بریکنگ نیوز
Home / کالم / سکیورٹی اداروں کی تطہیر؟

سکیورٹی اداروں کی تطہیر؟


کوتاہی اور غلطی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے مسئلہ یہ ہے کہ قومی سطح پر فیصلہ سازی کرنے والے حساس نہیں بلوچستان حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بننے والے پولیس ٹریننگ کالج میں حفاظتی انتظامات مثالی نہیں تھے جبکہ موجودہ خطرات کے پیش نظر سکیورٹی غیرمعمولی ہونی چاہئے تھی۔ یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ ہمارے دشمن بھارت نے پاکستان کو داخلی طور پر کمزور کرنے کے لئے بالخصوص بلوچستان کو اپنا ہدف بنایا ہوا ہے‘ جہاں بھارتی ایجنسی ’را‘ کا نیٹ ورک دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں مصروف رہتا ہے اور بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد ’را‘ کے ذریعے ہماری سلامتی کمزور کرنے کی سازشیں بے نقاب بھی ہوچکی ہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خود بھی بلوچستان میں مداخلت کا اعتراف کرچکے ہیں اور پاکستان کی سلامتی کے درپے علیحدگی پسند عناصر کو کمک پہنچانے کا عندیہ دے چکے ہیں یقیناًاپنے مکار دشمن سے ہمیں کسی خیر کی توقع نہیں اور اس نے ہم پر وار کرنا ہی کرنا ہے جس کا اس کی جانب سے اظہار بھی ہوتا ہے تو ہمیں اسی تناظر میں ماضی کے دہشت گردی کے واقعات کی روشنی میں تمام سکیورٹی لیپس پر قابو پا کر فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنانا چاہئے تھااگر دشمن ہمہ وقت الرٹ اور سازشوں میں ہمہ تن مصروف ہے تو ہماری جانب سے معمولی سی غفلت بھی ہمارے لئے زہرقاتل بن سکتی ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ کی برہمی اپنی جگہ درست ہے مگر کیا محض برہمی کا اظہار ہی ہوتا رہے گا یا اصلاح احوال کی جانب بھی کوئی توجہ دی جائے گی اس تناظر میں کوئٹہ کی دو روز قبل کی سفاکانہ دہشت گردی پر صوبائی اور وفاقی حکومت اور ان کے ماتحت انتظامی مشینری سمیت کسی کو بھی بری الذمہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔

کوئٹہ میں چند ماہ قبل وکلاء برادری کے ساتھ ہونیوالی دہشت گردی کی سنگین واردات کے بعد تو سکیورٹی انتظامات میں کسی جھول یا کوتاہی کی گنجائش ہی نہیں رہ گئی جبکہ ہماری سلامتی کیخلاف بھارتی سازشوں میں افغانستان کے معاون بننے پر تو ہمارے سکیورٹی اداروں اور فورسز کی پوری توجہ صرف سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے پر مرکوز ہونی چاہئے تھی مگر ایسا نہیں ہواآج بلوچستان حکومت ٹریننگ کالج میں سکیورٹی کے ناقص انتظامات کا اعتراف کررہی ہے اور وفاقی وزیر داخلہ اس کوتاہی اور غفلت پر ذمہ داروں کو برطرف کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں مگر کیا اس سے ارض وطن کے ان مظلوموں کے زخم مندمل ہو سکتے ہیں جن میں اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے اٹھاتے اب رونے کی سکت بھی نہیں رہی؟ شہداء کے لواحقین کو طفل تسلیوں‘ خالی خولی ہمدردی کے اظہار اور زرتلافی کی اشتہار بنا کر دی جانے والی معمولی سی رقم سے اب مطمئن کیا جا سکتا ہے نہ بہلایا جا سکتا ہے چنانچہ آج حکمرانوں پر مبینہ بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے انگلیاں اٹھ رہی ہیں تو انہیں اب اس حوالے سے بھی قوم کے روبرو جوابدہ ہونا پڑے گا کہ ملک کی تمام قومی سیاسی اور عسکری قیادتوں کے اتفاق رائے سے دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے جامع نیشنل ایکشن پلان تیار کرنے کے باوجود ہمارے سکیورٹی انتظامات میں ایسی خامیاں کیوں ہیں جن سے دہشت گردوں کو فائدہ مل رہا ہے اور وہ ہمیں نشانہ بنا کر انہیں اپنے مکروہ عزائم کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔

سفاک دہشت گرد اپنے اندرونی یا بیرونی سرپرستوں کے اشارے پر بدستور ہمارے سکیورٹی انتظامات اور اداروں کو چیلنج کررہے ہیں اب اپنی کمزوریوں کا محض اعتراف کرنے اور ماتم کناں رہنے کا ہرگز وقت نہیں بلکہ سکیورٹی اداروں میں موجود ہر خامی کو دور کرنے کیلئے عملیت پسندی کیساتھ جت جانیکی ضرورت ہے۔ قوم دہشت گردی کی ہر واردات کے بعد سیاسی اور عسکری قیادتوں کے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں دہشت گردی کے خاتمہ کے عزم کے باربارکے اعادہ سے عاجز آچکی ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ مکمل مایوسی اور بدگمانی کی نوبت نہ آنے دی جائے اور ملک اور عوام کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے ہر شخص کے خلاف بلاامتیاز اور فوری آپریشن کرکے دہشت گردی کے ناسور سے ملک اور قوم کو نجات دلا دی جائے۔