بریکنگ نیوز
Home / کالم / زندگی کٹ رہی ہے کونے میں

زندگی کٹ رہی ہے کونے میں

مولانا فضل الرحمان صاحب نے اگلے روز سید خورشید شاہ کو اپنے ایک بیان میں سیاسی تنقیدکا نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑا خوبصورت اور ذو معنی شعر پڑھا۔وہ اس مختصر بحر میں کہے گئے شعر کو استعمال کرکے بہت بڑی بات کہہ گئے سمندر کو انہوں نے کوزے میں بند کر دیا مولانا صاحب ان معدودے چند سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں کہ جن کا ادبی ذوق اونچا ہے اپنے سیاسی مخالفین پر وہ پھبتیاں تو کستے ہیں لیکن اخلاقیات کا دامن اپنے ہاتھ نہیں چھوڑتے ورنہ آج کل تو اراکین پارلیمنٹ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف اخلا ق سے اتنی گری ہوئی زبان استعمال کرتے ہیں کہ جو سبزی منڈی یا کسی مچھلی مارکیٹ میں بھی نہیں بولی جاتی پارلیمنٹ پڑھے لکھے لوگوں کی جگہ ہے بزرگوں سے ہم نے سنا تھا کہ جب باچا خان نے اپنے فرزند غنی خان کو ولایت بھجوایا تو ان کو تاکید کی وہ وہاں اپنے قیام کے دوران روزانہ ایک آدھ گھنٹے کیلئے ہاؤس آف کامنزکی وزیٹرز گیلری میں ضرور وقت گزارے کہ اسے وہاں سیکھنے کیلئے بہت کچھ ملے گا ۔

کس طرح اراکین برطانوی پارلیمنٹ عوامی مسائل پر بولتے ہیں کس اندازسے وہ قانون سازی کرتے ہیں اور کس طریقے سے حکومتی وزراء اپوزیشن کے اٹھائے ہوئے سوالات کا جواب دیتے ہیں ہمارے پارلیمنٹ نے بھی کئی مدبر‘ بروبار ‘بارعب اور پڑھے لکھے اراکین دیکھے لیاقت علی کان ‘حسین شہید سہروردی‘ مولوی فرید‘ باقی بلوچ ‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ مولانا مفتی محمود ‘ میاں ممتاز خان دولتانہ سردار شوکت حیات خان ‘ عبدالقیوم خان ‘ حنیف رامے ‘کاؤس جی‘ عبدالحفیظ پیرزادہ ‘ کئی اور معتبر نام ذہن میں اس وقت نہیں آ رہے ان کے ادوار میں پارلیمنٹ میں بحث و مباحثے کا معیار عروج پر ہوا کرتا آج چراغ لے کر ڈھونڈو تو صرف چند ہی چہرے ایسے نظر آتے ہیں کہ جن کی باتوں سے سیاسی بلوغت ‘ رادداری‘ دور اندیشی ‘ معاملہ فہمی اور سیاسی ادراک کی جھلک نظر آتی ہے اس گلستان کا کیا عالم ہو گا ہ جس کے درخت کی ہر شاخ پر الو بیٹھ گیا ہے ایسے ویسے کیسے کیسے ہو گئیپارلیمنٹ کیا وہ کام کر رہی ہے جو اسے کرنا چاہئے ؟پانچ برس پچھلی حکومت کو لے لیجئے گا اورچار برس موجودہ حکمرانوں کے ‘ ان نو سالوں میں پارلیمنٹ نے کتنے ایسے قوانین پاس کئے کہ جو عوام یعنی عام آدمی کے مفاد یا اچھائی کیلئے تھے اور کتنے ایسے تھے کہ جن سے صرف چند مفاد پرست سیاسی اور بزنس ٹولوں کو فائدہ پہنچانا مقصود تھا ؟ اس موضوع پر تحقیقاتی جرنلزم سے متعلق صحافی ایک ریسرچ رپورٹ تشکیل دے سکتے ہیں جے آئی ٹی نے حال ہی میں سپریم کورٹ کی طرف سے وضع کئے گئے ۔

جن سوالات کے جواب مرتب کئے ان میں ظفر حجازی کا بھی ایک کیس منظر عام پر آیا ؟ اس قسم کے واقعات کو روکنے کے لئے کیا پارلیمنٹ کا فرض نہیں بنتا کہ فوری قانون سازی کیلئے اب تک بیٹھ گئی ہوتی ؟ اسی طرح چند گھنٹوں میں سٹیٹ بینک یا وزارت خزانے کی غفلت یا ملی بھگت سے پاکستان کی روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں گھٹی ۔آئندہ اس قسم کے حادثات کو روکنے کیلئے کیا پارلیمنٹ کی یہ ڈیوٹی نہیں کہ وہ مناسب پیش بندی کے لئے کوئی قانون سازی کرتی ؟ افسوس تو یہ ہے کہ جو پارلیمنٹ کا بنیاد ی کام ہے وہ تو وہ کر ہی نہیں رہی اور ادھر ادھر کے لا حاصل کاموں میں اپنا اور قوم کا وقت بھی ضائع کر رہی ہے اور ٹیکس دہندگان سے وصول کیا گیا پیسہ بھی الیکشن کمیشن اور اس سے متعلقہ امور میں اصلاحات لانے کی بھی بات ہو رہی ہے اس ضمن میں کچھ اس قسم کی باتیں میڈیا پر آئی ہیں کہ یار لوگ ایسی اصلاحات لانا چاہتے ہیں کہ ان کے بارے میں یا ان کے ذاتی اثاثوں کے بارے میں عوام الناس کو سب کچھ نہ بتایا جائے سوال بڑا سادہ ہے اگر آپ نے اپنے اثاثے ناجائز ذرائع سے نہیں بنائے تو پھر آ پ اسے پبلک کرنے سے کیوں ڈرتے ہیں عوا م سے پبلک آفس ہولڈرز صرف وہی چیزیں مخفی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو انہوں نے اپنی سرکاری پوزیشن کا ناجائز استعمال کرکے غیر قانونی طریقوں سے بنائی ہوتی ہیں مثلاً پراپرٹی ‘ بینک بیلنس وغیر ہ وغیرہ ہم پہلے بھی کئی کئی مرتبہ اس کالم کے توسط سے یہ تجویز پیش کر چکے ہیں کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں اگر ہمارا الیکشن کمیشن بھارت کے الیکشن کمیشن کے قوانین کا بغور جائزہ لیکر انہی کی طرز پر سخت گیر قسم کے قوانین وضع کرے تاکہ سیاست سے بدعنوانی کاخاتمہ ہو۔