بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / میڈیا پر دستاویزات لیک ہونے پر سپریم کورٹ برہم

میڈیا پر دستاویزات لیک ہونے پر سپریم کورٹ برہم


اسلام آباد۔ سپریم کورٹ نے پاناما عملدرآمد کیس میں دستاویزات عدالت میں پیش کئے جانے سے قبل میڈیا پر لیک ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا سے کہا کہ باہر میڈیا کا ڈائس لگا ہے، وہاں دلائل بھی دے آئیں،عدالت نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ حتمی نہیں ہے ،جے آئی ٹی کے نتائج پر حملے نہ کریں بلکہ ان کی دستاویزات کا جواب دیں، لکھ کر دے دیتے ہیں فیصلہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز پر نہیں کرنا،فیصلہ دستاویز پر ہونا ہے بچے منی ٹریل ثابت نہ کر سکے تو نتائج پبلک آفس ہولڈر پر مرتب ہوں گے، اگر فلیٹ بچوں کے ثابت ہوگئے تو بچوں سمیت وزیراعظم بھی بچ جائیں گے لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ساری ذمہ داری وزیراعظم کی ہی ہوگی۔

93میں بچوں کی عمریں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ فلیٹ خرید نہیں سکتے، الزام ہے کہ فلیٹ وزیر اعظم نے خریدے، درخواست گزار کہتے ہیں کہ وزیر اعظم فنڈز بتائیں،جو دستاویزات آپ آج دے رہے ہیں وہ پہلے کیوں نہیں دیں، جب سوال اٹھایا جاتا ہے تو آپ کوئی نہ کوئی دستاویز لے آتے ہیں،جے آئی ٹی کو دستاویز نہیں دیں، ہمیں نہیں دکھائی پھر کس کو دکھائیں گے، منی ٹریل کا ایک سال سے پوچھ رہے ہیں، سوال ایک ہی ہے رقم کہاں سے آئی، پوچھ رہے ہیں منی ٹریل ہے لیکن کہاں ہے،بار ثبوت آپ پر ہے جو کہ ابھی تک ہے،1993 سے آج تک لندن فلیٹس میں وزیر اعظم کے بچے رہائش پذیر ہیں، اس وقت تک ہم آمدن کا ذریعہ اور منی ٹریل نہیں ڈھونڈ سکے،پوچھتے ہیں ہم پر الزام کیا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ (نائین اے فائیو)کا الزام ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ کرپشن اور کرپٹ پریکٹس ،الزام یہ ہے کہ بچے بے نامی دار ہیں،الزام غلط اور جعلی دستاویزات دینے کے ہیں، ٹھیک ہے۔

مان لیا رقم گلف اسٹیل ملز سے گئی لیکن کیسے، ہم ڈیڑھ سال سے پوچھ رہے ہیں کہ رقم کیسے گئی ، بتائیں کیسے ، فلیٹس کے ثابت ہونے کا بوجھ پبلک آفس ہولڈر پرہوگا۔ حسن،حسین اور مریم کے اکاونٹ میں رقم آئی تو ان کو معلوم ہو گا کدھر سے آئی، قطری خط میں فلیگ شپ اور عزیزیہ سٹیل مل کا ذکر نہیں، 2006سے بینیفشل آنر ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، مریم کے بینیفشل مالک ہونے کی دستاویز موجود ہے، نیب کا سیکشن 14اے بھی پڑھ لیں، کیا قطری خاندان سے تعلق قابل قبول ہے، عدالت میں غلط دستاویزات جمع ہونا کیسے ہو گیا، ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے، یہ آپ لوگوں نے کیا کر دیا، جعلسازی پر قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔

عدالت کا وقت ختم ہونے پر سماعت آج (جمعہ) تک ملتوی کردی گئی۔جمعرات کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی پنچ نے پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پرعدالت نے دستاویزات سپریم کورٹ میں پیش کیے جانے سے قبل میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ دستاویزات بعد میں عدالت میں جمع کرائی گئیں اورمیڈیا پرپہلے آئیں جس پرسلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ میں نے اپنے طورپرجلد دستاویزات جمع کرانے کی کوشش کی جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے دستاویزات وقت پرجمع کرانے کا کہا تھا، تمام دستاویزات میڈیا پرزیر بحث رہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ایک خط قطری شہزادے کا ہے جبکہ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے میڈیا پر اپنا کیس چلایا جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میڈیا پر دستاویز میری طرف سے جاری نہیں کی گئی۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ باہر میڈیا کا ڈائس لگا ہے، وہاں دلائل بھی دے آئیں، جسٹس اعجاز الاحسن ن ریمارکس دیئے کہ ایک دستاویز قطری شہزادے اور ایک برٹش ورجن آئی لینڈ سے متعلق ہے جبکہ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ دونوں دستاویزات عدالت میں ہی کھولیں گے، تمام دستاویزات لیگل ٹیم نے ہی میڈیا کو دی ہوں گی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ قطری خط میں کیا ہے یہ علم نہیں۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ اطمینان سے آپ کی بات سنیں گے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی نے متعلقہ حکام سے تصدیق کروانا تھی، مریم کے وکیل نے عدالت میں منروا کی دستاویزات سے لاتعلقی ظاہر کی جس پر سلیمان اکرم نے کہا کہ جے آئی ٹی نے یو اے ای کے خط پر نتائج اخذ کیے، یو اے ای کے خط پر حسین نوازسے کوئی سوال نہیں پوچھا گیا جب کہ حسین نواز کی تصدیق شدہ دستاویزات کو بھی نہیں مانا گیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ مریم نواز کے وکیل نے عدالت میں منروا کی دستاویزات سے انکار کیا تھا جس پر وکیل سلمان اکرم نے کہا کہ جے آئی ٹی نے دبئی حکام کے جواب پر حسین نواز سے جرح نہیں کی۔

یو اے ای کے محکمہ انصاف کے خط کو دیکھ لیں جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے جو دستاویزات دیں، جے آئی ٹی نے ان کی محکمہ انصاف سے تصدیق کرائی جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دبئی کی دستاویزات بارے حسین نواز سے پوچھا جانا چاہیے تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ متحدہ عرب امارات سے بھی حسین نواز کی دستاویزات کی تصدیق مانگی گئی تھی۔سماعت کے دوران سلمان اکرم راجہ نے یو اے ای کی وزارت انصاف کا خط پڑھ کرسنایا اور کہا کہ یو اے ای حکام نے گلف سٹیل ملز کے معاہدے کا ریکارڈ نہ ہونے کا جواب دیا، 12ملین درہم کی ٹرانزیکشنزکی بھی تردید کی گئی، خط میں کہا گیا کہ مشینری کی منتقلی کا کسٹم ریکارڈ بھی موجود نہیں جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس میں کہا کہ یو اے ای حکام نے کہا تھا یہ مہر ہماری ہے ہی نہیں۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کچھ غلط فہمی ہوئی ہے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حسین نواز اور طارق شفیع سے پوچھا تو انہوں نے کہا ہم نے نوٹری نہیں کرایا، سب نے کہا یہ نوٹری مہر کو نہیں جانتے، اس کا مطلب یہ دستاویزات غلط ہیں، پوچھا گیا تھا کہ حسین نواز نے نوٹری پبلک سے تصدیق کروائی۔

حسین نواز نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ وہ دبئی نہیں گئے پھرکس نے نوٹری پبلک سے تصدیق کروائی، اس سے تو یہ دستاویزات جعلی لگتی ہیں جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ حسین نواز کی جگہ کوئی اور نوٹری تصدیق کے لیے گیا تھا، جے آئی ٹی نے حسین نواز پر جرح نہیں کی جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ سے پوچھ رہے ہیں اپنا موقف ہمیں بتا دیں جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ یو اے ای حکام سے سنگین غلطی ہوئی ہو گی۔

جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو چاہیے تھا تمام ریکارڈ جے آئی ٹی کو فراہم کرتے، اب آپ نئی دستاویزات لے آئے ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ ان کے کیس پراثرات ہوں گے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 12 مئی 1988 اور30 مئی 2016 کے دونوں نوٹری پبلک کودبئی حکام نے جعلی قرار دیا، دبئی حکام نے دبئی سے اسکریپ جدہ جانے کی تردید کی جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ سکریپ نہیں مشینری تھی،جے آئی ٹی نے غلط سوال کیے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اگر دبئی میں اندراج نہیں ہوتا تو دبئی کے محکمہ کسٹم کی کیا ضرورت ہے جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایک ریاست سے دوسری ریاست سامان لے جانے کا اندراج نہیں ہوتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا مشینری کی ترسیل کی دستاویز مصدقہ ہے جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت مہلت دے تو مصدقہ دستاویز بھی دے سکتا ہوں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی دی گئی دستاویز میں میٹریل کی تفصیل شامل نہیں، جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیس کب سے شروع ہوا ہے، آدھا حصہ بتاتے ہیں جس پرجسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ جو دستاویزات آپ آج دے رہے ہیں وہ پہلے کیوں نہیں دیں، جب بھی کوئی سوال اٹھایا جاتا ہے تو آپ کوئی نہ کوئی دستاویزات لے کر آجاتے ہیں۔ سلمان اکرم نے کہا کہ مشینری کی منتقلی پر پہلے کسی نے شک و شبہ کا اظہار نہیں کیا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ خلا کو وقت کے ساتھ پرکیا گیا، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ ان دستاویز کو جے آئی ٹی رپورٹ کے جواب میں لایا گیا یہ نقطہ ہم نے نوٹ کر لیا۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ آپ ٹائی ٹینک کی دستاویز لے آئیں تاکہ ہم مان لیں، نجی دستاویز میں تو یہ بھی لکھا جا سکتا ہے کہ سامان ٹائی ٹینک میں گیا، کوئی مصدقہ دستاویز لائیں، آپ کو لکھ کر دے دیتا ہوں کہ نتائج کی کوئی حیثیت نہیں اور حیثیت ہے تو ان کے میٹریل کی ہے۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی کے نتائج پرحملے نہ کریں اور ان کی دستاویزات کا جواب دیں، جس پرسلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عزیزیہ اسٹیل مل کا بینک ریکارڈ بھی موجود ہے جس پرعدالت کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ کیا فروخت کے وقت عزیزیہ پر کوئی بقایا جات تھے جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ جو بقایا جات تھے وہ ادا کر دیئے گئے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ دستاویزات کے مطابق 21ملین ریال عزیزیہ کی فروخت کے وقت بقایا جات تھے، جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ دستاویزات ذرائع سے حاصل کی گئی تھیں، جے آئی ٹی نے قرار دیا کہ عزیزیہ سٹیل مل 63ملین ریال کی بجائے 42ملین ریال میں فروخت ہوئی، 63ملین ریال کی رقم عزیزیہ کے اکانٹ میں آئی جس کا بینک ریکارڈ موجود ہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ یہ بینک ریکارڈ لے آئے ہیں تو دوسرا بھی لے آئیں جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ نقطہ یہ ہے کہ 63ملین میرے اکانٹ میں آئے اس سے آگے چلنا ہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ میری جان یہ اتنا آسان نہیں ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا عزیزیہ کے واجبات کسی دوسرے نے ادا کئے جس پر وکیل نے کہا کہ معلوم کرکے بتا سکتا ہوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حسین ، عباس اور شہباز شریف کی بیٹی عزیزیہ کے حصہ دار تھے، جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کیس کی تاریخ یہ ہے کہ خفیہ جگہوں سے ادائیگیاں ہوتی ہیں جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ جے آئی ٹی کوچاہئے تھا کہ ان پرسوالات کرتی۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ کیا اخبار میں اشتہار دے کر سوال پوچھتے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ تین حصہ دار تھے صرف حسین نواز نے عزیزیہ فروخت کی، کیا حسین نوازپہلے دونوں حصہ داروں کے شیئرز خرید چکے تھے۔

حسین نواز نے پاور آف اٹارنی آج تک جمع نہیں کرائی جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ میرا یہ کہنا ہے کہ یہ ایک خاندانی معاملہ تھا جس کا تحریری جواب موجود نہیں جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ پہلے تو کہا گیا تھا پاور آف اٹارنی موجود ہے۔دستاویزات سے ثابت کریں کہ باقی لوگوں کو حصہ دیا گیا جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جے آئی ٹی نے یہ سوال نہیں پوچھا۔ جسٹس عظمت نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ کو اخبار میں اشتہار دیکر سوال پوچھا جاتا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی میں حسین نواز نے پاور آف اٹارنی دینے کی بات کی تھی، کیا پاور آف اٹارنی ہے بھی یا نہیں جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ابھی تک سامنے نہیں آیا اس کا مطلب ہے یا نہیں ہے۔