بریکنگ نیوز
Home / کالم / مکافات عمل

مکافات عمل

کرپشن کے لفظ کا استعمال اتنے وسیع پیمانے پر اس ملک میں ہوا ہے کہ اسے سنتے ہوئے اب تو لوگوں کے کان پک چکے ہیں ایک انگریزی لکھاری نے لکھا ہے کہ ہر فرنگی انگلستان کے غیر یقینی موسم سے تنگ ہے اور وہ اس کی فریاد کرتارہتا ہے پر کوئی بھی نہیں بتاتا کہ آخر اسے ٹھیک کیسے کیا جائے یہی حال وطن عزیز میں کرپشن کے کرتوتوں کا بھی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن اس ملک کے رگ وپے میں سرایت کرچکی ہے پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے ختم کیسے کیاجائے، یہ جو لوگ ایوان اقتدار میں ہیں یا پھر وہ جو ایوان اقتدار میں گھسنے کیلئے بے تاب ہیں ان سے تو کم ہی یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اس لعنت عظیم کا خاتمہ کرسکیں گے سپریم کورٹ سے ہی اب عام آدمی کی توقعات وابستہ ہیں کہ وہ نہ صرف پانامہ کیس میں دلیری کا مظاہرہ کرکے قومی خزانہ لوٹنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی جبکہ اس کے بعد دیگر پر بھی ہاتھ ڈالے گی جو دوسری سیاسی پارٹیوں میں ہیں کیونکہ احتساب کو بلاامتیاز وتمیز ہونا چاہئے، یقین کیجئے اگر ایک مرتبہ ایسا ہوگیا اور اس ملک کی سیاست‘ بیوروکریسی‘ میڈیا اور دیگر اداروں میں بیٹھی ہوئی کالی بھیڑوں کو الٹا لٹکا دیاگیا تو اس سے نہ صرف یہ کہ اس ملک سے تمام گندصاف ہوجائیگا بلکہ یہ ملک انار کی سے بھی بچ جائیگا لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد بڑھ جائیگا اور وہ پھر سڑکوں کو کسی بھی احتجاج کیلئے بند کرنے کی بجائے عدالتوں کا رخ کیا کریں گے، پانامہ کیس کا فیصلہ جلد آنا اس لئے ضروری ہے کہ تقریباً ایک سال سے اس ملک میں کوئی کام نہیں ہورہا تمام سرکاری محکمے ٹھپ ہو گئے ہیں۔

ملک کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے پاکستان کے دشمن ممالک سی پیک کے مستقبل پرسوالیہ نشان اٹھا رہے ہیں اس خطے میں بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے کہ جس کے برے اثرات وطن عزیز پر بھی پڑ سکتے ہیں وزیراعظم صاحب کے پاس وزارت خارجہ کا بھی قلمدان ہے وہ چونکہ پانامہ کیس میں الجھے ہوئے ہیں وہ خارجہ امور کو مناسب وقت نہیں دے پارہے ان کا ذہن صرف پانامہ کیس پر فوکس ہے اور یہ صورتحال دیر تک برداشت نہیں کی جاسکتی وزیراعظم صاحب کی مثال کشتی میں بیٹھے ہوئے اس مسافر کی طرح ہے کہ جو اسے ڈوبنے سے بچانے کیلئے ہاتھ پیر مارہا ہے، سردست تو وہ اپنے سیاسی حلیفوں سے بھی مشاورت کررہے ہیں۔

اس مشکل گھڑی میں اگر وہ ان کی معاونت کریں گے تو بدلے میں ان سے بے پناہ مالی اور سیاسی فوائد بھی حاصل کریں گے کہ جس طرح ماضی میں بھی انہوں نے حاصل کئے سوائے پی ٹی آئی کے باقی کوئی سیاسی جماعت فی الحال فوری الیکشن نہیں چاہتی کیونکہ ابھی الیکشن کی تیاری کسی کی بھی نہیں، پی پی پی کو تو الیکشن کیلئے منظم ہونے کیلئے کم ازکم ایک سال درکار ہے، کم وبیش یہی حال دیگر اہم سیاسی جماعتوں کا بھی ہے ایک بات تو طے ہے کہ اس ملک کے جن جن لیڈروں نے ناجائز طریقوں سے دھن بنایا ہے وہ سامنے آچکے ہیں وہ اللہ کی پکڑ میں آچکے ہیں اور غالباً اسی کو مکافات عمل کہتے ہیں، کل تک اس ملک کا عام آدمی یہ سوچتا تھا کہ قانون اور سزا صرف غریب کیلئے ہے امیر اس سے مبرا ہے، آج یہ ثابت ہوگیا کہ نہیں اگر عدلیہ آزاد ہو تو کوئی شخص قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتایہ بھی ثابت ہوگیاکہ سرکاری اداروں میں دیانتدار افراد کی کمی نہیں ورنہ جے آئی ٹی کے اراکین کب کے بک چکے ہوتے اب ان کو اور ان کے اہل خانہ کو مناسب سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ جو لوگ قانون کے شکنجے میں پھنس چکے ہیں وہ انکو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرے گا۔