بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / کوٹ لکھپت جیل کا قیدی

کوٹ لکھپت جیل کا قیدی

کوٹ لکھپت‘ شاہی قلعہ اور اڈیالہ کی رسوائے زمانہ جیلیں قیدیوں پراذیت ناک تشدد کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہیںیوں تو میانوالی‘ سکھر‘ ڈیرہ اسماعیل خان اور کوئٹہ کی جیلیں بھی ظلم ڈھانے میں کسی سے کم نہیں مگر لاہور اور راولپنڈی کے عقوبت خانے نامی گرامی سیاستدانوں کو ٹارچر کرنیکی وجہ سے بھی مشہور ہیں ان زندانوں میں بڑے بڑے جیداروں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے مگر چشم فلک نے کوٹ لکھپت جیل میں ایک ایسے قیدی کو بھی دیکھا جس نے اسکے ہیبت ناک سپرنٹنڈنٹ کو پورے اٹھائیس دنوں تک جوتے کی نوک پر رکھا اس قیدی نے اپنی کتاب ’’دی کنٹریکٹر‘‘ کے صفحہ 118 پر لکھا ہے ’’ لاہور کی خوفناک کوٹ لکھپت جیل چار ہزار قیدیوں کیلئے بنائی گئی ہے مگر اس میں اس سے چار گنا زیادہ قیدی رہتے ہیں اسکے اندر ہونے والا بے پناہ تشدد ان مظالم سے کہیں زیادہ ہے جو اسکی چار دیواری کے باہر ہو تے ہیںیہاں کئی قیدی ایک دوسرے کو قتل کر دیتے ہیں‘ کئی جیل کے سپاہیوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں اور کئی عدالت کے حکم پر پھانسی کر دےئے جاتے ہیں یہ وہ جگہ ہے جہاں امید‘ خواہش اور سزا یافتہ مجرم مرنے کیلئے آتے ہیں‘‘ریمنڈ ڈیوس نے لکھا ہے کہ اسے اس جیل میں الگ کمرہ ملا ہوا تھاجہاں اسے Starbuck کی کافی‘ Mcdonald کے کھانے اور اسکی پسندیدہ M&M چاکلیٹ بھی ملتی تھی اس جیل میں لاہور کے امریکی قونصلیٹ کی کونسل جنرل Carmela Conroy ہر روز اپنے سٹاف کے دو چار بندوں سمیت ریمنڈ ڈیوس سے ملنے کیلئے آتی تھی کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی یہ ملاقاتیں ہر روز جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں ہوتی تھیں۔

ان ملاقاتوں میں ریمنڈ‘ کارمیلا اور سپرنٹنڈنٹ‘ جسکا نام کتاب میں نہیں لکھا ہوا‘کے درمیان ہونیوالے بعض مکالموں کا احوال مصنف نے مزے لے لے کر لکھا ہے اس ذکر سے پہلے ایک اہم واقعے کا بیان ضروری ہے ریمنڈ کہتاہے کہ اسکے cell میں ایک دن جیل کے ڈاکٹر نے اسکے ساتھ گپ شپ لگاتے ہوئے پوچھا Do you know who Aafia Siddiqui is? آگے لکھاہے ’’میں لیڈی القاعدہ کو اچھی طرح جانتا تھامگر میں اسکے بارے میں کچھ کہنا نہ چاہتا تھا اسے پاکستان میں ایک محترم اور مظلوم شخصیت سمجھا جاتا ہے اسلئے میں نے صرف اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا ‘‘ اسکے بعد اگلے دو صفحوں پر عافیہ صدیقی کی کہانی لکھنے کے بعد اس نے یہ رائے بھی دی ہے کہ وہ ایک ’’ناکام دہشت گرد ہونے کے علاوہ قدرے احمق بھی تھی‘‘ریمنڈ لکھتا ہے کہ جب ڈاکٹر نے اسے دو قیدیوں کے تبادلے کی تجویز پیش کی تو اسے بالکل حیرانی نہ ہو ئی ڈاکٹرنے ریمنڈ سے کہا کہ وہ اگر اپنے لوگوں سے یہ تجویز منوا لے تودو چار دنوں میں اسکی رہائی ہو سکتی ہے امریکی کنٹریکٹر نے لکھا ہے کہ اس نے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ اسکی یہ بات اپنے افسروں تک پہنچا دے گا۔

اسکے بعد جب کارمیلا ملاقات کیلئے آئی تو اسکے ساتھ دودیگرامریکی بھی تھے اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ‘ اسکا سٹاف اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے افسر بھی موجود تھے اس مجمع میں ریمنڈ نے کہا ” Hey, Carmela, I said loud enough for everyone in the room to hear, do you know who Aafia Siddiqui is ?” اس نے لکھا ہے کہ کارمیلا اچانک ایک convicted terrorist یعنی سزا یافتہ دہشتگرد کا نام سن کر تذبذب میں پڑ گئی اس نے یوں yes کہا جیسے جواب دینے کی بجائے سوال پوچھ رہی ہوکمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی سب لوگ یہ نام سن کر میری طرف متوجہ ہو گئے میں نے کہا کہ مجھے یہ تجویز دی گئی ہے کہ ہم اگر عافیہ صدیقی انکے حوالے کر دیں تو یہ دو چار دنوں میں مجھے رہا کر دیں گے میں نے کارمیلا سے پوچھا کہ کیا اسے اس تجویز کا پتہ ہے اس نے جواب دیا کہ ہاں اس سے بھی یہ بات کی گئی ہے ریمنڈ لکھتا ہے اسکا جواب سن کر میں نے کمرے میں چاروں طرف یہ جاننے کیلئے دیکھاکہ سپرنٹنڈنٹ اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے لوگ میری طرف متوجہ ہیں یا نہیں اسکے بعدمیں نے کہا Let me just say this . Dont you F—-G do it. Dont let them release a convicted terrorist I have big shoulders I can bear this burden” کارمیلا نے مسکراتے ہوئے کہا کہ تم فکر نہ کرو میں تمہارا یہ پیغام پہنچا دوں گی آگے لکھا ہے کہ اسکی یہ بات سن کر سپرنٹنڈنٹ اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں کا رنگ فق ہو گیا۔

جیل کے دفتر میں آئے روزہونے والے اس قسم کے مکالموں کا ذکر پڑھ کر مولا جٹ اور نوری نت کے ڈائیلاگ یاد آ جاتے ہیں جیل سپرنٹنڈنٹ تو ہمارے معاشرے اور ہماری فکشن کا وہ کردار ہے جسکے سامنے ہماری پنجابی اورپشتو فلموں کے خونخوار ولن بھی خاموش رہتے ہیں ریمنڈ ڈیوس نے ہمارے ایک لارجر دین لائف کردار ہی کو بھیگی بلی نہیں بنایا اس نے ہمارے ذہن میں صدیوں سے جاگزیں کئی ڈھکوسلوں(Myths)کو بھی ریزہ ریزہ کر دیا ہے ریمنڈ نے ایک معمولی کنٹریکٹر ہوتے ہوئے بھی ایسا کیوں کیا اس سوال کا جواب اس نے بڑی تفصیل کیساتھ دیا ہے اسکا ذکر آگے آئے گا بات کوٹ لکھپت جیل کی ہو رہی ہے اس جیل پر اس سے زیادہ برا وقت نہیں آ سکتا کہ اسکا ایک قیدی اس میں پورے اٹھائیس دن رہنے اور سپرنٹنڈنٹ کی منت زاری اور ترلوں کے باوجود اپنے فنگر پرنٹس دینے سے انکار کردے سپرنٹنڈنٹ نے یہ درخواست قیدی سے کئی مرتبہ کی ایکدن ملاقات کے اختتام پر جب کارمیلا جانے لگی تو سپرنٹنڈنٹ نے اس سے کہا کہ وہ مجھ سے کئی مرتبہ فنگر پرنٹس کا کہہ چکا ہے مگر میں انکار کر دیتا ہوں اسکی بات سنتے ہی کارمیلا نے بپھر کر کہا ” No, Do not ask me about fingerprinting him again. Mr Dvis has diplomatic immunity” آپ اسے فوراً ہمارے حوالے کر دیںEnd of discussion اس سے آگے ریمنڈ نے لکھا ہے ’’ سپرنٹنڈنٹ یہ سنتے ہی منجمد ہو گیا اور وہ سر جھکانے سے زیادہ کچھ بھی نہ کر سکااسکے چہرے کا رنگ بتا رہا تھا کہ اسکے بدن میں سانس نہیں رہی اور وہ پھیپھڑوں میں ہوا کی واپسی کا انتظار کر رہا ہے تا کہ سانس لے سکے جہاں تک تعلق ہے اس سوال کا کہ ایک قیدی اتنے دھڑلے سے سپرنٹنڈنٹ کی سبکی کیسے کر سکتا ہے تو اسکے بارے میں مصنف نے صفحہ 142 پر لکھا ہے کہ ایک دن کارمیلا نے جیل کے بھرے ہوئے کمرے میں آواز اونچی کرتے ہوئے کہا کہ اگرمسٹر ریمنڈ کو رہا نہیں کیا جاتا تو ہم کیری‘ لوگر برمن امداد پیکج کے 500 ملین ڈالر فوراًروک دیں گے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ریمنڈ کے کوٹ لکھپت جیل میں شور فساد اور طنطنے کی اصل وجہ وہ ڈالر ہیں جو امریکہ بھیجتا رہتا ہے یہ امداد نہ لینے کے باوجود ہم امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے مگر اس صورت میں چار ہزارریمنڈڈیوس ہم سے ویزے لیکر ہماری سر زمین پر نازل نہیں ہو سکتے (ریمنڈ کی رہائی کی تفصیل اگلے کالم میں ملاحظہ فرمائیے)