بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پانامہ پیپرز اور عوامی مسائل

پانامہ پیپرز اور عوامی مسائل

سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان نے پانامہ عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا ہے کہ رپورٹ کو تسلیم کرنا ہے یا نہیں یہ فیصلہ ٹرائل کورٹ کا ہوگا ان کا کہنا ہے کہ تفتیشی رپورٹ نہیں بلکہ سامنے آنے والے مواد پر فیصلہ ہوتا ہے ان کا کہنا ہے کہ کوئی چیز خفیہ نہیں رکھنا چاہتے ضرورت پڑی تو والیوم10 بھی کھول دیں گے جسٹس اعجاز افضل خان کا کہنا ہے کہ تحقیقات اب ختم ہے جے آئی ٹی کو صرف دفتر خالی کرنے کی مہلت دی ہے تفتیشی ٹیم کی مزید دستاویزات نہیں آسکتیں جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ منی ٹریل آج تک ایک راز ہے اصل کام اس ٹریل کا سراغ لگانا ہے جسٹس شیخ عظمت سعید کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی جو بہتر سمجھتی تھی سفارش کردی سفارش پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ عدالت کریگی اس سے ایک روز قبل بھی عدالت عظمی کے ریمارکس میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے پابند نہیں اسی روز عدالت عظمی میں وزیراعظم کے وکیل خواجہ محمد حارث نے 12 صفحات پر مشتمل اپنا جواب جمع کردیا جواب میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنے اختیارات کا ناجائز اور غلط استعمال کیا ہے ۔

‘پانامہ پیپرز کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے ساتھ وطن عزیز میں شروع ہونے والی سیاسی گرما گرمی موسم کی شدت کیساتھ ساتھ جاری ہے عدالت عظمیٰ میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آنے کے بعد سماعت شروع ہے کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے یہ فیصلہ یقیناًانصاف پر مبنی ہوگا وقت اور حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ بے یقینی اور افراتفری کی بجائے تحمل کے ساتھ فیصلے کا انتظار کیا جائے گرمی کی شدت میں جاری سیاسی گرما گرمی میں عوامی مسائل کے حل پر توجہ بھی ناگزیر ہے حکومت مرکز میں ہو یا پھر کسی بھی صوبے میں لوگ اپنی سیاسی قیادت سے بنیادی مسائل کے حل کی توقع وابستہ ہوئے ہیں یہی لوگ بجلی کی لوڈشیڈنگ ‘مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کا شکوہ رکھتے ہیں عوامی مسائل کے حل پر توجہ میں حکومت اور اپوزیشن کا کوئی سوال نہیں ہونا چاہیے منتخب قیادت کو اپنے اپنے لیول پر لوگوں کی مشکلات کے ازالے کیلئے کام کرنا ہوگا یہی عوامی اور جمہوری طرز عمل کا تقاضا ہے۔

ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ز کی خوبصورتی

سینئر وزیربرائے بلدیات و دیہی ترقی عنایت اللہ کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانے کیلئے 259 ملین روپے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے حکومت کا منصوبہ قابل اطمینان ہونے کیساتھ ڈسٹرکٹ و تحصیل لیول پر توسیع کا بھی متقاضی ہے اس کیساتھ منصوبے کو صرف خوبصورتی تک محدود نہیں رکھناچاہئے بنیادی شہری سہولیات خصوصاً پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے اقدامات بھی ناگزیر ہیں ‘انتظامی ڈھانچے میں اگر خیبر پختونخوا سمیت ملک کے کسی بھی صوبے میں ڈسٹرکٹ لیول پر علاج اور تعلیم کے ساتھ دیگر سہولیات فراہم کر دی جائیں تو صوبائی دارالحکومتوں اور ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کے اداروں پر رش کم ہوگا ہمارے ہاں دور دراز علاقوں میں طب اور دوسرے شعبوں میں ملازمین کا تقرر اور سہولیات کی فراہمی سوالیہ نشان ہی رہی ہے حکومت اگر آج بھی دور درازعلاقوں کے اداروں میں عملے کی کمی پوری کرنے کیساتھ سہولیات فراہم کر دے تو لوگ اپنے گھروں کے قریب ہی تمام سروسز پانے پر بڑے شہروں کا سفر نہیں کریں گے اس مقصد کیلئے تمام محکموں کو مل کر حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی جس کا محور علاقائی دفاتر اور مراکزکو فعال بنانا ہو۔