بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / عالمی کانفرنس: سنٹرل ایشیاء اور پاکستان!

عالمی کانفرنس: سنٹرل ایشیاء اور پاکستان!

’ایریا سٹڈی سنٹر برائے سنٹرل ایشیاء‘ (یونیورسٹی آف پشاور) کے زیراہتمام ’اٹھارہ سے بیس جولائی‘ باڑہ گلی کیمپس میں ’’عالمی کانفرنس‘‘ جاری ہے‘ جس میں روس‘ چین‘ اُزبکستان‘ تاجکستان‘ ترکمنستان‘ قازقستان‘ افغانستان‘ گرغستان اور یورپی ممالک سمیت پاکستان کی مختلف جامعات سے ایسے مندوبین شریک ہیں‘ جو اِس خطے میں امن کی صورتحال‘ سیاست و اقتصادیات جیسے مربوط موضوعات کے تاریخی پس منظر اور حالات حاضرہ کی روشنی میں تجزیہ کرنے کی صلاحیت و قابلیت رکھتے ہیں۔ اِس سال ’تین روزہ عالمی کانفرنس‘‘ کا موضوع ’’ٹائم اسپیس کانفلکٹ ڈس اِنٹگریشن اِن سنٹرل ایشیاء‘‘ رکھا گیا ہے جس کے تحت کل چھ نشستیں سنٹرل ایشیاء سے متعلق عالمی طاقتوں کا کردار‘ سنٹرل ایشیاء میں علاقائی قوتوں کے مفادات‘ سنٹرل ایشیاء میں دہشت گردی و انتہاء پسندی کے اثرات‘ خطے میں امن اور معاشی تعاون جبکہ آخری سیشن میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ اور اِس کے سنٹرل ایشیاء پر اثرات جیسے موضوعات کا احاطہ ہو رہا ہے۔ پاکستان کو مرکز سمجھتے ہوئے ’وسط ایشیائی ریاستوں بشمول روس‘ افغانستان اور چین کے حوالے سے جاننے کا یہ موقع اِس لئے بھی نادر ہے کہ اِس میں ماہرین سے براہ راست سوال و جواب کے ذریعے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے وہ خدوخال وضع اور سمجھے جا سکتے ہیں۔

جن کی وجہ سے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سفارتی سطح پر زیادہ اُجاگر کیا جا سکتا ہے۔سپرئم کورٹ آف پاکستان میں جاری ’پانامہ کیس‘ کی سماعت کے سبب ذرائع ابلاغ کی توجہ اِس عالمی کانفرنس کی جانب مبذول نہیں اور اگر یہ سماعت نہ بھی ہوتی تو بھی ایسے علمی ادبی اور تحقیقی خارجہ و داخلہ موضوعاتی نشستوں کے حوالے نجی و سرکاری میڈیا زیادہ فوکس نہیں ہوتا‘سطح سمندر سے آٹھ ہزار فٹ بلندی پر یونیورسٹی آف پشاور کا ’کیمپس نمبر ٹو‘ باڑہ گلی سرسبزوشاداب ٹیلوں‘ چوٹیوں اور وادی پر مبنی قریب ساٹھ ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے ٹھنڈے موسم میں قدرت کو قریب سے مشاہدہ و مطالعہ اپنی جگہ حاصل سفر رہتا ہے۔ 1965ء سے باڑہ گلی کے مقام کو یونیورسٹی آف پشاور کے کیمپس کا درجہ حاصل ہے اور یہاں ہرسال مئی سے ستمبر تک ملکی و عالمی موضوعات پر کانفرنسوں اور تربیتی نشستوں کا انعقاد معمول کے طور پر ہوتا ہے۔ اگر ’باڑہ گلی کیمپس‘ میں جدید طرز تعمیرات کی بجائے ماحول دوست طریقوں سے رہائشی سہولیات میں اضافہ کیا جائے تو جامعہ پشاور کی تمام فیکلٹیز گرمیوں کی تعطیلات میں یہاں سما سکتی ہیں اور یوں تین ماہ درسی و تدریسی عمل میں آنے والا تعطل ختم یا کم کیا جاسکتا ہے۔ ’

ایریا سٹڈی سنٹر برائے سنٹرل ایشیاء‘ کی جانب سے ’عالمی کانفرنس‘ کے شرکاء اور غیرملکی مندوبین بھی ’باڑہ گلی کیمپس‘ کی خوبصورتی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور جب اردگرد کا ماحول خوشگوار ہو تو سوچنے سمجھنے اور غور کرنے کی قوتیں اور بھی بڑھ جاتی ہیں‘ یہی وجہ رہی کہ عالمی کانفرنس کے مقررین اور شرکاء کی دلچسپی کی سطح عروج پر دیکھی گئی‘ کانفرنس کے میزبان ڈائریکٹر ایریا سٹڈی سنٹر‘ پروفیسر ڈاکٹر سرفراز خان سب سے زیادہ مسرور دکھائی دیئے جنہوں نے کئی ماہ پر محیط خط و کتابت کے بعد اِس کانفرنس کے عملی انعقاد کو ممکن بنایا۔ اپنے تعارفی کلمات میں انہوں نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے اِسے ایک مربوط کوشش قرار دیا ’’جس کے ذریعے خطے میں آنے والی سیاسی و معاشی تبدیلیوں اور اُن کے پاکستان پر بالواسطہ یا بلاواسطہ اثرات پر غور کرنے کی سبیل فراہم کی گئی تاکہ قیام امن‘ معاشی ترقی اور استحکام کی کوششوں کے بارے میں فیصلہ سازوں اور جمہوری اداروں کی رہنمائی کی جاسکے۔‘‘ درحقیقت خارجہ اور معاشی پالیسیاں مرتب کرنے میں جامعات کا کلیدی کردار ہے اور اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں تو وہاں ’ایریا سٹڈی سنٹر برائے سنٹرل ایشیاء‘ جیسے ’تھنک ٹینک (سوچ بچار کرنے والے) ادارے (حلقے)‘ زیادہ فعال اور ہمہ وقت مصروف دکھائی دیتے ہیں