بریکنگ نیوز
Home / دلچسپ و عجیب / نیند میں سانس رک جانے کے مرض میں مبتلا بچہ

نیند میں سانس رک جانے کے مرض میں مبتلا بچہ


ایک بچہ غیرمعمولی اور پراسرار مرض کے ساتھ پیدا ہوا جس میں نیند کے دوران سانس لینے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، ڈاکٹروں نے پیدائش کے بعد کہا کہ یہ بچہ بمشکل 6 ہفتوں تک زندہ رہے گا لیکن اب وہ 18 برس کا ہو چکا ہے اور اس پر خود ڈاکٹر بھی حیران ہیں۔

لیام ڈربی شائر ایک مرض سینٹرل ہائپو وینٹیلیشن یا ’اونڈائن (کرس) بددعا‘ کے شکار ہیں۔ یہ مرض بہت نایاب ہے اور پوری دنیا میں صرف 1500 افراد اس کا شکار ہیں۔ لیام ڈربی کی عمر 18 برس ہے اور نیند میں جاتے ہی وہ سانس لینا بند کر دیتا ہے، اس لیے اسے ایک خاص بستر پر سلایا جاتا ہے جس میں آکسیجن فراہم کرنے والا ایک جدید نظام منہ کے ذریعے اس کے پھیپھڑوں میں آکسیجن شامل کرتا رہتا ہے اور اس کی نبض، دل کی دھڑکن اور دیگر اہم معلومات جمع کرتا رہتا ہے۔

لیام کا بستر تاروں اور برقی آلات پرمشتمل ہے جس کے لیے ہر ماہ اس کے اہلِ خانہ کو ہزاروں ڈالر کی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کی مسلسل فراہمی کے لیے کئی بیک اپ سسٹم بھی بنائے گئے ہیں۔ اگر ایک منٹ کے لیے بھی بجلی چلی جائے تو نوجوان لڑکے کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

لیام کی والدہ کا کہنا ہے کہ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارا بچہ زندہ ہے کیونکہ اس نے تمام ممکنات کو پورا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 11 برس کی عمر میں لیام زندگی سے بھرپور تھا اور ہمیشہ ہنستا اور مسکراتا رہتا اور ایک نارمل بچے کی طرح تھا۔

لیکن اب لیام 18 برس کی عمر میں بھی ڈاکٹروں کو حیران کر رہا ہے۔ وہ پیدائش کے وقت اسی کیفیت کا شکار تھا اور ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ وہ چند ہفتوں میں ہی مر جائے گا لیکن اب وہ 18 برس کا ہو چکا ہے اور ایک طرح سے  وہ کینسر کو بھی مات دے چکا ہے۔

لیام سے متعلق اب بھی ڈاکٹرز یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ وہ مزید کتنے عرصے زندہ رہے گا لیکن قدرت نے اسے بچا رکھا ہے اور امید ہے کہ وہ مزید زندہ رہے گا۔