بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مجھ پر الزام لگانے والا پہلے خود کو سچا ثابت کرے ٗ نواز شریف

مجھ پر الزام لگانے والا پہلے خود کو سچا ثابت کرے ٗ نواز شریف


اپر دیر۔وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ میں یہ چیز برداشت نہیں کر سکتا کہ مجھ پر کرپشن جیسے بے ہودہ الزامات لگائے جائیں،الحمداللہ مجھے اپنی عزت سب سے زیادہ پیاری ہے، مجھ پر الزام لگانے والا پہلے خود کو سچا ثابت کرے، جے آئی ٹی اور پی ٹی آئی کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس احتساب کو کوئی نہیں مانے گا کیونکہ یہ احتساب کی جگہ استحصال کیا جا رہا ہے، میں گارنٹی دیتا ہوں اسے پاکستان میں کوئی نہیں مانے گا،ہم نے فتنہ و فساد کی قوتوں کے آگے سر نہیں جھکایا، میں نے ایسے لوگوں کے سامنے سر جھکانا سیکھا ہی نہیں، میرا سر صرف خدا کے حضورؐ جھکتا ہے۔

مخالفین کو عوام نے 2002،2008 اور 2013میں ٹھکرایا، اب 2018میں بھی ٹھکرائے،یہاں دھرنوں کا سرکس شروع ہے پہلے 4مہینے شاہراہ دستور کو یرغمال بنائے رکھا گیا، آج کل مخالفین کے سرکس پر پانامہ لیکس کا بورڈ لگا ہوا ہے،یہ بورڈ بدلتے رہتے ہیں، خیبرپختونخواحکومت نیا کے پی کے نہیں بنا سکی تو نیا پاکستان کیا بنائے گی،چکدرہ سے لے کر چترال تک موٹروے طرز کی سڑک بنانا چاہتے ہیں،ہم نے چترال کو لاہور اور اسلام آباد میں ترقی سے ہمکنار کرنا ہے۔

1974میں لواری ٹنل بنانے کا اعلان اس وقت اس پر کام شروع ہوتا تو یہ40سال پہلے بن جاتا،لوگوں نے یہ ٹنل بناتے بناتے 70سال لگا دیئے، میں نے اقتدار میں آتے ہی 21ارب روپے کی لاگت سے ٹنل مکمل کیا،2013کا پاکستان بھی آپ نے دیکھا،2017کا پاکستان اس سے بہتر ہے یا نہیں،ہم نے کرپشن نہیں کی بلکہ 168 ارب روپے منصوبوں میں بچت کی ہے۔ وہ جمعرات کو اپر دیر میں لواری ٹنل کے افتتاح کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرے ان چار سالوں میں آج سب سے زیادہ خوشی کا دن ہے، میرا دل خوش ہے کہ یہ منصوبہ لواری ٹنل کا مکمل ہوا، مجھے یہاں سے زیادہ ووٹ نہیں ملا، آپ کے حلقے سے منتخب ہونے والے افتخار الدین مسلم لیگ(ن) میں آنا چاہتے ہیں، میں نے کہا کہ ابھی کچھ دیر اور رک جاؤ ہمیں کچھ کام اور کر کے دکھانے دو، یہاں پر کام ہم کر رہے ہیں یہاں کی حکومت نے نیا پاکستان بنانے کا نعرہ لگایا، ہم نے انہیں موقع دیا کہ وہ نیا خیبرپختونخوا ہی بنا دو پہلے مگر ان سے یہ بھی نہیں بن رہا۔

انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان اور نیا کے پی کے ہم بنا رہے ہیں، ہزارہ موٹروے بھی ہم نے بنائی، آج پاکستان میں جگہ جگہ بجلی کے پلانٹ لگا کر اندھیرے دور کر رہے ہیں، چترال میں خواتین کی یونیورسٹی بھی ہم ہی بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ساری سڑکیں ہم بنا رہے ہیں، چکدرہ سے لے کر چترال تک موٹروے طرز کی سڑک بنانا چاہتے ہیں،ہم نے آپ کا پیچھا اتنی جلدی نہیں چھوڑنا بلکہ چترال کو لاہور اور اسلام آباد میں ترقی سے ہمکنار کرنا ہے،یہ علاقہ پورے پاکستان سے کٹا ہوا تھا، سردیوں کے6مہینے چترال کا پاکستان سے مکمل رابطہ ختم ہو جاتا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سردیوں میں یہاں آنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا، ان لوگوں نے اس علاقے پر بہت ظلم کیا جنہوں نے یہ ٹنل بناتے بناتے 70سال لگا دیئے، میں نے اقتدار میں آتے ہی چیئرمین نیشنل ہائی وے سے کہا کہ ہم نے اس دور میں یہ ٹنل مکمل کرنی ہے چاہے اس پر 100ارب ہی کیوں نہ لگ جائیں، ہم نے اس ٹنل کو 21ارب روپے کی لاگت سے بنایا ہے، نواز شریف نے کہا کہ یہاں یونیورسٹیاں، کالج، ہسپتال اور ڈیم بنیں گے، یہاں سیاح آئیں گے اور چترال ترقی یافتہ بنے گا۔انہوں نے کہا کہ اس کو کہتے ہیں نیا پاکستان،2013کا پاکستان بھی آپ نے دیکھا،2017کا پاکستان اس سے بہتر ہے یا نہیں۔

آج نواز شریف کے احتساب کی باتیں ہو رہی ہیں جو بجلی کے پلانٹس لگا رہا ہے جو سڑکیں اور موٹروے بنا رہا ہے، جو پاکستان کے اندھیرے دور کر رہا ہے،میرے اوپر کوئی کرپشن کا داغ نہیں ہے، میں جے آئی ٹی اور پی ٹی آئی کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس احتساب کو کوئی نہیں مانے گا کیونکہ یہ احتساب کی جگہ استحصال کیا جا رہا ہے، میں گارنٹی دیتا ہوں اسے پاکستان میں کوئی نہیں مانے گا۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ 1974میں لواری ٹنل بنانے کا اعلان ہوا تھا جو صرف کاغذات تک محدود رہا، اس وقت اس پر کام شروع ہوتا تو یہ ٹنل 40سال پہلے بن جاتی اور لوگوں کی تکلیفیں دور ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے بارہا پوچھا ہے کہ مجھے بتایا جائے کہ کس چیز کا احتساب کیا جا رہا ہے، میں نے کونسے منصوبے میں سے کرپشن کھائی ہے، ہم نے کسی منصوبے میں کرپشن تو کیا کرنی الٹا ہم نے 168 ارب روپے منصوبوں میں بچت کی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں یہ چیز برداشت نہیں کر سکتا کہ مجھ پر اس طرح کے بے ہودہ الزامات لگائے جائیں، ہر انسان کو اپنی عزت پیاری ہے اور الحمداللہ مجھے اپنی عزت سب سے زیادہ پیاری ہے، مجھ پر الزام لگانے والا پہلے خود کو سچا ثابت کرے۔انہوں نے کہا کہ 2013میں دنیا کہہ رہی تھی کہ ایک سال میں پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا،پاکستان کو ایک ناکام ریاست کہا جا رہا تھا ، دہشت گردی عروج پر تھی، ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں، پاکستان میں اقتصادی بدحالی عروج پر تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ہم نے کام کا آغاز اور آپ نے دیکھا کہ یہاں پر دھرنوں کا سرکس شروع کر دیا گیا،4مہینے شاہراہ دستور کو یرغمال بنائے رکھا گیا، جمہوریت کی قبریں کھودی گئیں۔

آئین اور قانون کے کفن تیار کئے جاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب اپنے مرید لے کر آئے تھے، سب نے دیکھا پی ٹی وی، پارلیمنٹ اور ایوان صدر و ایوان وزیراعظم پر حملے ہوتے رہے لیکن ہم نے فتنہ و فساد کی قوتوں کے آگے سر نہیں جھکایا، میں نے ایسے لوگوں کے سامنے سر جھکانا سیکھا ہی نہیں ہے، میرا سر صرف خدا کے حضورؐ جھکتا ہے، علامہ اقبال صاحب کا ایک شعر ہے کہ ’’جو میں سربسجدہ ہوا کبھی،تو زمین سے آنے لگی صدا، تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں‘‘۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کل مخالفین کے سرکس پر پانامہ لیکس کا بورڈ لگا ہوا ہے،یہ بورڈ بدلتے رہتے ہیں،یہ صبح و شام استعفے کی بھیک مانگتے ہیں۔

وزیراعظم ان کے ووٹوں سے وزیراعظم نہیں بنا، ان کو استعفیٰ مانگتے ہوئے شرم آنی چاہیے،یہ کھیل تماشے بہت ہو چکے ہیں، تمہیں عوام نے 2002،2008 اور 2013میں ٹھکرایا، اب 2018میں بھی ٹھکرائے،اب چترال اور دیر کے عوام بھی ٹھکرائے گی۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ آپ لوگوں کے جذبے کو سلام ہے آپ لوگ اتنی دور سے صفر کر کے جلسے میں آئے، افتخار الدین مشرف کا واحد امید وار ہے جو 2013 کے انتخابات میں جیت سکا، وہی مشرف جس نے نواز شریف کو ہتھکڑیاں لگائی تھیں اور جیل میں ڈالا پھر سات سال کیلئے ملک بدر کر دیا تھا، الحمداللہ اس وقت بھی نواز شریف نہیں جھکا اور نہ ہی آج جھکے گا، لہٰذا میرے صبر کا امتحان نہ لیا جائے، افتخار الدین واحد امید وار ہے جو پورے ملک سے مشرف کیلئے سیٹ جیت سکا، اس پر مشرف کو مبارکباد دینی چاہیے، اس نے مجھے کہا کہ اپر دیر میں گیس کے پلانٹ دیئے جائیں، میں یہاں گیس کے پلانٹ کا اعلان کرتا ہوں، مالاکنڈ ڈویژن میں بجلی دی جائے گی، خدا آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔