بریکنگ نیوز
Home / کھیل / چیمپیئنز ٹرافی: انعامی رقم کے بٹوارے پر کھلاڑیوں میں اختلافات

چیمپیئنز ٹرافی: انعامی رقم کے بٹوارے پر کھلاڑیوں میں اختلافات

چیمپیئنز ٹرافی 2017 کی فاتح قومی ٹیم کی پذیرائی کیلئے تقریبات کے انعقاد اور انعامات کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے لیکن انعامات کی یکساں تقسیم نہ ہونے پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔

گزشتہ ماہ بھارت کو یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست دے کر پہلی مرتبہ چیمپیئنز ٹرافی جیتنے والی پاکستانی ٹیم پر انعامات کی بارش شروع ہو گئی اور پہلے وزیر اعظم کی جانب سے کھلاڑیوں کیلئے فی کس ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا اور پھر اس کے بعد 22کروڑ روپے کی ایونٹ کی انعامی رقم بھی کھلاڑیوں میں تقسیم کر دی گئی۔

صرف یہی نہیں بلکہ آرمی چیف نے ٹیم کو عمرے پر بھیجنے کا اعلان کیا جبکہ دیگر اداروں کی جانب سے بھی تقریبات کا انعقاد کر کے کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی جبکہ بڑے بڑے اداروں نے ان کیلئے انعامات کا بھی اعلان کیا۔

تاہم کھلاڑیوں میں اختلافات کا پہلا نظارہ اس وقت دیکھنے میں سامنے آیا جب بول نیٹ ورک نے فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں کو مدعو کیا اور ٹیم کیلئے ایک کروڑ روپے کا اعلان کیا جس میں سے ایک بڑا حصہ کپتان سرفراز احمد کیلئے رکھا گیا لیکن کپتان نے کھلاڑیوں کے حق میں کھڑے ہوتے ہوئے رقم کی یکساں تقسیم کا کا مطالبہ کیا جس سے یہ بات وہیں دب گئی۔

البتہ بحریہ ٹاؤن کی جانب سے منعقدہ تقریب اس سلسلے میں نقطہ آغاز ثابت ہوئی جہاں بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض نے ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کیلئے 10لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا لیکن کپتان سرفراز اور فائنل کے مین آف دی میچ فخر زمان کو ایک کنال کا پلاٹ بھی دیا گیا جس پر کھلاڑیوں میں بے چینی صاف نظر آئی۔

اکثر کھلاڑیوں کو امید تھی کہ ان کو بھی پلاٹ دینے کا اعلان کیا جائے گا لیکن ایسا نہ ہوا اور تقریب کے دوران اس معاملے پر ٹیم کے چند اراکین نے چہ مگوئیاں شروع کر دیں۔

پھر فاتح ٹیم کو ہاشو گروپ کی جانب سے تقریب میں مدعو کیا گیا جس میں سرفراز احمد کو پانچ لاکھ اور بقیہ کھلاڑیوں کو تین تین لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا جس پر چند کھلاڑیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا لیکن جمعرات کو مقامی مال کی جانب سے منعقدہ تقریب میں شدید بدنظمی اور ٹیم میں بٹوارے کی عملی منظر کشی دیکھنے کو ملی۔

ہوا کچھ یوں کہ سینٹورس مال کے مالک نے کپتان سرفراز کیلئے ایک کنال پلاٹ، فخر زمان کو پانچ لاکھ روپے جبکہ دیگر کھلاڑیوں کو فی کس دو لاکھ روپے کا اعلان کیا جس پر کھلاڑی آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے غیر مناسب مینجمنٹ کا الزام عائد کر کے تقریب کے بائیکاٹ اور گروپ فوٹو کھنچنوانے کا اعلان کردیا جبکہ اکثر نے دو لاکھ روہے کے چیک بھی واپس کر دیے۔

قومی ٹیم کے قریبی ذرائع نے تقریب کے دوران کھلاڑیوں کے نامناسب رویے اور چیک واپس کیے جانے کی تصدیق کی۔

اس تمام تر صورتحال پاکستان کرکٹ بورڈ بھی خاصا پریشان ہے اور امید ہے کہ اس معاملے پر جلد چیئرمین پی سی بی شہریار خان کپتان سمیت ٹیم کے دیگر اراکین کو اعتماد میں لیں گے تاکہ کھلاڑیوں کے درمیان اختلافات ہونے سے قبل ہی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔

لیکن اس تمام تر واقعے میں کسی حد تک بورڈ کو بھی ذمے دار قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ ایونٹ کو ختم ہوئے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور کھلاڑی ابھی تک تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں بورڈ سے کسی بھی قسم کی اجازت لیے بغیر کھلاڑیوں کو مدعو کیا جا رہا ہے جس کے سبب اس طرح کے ناخوشگوار حالات پیدا ہو چکے ہیں۔

ایسی صورت میں بورڈ کو چاہیے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے کھلاڑیوں کو مزید کسی تقریب میں شرکت سے روک دے اور کھلاڑیوں سے رابطے کر کے انہیں بریفنگ دی جائے ورنہ بصورت دیگر صورتحال اس نہج پر نہ پہنچ جائے کہ کھلاڑیوں کے درمیان اختلافات سے قومی ٹیم کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائے۔