بریکنگ نیوز
Home / بزنس / سیکرٹری خزانہ کاقرضوں کی تفصیلات بتانے سے انکار

سیکرٹری خزانہ کاقرضوں کی تفصیلات بتانے سے انکار

اسلام آباد۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں سیکر ٹر ی خزانہ نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے جولائی2016 سے مئی 2017تک غیر ملکی اداروں سے7ارب 43کروڑ ڈالر قرض لیا گیا جبکہ اس مدت کے دوران حکومت نے تین ارب 62کروڑ ڈالر قرض واپس کیا ، چینی بینکوں سے بھی 2ارب ڈالر کا قرض لیا گیا جبکہ تقریبا گز شتہ ایک سال کے دوران بیرونی قرضوں پر 1ارب 16کروڑ ڈالر سود کی مد میں ادا کیاگیا۔

مقامی بینکوں سے12ہزار نو سو 56ارب قرض لیا گیا،مقامی بینکوں سے لیے گئے اس مدت کے د وران قرض میں 1ہزار 182ارب کا اضافہ ہوا ،جولائی2016 سے مئی 2017تک نیٹ بیرونی قرض 3ارب 81کروڑ ڈالر لیا گیا، اجلاس میں سیکرٹری خزانہ نے چینی بینکوں سے لئے گئے قرضوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا اور کہاکہ ان کیمرہ بریفنگ دے سکتے ہیں۔ بد ھ کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیلم ماونڈوی والا کی زیر صدارت ہوا۔ سینیٹر محسن عزیز نے استفسار کیا کہ2016 میں پرائیویٹ سیکٹر کو 16 فیصد قرضہ دیا گیا جبکہ 2017 میں پرائیویٹ سیکٹر کو 15.4 فیصد قرضہ دیا گیااس دوران کمیٹی چیرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ حکومت بتائے 2015 سے اب تک غیر ملکی قرضوں میں کتنا اضافہ ہوا وزارت خزانہ چار سال میں غیر ملکی قرضوں کی تفصیلات پیش کرے انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی امداد کے بارے میں نہیں بتایا گیااس دوران سیکڑٹری خزانہ نے بتایا کہ ایک سال میں غیر ملکی قرضوں میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے ،سکوک بانڈز سے ایک ارب ڈالر کا قر ض لیا گیا۔

آئی ایم ایف سے ایک ارب بیس کروڑ ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں سے دو ارب چھیاسی کروڑ ڈالر کا قرض لیا گیا سینیٹر الیاس بلور اس دوران کہا کہ حکومت ریکارڈ تعداد میں قرضے لے رہی ہے کیا حکومت پر بینکوں سے قرضہ لینے کی حد مقرر کی جائے اس پر اسٹیٹ بنک کے حکام نے کہا کہ حکومت پر کوئی حد مقرر نہیں ہے سینٹر محسن عزیز نے کہا کہ چینی قرضوں پر کتنا سود ادا کیا گیا ہے اس پر سکرٹری خزانہ نے کہا کہ چینی بینکوں سے قرضوں کی تفصیلات ان کیمرہ بریفنگ میں دے سکتے ہیں ۔

اس پر چیرمین کمیٹی نے کہا کہ اس معاملہ کو آئندہ میٹنگ میں دیکھ لیے گے جس پر خزانہ کمیٹی نے ایجنڈا آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا سینٹر محسن عزیز نے کہا کہ اپٹما کے ٹیکس ری فنڈز رکنے سے معیشت متاثر ہورہی ہے اس وجہ سے 150 ٹیکسٹائل ملز بند ہوچکی ہیں اپٹما اراکین سراپا احتجاج ہیں اس دوران ایف بی آر کے حکام نے کہا کہ اپٹما کے ٹیکس ری فنڈز کا معاملہ مفاہمت سے حل کرنا چاہتے ہیں اپٹما اور ایف بی آر کے اعداد و شمار مختلف ہے اپٹما والوں سے پوچھا ہے کہ 200 ارب روپے کے ٹیکس ری فنڈز کا نمبر کہاں سے ملاانہوں نے مزید کہا کہ 13 اگست تک اپٹما کے ٹیکس ری فنڈز جاری کرنے کی کوشش کریں گے اس مقصد کے لیے اپٹما کو اگلے ہفتے اجلاس کے لیے طلب کیا ہے ۔