپنانے کی ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے ۔

نئی علاج گاہوں کا قیام

صحت کے شعبے میں حکومت کی اصلاحات اور فراخدلانہ طور پر فنڈز کا اجراء ریکارڈ کا حصہ ہے ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کیلئے مراعات کا مقصد بھی سروسز کا معیار بہتر بنانا ہے حکومت صوبے میں علاج کیلئے نئے مراکز قائم کرنے کے ساتھ ہیلتھ سٹی جیسے بڑے منصوبے کا عندیہ بھی دے رہی ہے جس پر لاگت کا تخمینہ22 ارب روپے بتایا جاتا ہے نئے منصوبوں کا اجراء قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اربوں روپے کے پراجیکٹس اگر مریضوں کو ریلیف نہ دے سکیں تو اسے قومی خزانے کا ضیاع ہی سمجھا جا سکتا ہے اس وقت تمام تر حکومتی اقدامات اور بے شمار مراعات کے باوجود صوبے کے سرکاری شفاخانوں میں سروسز کا معیار کسی طور قابل اطمینان نہیں لوگ اسی طرح برآمدوں میں ایڑھیاں رگڑ تے دکھائی دیتے ہیں جبکہ غریب گھرانے اپنے اثاثے فروخت کر کے پرائیویٹ اداروں کو جانے پر مجبور ہیں حکومت نئے اداروں کے قیام کے ساتھ موجودہ سیٹ اَپ میں سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرے تو لوگوں کو خود بخو د تبدیلی کا خوشگوار احساس ہو گا‘یہی وژن وزیراعلیٰ دے بھی چکے ہیں جس پر عملدرآمد ناگزیر ہے