بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاسی چھلانگیں

سیاسی چھلانگیں


کہیں کسی چھوٹی جماعت میں ایک سبق پڑھا تھا جس کا عنوان تھا ابن الوقت۔ سبق میں ایک ایسے شخص کا بیان تھا جو انگریز کے ہندوستان میں ایک تاجر کی حیثیت سے آ کر یہاں پر قبضہ کرنے کے عمل کے دوران ابن الوقت جو ایک ریاست میں ایک بڑے عہدے پر متمکن ہوتا ہے پینترا بدلتا ہے اور انگریزوں کا مدد گار بن جاتا ہے۔ فتح کے بعد انگریز اُسے ایک بڑی جا گیر عطا کرتاہے۔ ہم پاکستان میں ایسے ہی ابن الوقتوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کے سچے اور مخلص رہنما تھے ۔پاکستان کے حق میں کام کرنے والے عمائدین کیونکہ سچ کے علمبردار تھے اس لئے اُن کی مسلمان عوام نے کھل کر حمایت کی اور باوجود اس کے کہ قائد اعظم بڑے بڑے مجمعوں میں انگریزی میں تقریر کرتے تھے مگر ہمارے ان پڑھ مسلمان بھی اُن کی تقریروں کو پورے دھیان سے سنتے تھے۔ ایسے ہی ایک جلسے میں کسی نے ایک مسلمان پٹھان سے سوال کیا کہ تم کو تو قائد اعظم کی تقریر سمجھ نہیں آتی تو تم کیا سننے کو آئے ہو ۔ اُس نے بھلا سا جواب دیا کہ مجھے سمجھ آئے نہ آئے مگر جو کچھ ہمارا لیڈر کہہ رہا ہے وہ سچ کہہ رہا ہے۔جب ابن الوقتوں نے دیکھا کہ محمد علی جناح مسلمانوں کا مقدمہ اس خوبصورتی سے لڑ رہا ہے کہ پاکستان کا بننا ناگزیر ہو گیا ہے تو انہوں نے اپنی اپنی پارٹیوں کو چھوڑ کر حکومتی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر لی۔

اس میں موجودہ پاکستان کے جاگیر دار پیش پیش تھے۔جب کہ عوام کی حالت زار ایسی تھی کہ وہ تو اپنے وڈیریوں جاگیر داروں کی خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے اب بھی جنوبی پنجاب اور سندھ کے دیہاتی علاقوں میں ان ہی دو مخلوق کا قبضہ ہے اور ہاری کیا اورکسان کیا اپنے جاگیرداراوروڈیرے کے خلاف کوئی بات سننے کا متحمل بھی نہیں ہوتا۔ پاکستانی سیاست میں جو ان وڈیروں اورجاگیرداروں کا قبضہ ہوا تو ابھی تک وہی لوگ ہیں جو جیتنے والی پارٹی میں گھس جاتے ہیں اور عوام پر حکمرانی کرتے ہیں۔جس پارٹی کی بھی پارٹی الیکشن کے قریب کے تجزیوں میں جیتنے کی امید ہوتی ہے یہ لوگ اُس میں گھس جاتے ہیں اور عوام ناسمجھ اُن کے اُس پارٹی کے متعلق دیئے گئے ریمارکس کو بھول جاتے ہیں اور اُن کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں ۔ اس کی وجہ تو وہی غربت ہے مگر ابن الوقت نہایت چالاکی سے پارٹی بدلتے اور ایک دفعہ پھر جیت کر عوام کے سروں پر بیٹھے ہوتے ہیں۔اب مسلم لیگ کو ہی دیکھیں کہ ا س کے اسمبلی اراکین میں اور وزرا میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو نواز شریف کے مخالفت میں پیش پیش رہے ہیں۔

ان میں بد قسمتی سے شیخ رشید اور چوہدری برادران شامل نہیں ہو سکے تاہم ان کے علاوہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو نواز شریف کے بد ترین مخالفین تھے ، نواز شریف کی حکومت میں بننے کے بعد اس میں شامل ہوئے اور عوام بھی ان کی وہ تامم باتیں بھول گئے جو وہ نواز شریف کے خلاف کرتے تھے۔۔کچھ لوگ وہ ہیں جن کو جگہ نہ مل سکی تواب ان کے لئے سوائے نواز شریف اور اُس کے خاندان کی برائیاں کرنے کے کوئی دوسرا کام نہیں رہ گیا اس لئے انکو عمران خان کی چادر تلے پناہ مل رہی ہے۔ اسی طرح کے اور بھی ابن الوقت عمران خان کے قریب ہو رہے ہیں جو کل تک عمرن خان کو منہ پر برا بھلا کہہ رہے تھے ۔ مگر کیا کریں یہ ہماری سیاست ہے کہ اپنے اقتدار کے لئے ہم ہر طرح کے لوگوں کو گلے لگا کو تیار ہوتے ہیں۔