بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / اب بات استعفے کی نہیں جیل بھیجنے کی ہے ٗ عمران خان

اب بات استعفے کی نہیں جیل بھیجنے کی ہے ٗ عمران خان

اسلام آباد ۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ نواز شریف سے استعفیٰ نہیں مانگ رہے کیونکہ یہ اڈیالہ جیل جائیں گے وہاں ان کے لیے جگہ تیار ہورہی ہے جمہوریت میں وزیراعظم جوابدہ ہوتا ہے، پاناما پیپرز میں کوئی سازش نہیں، جب یہ معاملہ سامنے آیا تو نواز شریف نے بار بار عوام سے کہا کہ وہ اپنے اور خاندان کے احتساب کے لیے تیار ہیں، نوازشریف نے قومی اسمبلی میں دستاویزات دکھائی تھیں لیکن حقیقت میں ان کے پاس کوئی دستاویز نہیں ان کے پاس وقت بہت کم ہیں، جھوٹ بولنے پر شرمندگی کی بجائے نواز شریف دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ہم احتساب مانتے ہی نہیں نواز شریف نے مجھے اور سپریم کورٹ کو دھمکیاں دیں لیکن کوئی ڈرنے والا نہیں اب بات استعفے کی نہیں جیل بھیجنے کی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پہلی بار خیبر پختونخوا میں پرائیویٹ سیکٹر بجلی کے شعبے میں آیا ہے امید ہے 2018تک خیبر پختونخوا میں چار ہزار میگاواٹ کے منصوبے شروع ہو جائیں گے انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو صنعت بند تھی کے پی کے میں دہشتگردی تھی عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کی آج کی تقریر ریکارڈ تھی گو نواز گو کے ڈر سے انہوں نے ریکارڈ کروائی مجھے احساس ہے کہ آج کل عوام کے سامنے جانا ان کے لیے مشکل ہے سمجھ نہیں آئی انہوں نے دھمکیاں کیا دی ہیں مجھے بھی دھمکی دی ہے اور سپریم کورت کو بھی دی ہے کہ ہم احتساب نہیں مانتے انہوں نے کہا کہ پاناما ایک انٹرنیشنل انکشاف تھا اس میں کوئی سازش نہیں تھی نہ ہی یہ سازش ہم نے کی سب جانتے ہیں اس کی وجہ سے دو وزیر اعظم چلے گئے کئی وزیر چلے گئے ہزاروں لوگوں کا احتساب شروع ہو گیا۔

نواز شریف نے بار بار کہا کہ میں احتساب کے لیے تیار ہوں جب احتساب شروع ہو ا دو دفعہ سپریم کورٹ ایک بار جے آئی ٹی میں گئے نواز شریف نے خود اسمبلی میں کھڑے ہو کر کاغذات لہرائے اور کہا کہ یہ ہیں وہ دستاویزات انہوں نے خود احتساب کے لیے پیش کیا جب احتساب شروع ہوا تو جعلی دستاویزات نہ پیش کیے جھوٹ بولا سپریم کورٹ میں جھوٹ بولنا بھی سزا ہے اٹارنی جنرل نے کہہ دیا ہے کہ غلط دستاویزات پیش کرنا سات سال کی سزا ہے یہ تو صاف پکڑے گئے ہیں ایک کے بعد دوسرا جھوٹ پکڑا جا رہا ہے جھوٹ پکڑے جانے پر شرم محسوس کرنے کی بجائے آپ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ہم احتساب نہیں مانتے کیا آپکو مغل اعظم ہونے کی غلط فہمی تو نہیں ہو گئی۔

نواز شریف جب جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد باہر نکلے تو کہہ رہے تھے جے آئی ٹی نے میرے سوالوں کا جواب نہیں دیا نواز شریف جواب تو آپ نے دینا تھا ان کا یہ تکبر ہے کہ ان سے سوال کرنے کی کسی میں جرآت نہیں جمہوریت کے اندر وزیر اعظم اور حکومت جوابدہ ہوتا ہے جمہوریت اور آمریت میں یہی تو فرق ہے جب ان کی کرپشن پر کوئی بات کرے تو ان کو جمہوریت یاد آجاتی ہے ۔

نواز شریف آپ کے پاس وقت کم ہے آپ کی دھمکیوں کی نہ کسی کو فکر ہے نہ خوف ہے آپ کہتے ہیں مجھ پر الزام کیا ہے 12کیسز تو آپ کے نیب میں ہیں میں دعوٰی کرتا ہوں کہ آپ کی بزنس ہی کرپشن سے ہے آپ نے جو فیکٹریاں اور کمپنیاں بنا رکھی ہیں یہ منی لانڈرنگ کا فرنٹ تھا منی لانڈرنگ ڈبل کرپشن ہے چوری کا پیسہ باہر بھیج دیتے ہیں اس طرح ملک کو دوگنا نقصان پہنچاتے ہیں کہتے ہیں الزام نہیں یاد رکھو آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے کل جو انہوں نے کئی دستاویزات دیے شام تک سوشل میڈیا نے اس کی ساری غلطیاں نکال دیں ۔

نواز شریف دھمکیوں کا وقت چلا گیا ہے اب یہ بات نہیں ہو رہی کہ آپ کو صرف نااہل ہی کیا جائے گا بلکہ آپ کے لیے اڈیالہ جیل میں جگہ تیار ہو رہی ہے اب آپ کا گھر اڈیالہ جیل میں ہے آپ دھمکیاں کس کو دے رہے ہیں اگر یہ پنجاب پولیس اور پٹواری ہٹالیں تو مجھے سڑکوں پر عوام نکال کر دکھا دیں یہ کیس سپریم کورٹ میں ہے کسی کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی باہر سے دستاویزات تصدیق ہو کر آئی ہیں ۔

دبئی کے جسٹس ڈیپارٹمنٹ بی بی آئی کمپنی کے فنانشل انوسٹی گیشن ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ مریم نواز بینیفیشری اونر ہیں یہ بھی دبئی سے ہی تصدیق ہوئی ہے کہ نواز شریف باہر کی کمپنی میں ملازم تھے قطری کے خط کی سپریم کورت نے دھجیاں اڑا دی ہیں انٹرنیشنل ایجنسیوں نے تصدیق کی ہے کہ ان کا سارا کیس ہی فراڈ تھا اب جب سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی تو اس فیصلے کے سامنے کون کھڑا ہو گا اگر کوئی کھڑا ہوتا ہے تو وہ پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کر رہا ہو گا جو خلاف ورزی کرے گا اسکی سزا واضح ہے عمران خان نے کہا کہ صرف استعفٰی نہیں مانگ رہا میں کہہ رہا ہوں کہ نواز شریف آپ جیل جائیں۔

مجھے اڈیالہ جیل کے سب امیدوار لگ رہے ہیں وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہم 2018تک چار ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے پر کام شروع کردیں گے یہ ریکارڈ ہو گا کہ ایک صوبے نے اپنی کوششوں سے اتنی زیادہ بجلی پیدا کی ہے یہ بجلی سستی بھی ہے اور ماحول دوست بھی ہے یہ بجلی بہتے ہوئے دریا سے بنائی جائے گی اور طویل مدتی ہو گی ہم بار بار کہتے ہیں کہ ہمارے صوبے میں 20ہزار میگاواٹ بجلی آسانی سے بن سکتی ہے میں وفاقی حکومت سے کہتا ہوں کہ ملک کی بہتری اور لوگوں کی آسانی کے لیے اس پر سب کو توجہ دینی چاہیے تا کہ بجلی بھی سستی ہو اور 24گھنٹے میسر رہے کے پی کے کی معیشت دوسرے صوبوں سے بہتر ہوئی ہے۔