بریکنگ نیوز
Home / کالم / شہرت، ایک بے وفا محبوبہ

شہرت، ایک بے وفا محبوبہ


یہ کوئی کم وبیش دس برس پیشتر کا قصہ ہے کوئٹہ میں یونیسیف کا ایک سیمینار منعقد ہورہا تھا جس میں پاکستان بھر سے میڈیا کے اہم لوگ شرکت کر رہے تھے۔ سیمینار کا پہلا سیشن اختتام کو پہنچا تو ہال کے باہر برآمدے میں منتظر درجنوں لوگ جن میں زیادہ تر نوجوان طلباء اور طالبات تھے، ہمارے گرد ہوگئے۔ کوئٹہ کے مقامی اخباروں میں سیمینار میں شریک ہونے والوں کے بارے میں ایک تفصیلی خبر اس صبح شائع ہوچکی تھی چنانچہ ایک چھوٹا سا ہجوم اپنی پسندیدہ شخصیات کو دیکھنے ان سے باتیں کرنے کے شوق میں سرینا ہوٹل کے اس برآمدے میں امڈا ہوا تھا۔ کراچی سے سائرہ کاظمی، ثانیہ سعید وغیرہ آئے ہوئے تھے اور ہجوم ان کے گرد جمع ان سے آٹو گراف بکس پر دستخط لے رہا تھا۔ میرے آس پاس بھی کچھ طالبات صبح کی نشریات اور میری تحریروں کے حوالے سے ہجوم کرتی تھیں۔ آٹو گراف بکس پر دستخط کرتے ہوئے ایک بار جب میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو برآمدے کے ایک ستون سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے ماضی کے ہیرو حبیب مجھے نظر ائے۔ ایک زمانے میں وہ ایک تقریباً سپر سٹار تھے اور انہوں نے اپنے تئیں پاکستانی فلم ’’دیوداس‘‘ میں اداکاری کرکے دلیپ کمار کو بھی پچھاڑ دیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ بالکل تنہا ہیں اور عجیب یاس بھری نظروں سے ہمیں تک رہے ہیں۔ انہیں وہاں کوئی نہیں پہچانتا تھا اور میں ایک گہرے دکھ سے روشناس ہوا کہ کیا شہرت ایسی بے وفا محبوبہ ہے کہ فوراً ہی روٹھ جاتی ہے اور انسان تنہا رہ جاتا ہے۔ حبیب نے کسی زمانے میں بچوں کیلئے کوئی فلم بنائی تھی جس کے حوالے سے وہ اس سیمینار میں مدعو کئے گئے تھے۔ میں نے طالبات سے مخاطب ہوکر انہیں حبیب کے بارے میں بتایا اور ان سے کہا کہ وہ ضرور ان سے بھی آٹو گراف حاصل کریں اور میری یہ تجویز بادل نخواستہ قبول کی گئی اور وہ انہیں پہچانتی نہیں تھیں۔

ان دنوں ماضی کی بہت سی فلمی ہیروئنیں ٹیلی ویژن ڈراموں میں چھوٹے موٹے رول ادا کر رہی ہیں اور میرا دل ان کیلئے کڑھتا ہے کہ وہ کیا دن تھے جب وہ سکرین پر اپنے شعلہ بار حسن کے جلوے بکھیرتی نمودار ہوتی تھیں تو سنیما ہالوں کے اندھیرے میں غدر برپا ہوجاتا تھا۔ برقع پہن کر گھر سے نکلتی تھیں کہ اگر عوام نے پہچان لیا تو ٹھٹھ لگ جائیں گے اور مصیبت کھڑی ہوجائے گی اور آج سوائے میرے ایسے بزرگ مداحوں کے ٹیلی ویژن ڈراموں میں اداکاری کرنے والی ان ادھیڑ عمر خواتین کو اور کوئی نہیں پہچانتا اور جب ڈرامے کے اختتام پر ناموں کی فہرست چلتی ہے تو ان کا نام اداکاروں کی بھیڑ میں کہیں درج ہوتا ہے۔ اگلے روز کسی ڈرامے میں ایک شناسا شکل نظر آئی۔ یہ شکل دیبا کی تھی۔ میں نے اپنے بیٹے کو متوجہ کرکے کہا ’’دیکھو دیکھو یہ دیبا ہے۔ میں نے اسے پہچان لیا ہے۔‘‘

’’کون دیبا؟‘‘ اس نے بے اعتنائی سے کہا ’’ہمارے زمانے میں فلموں پر راج کرتی تھی اور اس کی بھولی بھالی شکل کے ہر سو تذکرے تھے بلکہ مسکراہٹ ایسی د ل پذیر تھی کہ اسے مونالیز ابھی کہاجاتا تھا۔۔‘‘ میرے بیٹے نے صرف ’’اچھا‘‘ کہا اور لاتعلق ہوگیا۔ کبھی کبھار ایکٹرس نغمہ بھی دکھائی دے جاتی ہے کسی چھوٹے موٹے رول میں اور میں کس کس کو بتاؤں کہ نغمہ جب ہونٹ سکیڑتی تھرکتی ’’سن وے بلوری اکھ والیا‘‘ گاتی تھی تو ہر سو بجلیاں گرنے لگتی تھیں۔ آخر ماضی کی یہ سپر سٹار خواتین کیوں ٹیلی ویژن کی مختصر سکرین پر مختصر رول کرتی نظر آتی ہیں۔ صرف اس لئے کہ شہرت سے لمبی جدائی برداشت نہیں ہوتی۔ اس کے دوبارہ حصول کیلئے انسان ماضی کی کمائی بھی برباد کرلیتا ہے۔ ابھی حال ہی میں مجھ سے بھی عمر میں چند برس برگزیدہ صبیحہ خانم نے ایک مرتبہ پھر ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں اداکاری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اور وہ خاتون جو سکرین پر کبھی حشر سامان ہواکرتی تھیں۔ آئے موسم رنگیلے تو چھٹی لے کے آجابالماگایا کرتی تھیں تو موسم رنگیلے کب کے بیت چکے دوبارہ نہیں آنے کے لیکن شہرت کی طلب ہیروئن کے نشے سے بھی ہزار گنا زیادہ شدت اور بے اختیاری کی ہوتی ہے۔یہ ہوس انسان کے بس سے باہر ہوتی ہے۔ڈاکٹر عمر عادل نے یہ قصہ بیان کیا تھا کہ وہ بمبئی میں ماضی کی بے مثال اداکارہ اور لاجواب گلوکارہ ثریا کا کھوج لگا کر اس بلڈنگ تک جا پہنچے جس کے ایک فلیٹ میں وہ زندگی کے آخری ایام گزار رہی تھیں، ان کی گلوکاری اور اداکاری کے کرشموں کے بارے میں کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ ’’مرلی والے مرلی بجا ‘‘ بیچ بھنور میں آن پھنسا ہے دل کاسفینہ ’ پاپی پپہیارے۔

پی پی نہ بول بیری‘‘ اور پھر غالب کی غزلیں۔ اس بلڈنگ کا رکھوالا بھی یہ نہیں جانتا تھا کہ فلاں فلیٹ میں مقیم وہ بوڑھی عور ت کون ہے۔ ثریا جو صرف اپنی جابرنانی جان کی وجہ سے دلیپ کمار کے ساتھ شادی نہ کرسکی اپنے مختصر فلیٹ میں پرانے زمانوں کے ایک شاہانہ زرق برے لباس میں، دیواروں پر سجی ماضی کی فلموں کی جہازی سائز کی تصویروں کے سائے میں ایک ایسی برھیا تھی جس کے چہرے کی ہر شکن میں گئے زمانوں کے گیت پھوٹتے تھے۔ وہ اپنے تئیں اب بھی برصغیر کے ہر شخص کے دل پر راج کرتی تھی۔ اس نے جب کہ ڈاکٹر عمر عادل رخصت ہونے کو تھے، درخواست کی تھی کہ دیکھئے میرے فلیٹ کے باہر میرے مداحوں کا ایک ہجوم ہمہ وقت جمع رہتا ہے۔ پلیز آپ اُن سے کہئے گا کہ میں ان سے مل نہیں سکتی۔ میں آرام کررہی ہوں۔ عمر کا کہنا ہے کہ جب وہ فلیٹ سے باہر آئے تو راہداری سنسان پڑی تھی، وہاں کوئی بھی نہ تھا۔

اداکار صادق علی جنہیں پرنس آف منرواٹون کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔۔ شوٹنگ کیلئے سٹوڈیو پہنچے تو کار سے باہر قدم رکھتے ایک سرخ قالین پر جس پر چلتے ہوئے وہ ریکارڈنگ سٹوڈیو تک جاتے۔ یہ سرخ قالین صرف پرنس صادق علی کیلئے بچھایا جاتا اور پھر یہی صادق علی کراچی کی بندر روڈ کے فٹ پاتھ پر دو وقت کی روٹی کیلئے سیکنڈ ہینڈ کپڑے فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہیں مرجاتے ہیں۔ اور اس کے باوجود شہرت آپ کو قائل کرلیتی ہے کہ میں تمہاری باندی ہوں۔۔میں تمہاری چوکھٹ پر بندھی رہوں گی۔ اور پھر یہ باندی آپ کو یکسر ترک کرکے کسی اور کے ساتھ بندھ جاتی ہے۔

عوامی اداکار علاؤ الدین شہرت کی بلندیوں پر’’ کس نے دئیے ہیں یہ جھمکے، کہاں سے آئے ہیںیہ جھمکے اور ’’پھنے خان‘‘ ایسی لازوال فلم کے ہیرو۔ گلبرگ میں ایک محل نما عالی شان گھر تعمیر کرکے اپنے دوستوں اور مداحوں کی ہر شب ’’خاطر‘کیا کرتے ہیں اور بے دریغ دولت لٹاتے ہیں صرف استاد دامن انہیں خبردار کرتے ہیں کہ لادے۔ کچھ آئندہ کے لئے بھی جمع کرلو لیکن علاؤالدین پرواہ نہیں کرتے، آخری عمر میں شباب کیرانوی ان پر ترس کھا کر انہیں ایک معمولی ملازمت عطا کر دیتے ہیں۔
علاؤ الدین، عوامی اداکار۔۔ فردوس مارکیٹ کے نواح میں واقع قبرستان میں دفن ہیں اور جب کبھی میں اپنے والدین اور چھوٹے بھائی کی قبروں پر جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ علاؤ الدین کی قبر پر کوئی پھول نہیں ہوتا۔ قریب ہی وحیدمراد کی قبر ہے۔