بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بھارتی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب

بھارتی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب

پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ بھارتی رویہ خطے کے امن کے لئے خطرہ بن چکا ہے بھارت کی جانب سے ایل او سی پر اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ روز بھارتی فوج کی مختلف سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک جوان اور 2 شہری شہید ہوئے جبکہ2 فوجی اور 5 شہری زخمی ہوئے۔ پاک فوج کی موثر اور بھرپور جوابی کاروائی میں دشمن کے متعددمورچے تباہ ہوگئے، جس کے نتیجے میں5 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لئے ہیں۔ دفتر خارجہ کا بھی کہنا ہے کہ بھارت ایل او سی کی خلاف ورزیوں کے ذریعے دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں دراندازی کا تاثر دینا چاہ رہا ہے۔ نفیس ذکریا واضح کر رہے ہیں کہ بھارت نے ماضی میں بھی اس طرح کی کوششیں کیں مگر ناکام ہوا ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہاپسندی اور عدم برداشت بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کررہی ہے۔ صرف گزشتہ6 دنوں میں 9کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ اس سب کے ساتھ پاکستان میں گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اعترافات بھارتی کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔

بھارت سی پیک کے نتیجے میں پاکستان میں معاشی استحکام اور بہت بڑی سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی متعدد مرتبہ اپنے خدشات کا اظہار کرچکا ہے بلکہ بھارتی قیادت تو اس منصوبے کے حوالے سے مسلسل پریشان حال دکھائی دیتی ہے اس سارے منظرنامے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری کو خطے میں امن واستحکام کے لئے پاکستان کے کردار کے تناظر میں نہ صرف بھارت کے رویے بلکہ افغانستان سے آنے والے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور بے بنیاد الزامات سے بھی آگاہ کیاجائے۔ اس کے لئے ایک موثر حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔

مکانات کی الاٹمنٹ میں میرٹ؟

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس قیصر رشید نے سرکاری ملازمین کو رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ میں میرٹ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت عالیہ میں کیس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ ملازمین پچیس پچیس سال تک سرکاری مکان کی الاٹمنٹ کا انتظار کرتے ہوئے رہائش گاہ کی خواہش کے ساتھ ہی ریٹائر ہوجاتے ہیں۔ ملازمین کی مشکلات اس بات کی متقاضی ہیں کہ سٹیٹ آفس اور دیگر متعلقہ دفاتر سرکاری مکانات کیلئے آنے والی درخواستوں کی روشنی میں میرٹ لسٹ فوراً جاری کریں۔

اس کے ساتھ ہی مستقبل قریب میں خالی ہونے والی رہائش گاہوں کی لسٹ کے مطابق ایڈوانس میں الاٹمنٹ کی جائے تاکہ کسی کو میرٹ کی خلاف ورزی کا شبہ نہ رہے۔ا س سب کے ساتھ سرکاری رہائش گاہوں کی تعداد میں فی الفور اضافے کیلئے بھی منصوبہ بندی کی جائے۔ ضرورت ملازمت سے ریٹائرمنٹ پر ملازمین کو سرچھپانے کیلئے رہائش گاہ دینے کی بھی ہے جس کیلئے کم از کم پلاٹ ضرور دئیے جانے چاہئیں۔ خیبر پختونخوا حکومت اگر پنشنرز کیلئے یہ اقدام اٹھالیتی ہے تو یہ دوسرے صوبوں کیلئے رول ماڈل ہوگا۔