بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پانامہ کیس‘تحمل کیساتھ انتظار کی ضرورت

پانامہ کیس‘تحمل کیساتھ انتظار کی ضرورت


سپریم کورٹ نے پانامہ عمل درآمد کیس کی سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جمعہ کے روز سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کے جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کیس میں ردعمل دیکھے بغیر قانون پر چلے ہیں ‘اب بھی صرف قانون کا راستہ ہی اپنائیں گے، جسٹس اعجاز افضل خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قانون کے اندر رہتے ہوئے لہروں کیخلاف تیرنا پڑا تو تیر لینگے جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کے اثاثوں میں 800ملین کا اضافہ حیران کن ہے، اس سے ایک روز قبل کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے شریف خاندان کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات کو جعلی قرار دیا، جسٹس عظمت سعید کا کہنا ہے کہ جعلی دستاویزات کے معاملے نے میرا دل توڑدیا ہے۔

ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے، جعلسازی پر قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، ان کایہ بھی کہنا ہے کہ تبدیل ہوتا موقف آپ کیلئے تباہ کن ہے، عدالت عظمیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ بچے لندن فلیٹس کی ملکیت ثابت نہ کرسکے تو وزیراعظم نوازشریف کو نتائج بھگتنا پڑیں گے، اسی روز وزیراعظم نوازشریف نے لواری ٹنل کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ جے آئی ٹی اور پی ٹی آئی کا احتساب کوئی نہیں مانے گا، ان کا کہنا ہے کہ یہ احتساب نہیں استحصال ہو رہا ہے‘ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ جے آئی ٹی سربراہ نے اپنے کزن سے ہیرا پھیری کرائی، دوسری جانب پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ دھمکیوں کا وقت گزر چکا ہے، عدالت کا فیصلہ نہ ماننے والا آئین کی خلاف ورزی کرے گا، وطن عزیز میں پانامہ لیکس کی ہلچل گزشتہ سال اپریل میںآف شور کمپنیوں کے حوالے سے رپورٹ آنے پر مچی ایک کروڑ پندرہ لاکھ دستاویزات پر مشتمل اس ڈیٹا میں دنیا کی بہت ساری اہم شخصیات کے نام آئے، وطن عزیز میں یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں آیااور جے آئی ٹی کی تشکیل کیساتھ سیاسی بیانات میں گرماگرمی آئی، اب جبکہ عدالت عظمیٰ نے سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، ضرورت تحمل کیساتھ فیصلے کے انتظار کی ہے‘ اس وقت سیاسی قیادت کو تدبر اور حوصلے سے کام لینا ہوگا، یہی جمہوری روایات کا تقاضا ہے۔

بس منصوبے کا آپریشن پلان

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے کے آپریشن اور بزنس پلان کی منظوری دیدی ہے، اس کیساتھ ہی فنانس ڈیپارٹمنٹ کو چمکنی کے مین ٹرمینل پر زمین کے حصول کیلئے مختص دو میں سے ایک ارب روپے ریلیز کرنے کے احکامات بھی جاری کردیئے گئے ہیں، حکومت مقررہ مدت میں پراجیکٹ کی تکمیل کیلئے پرامید ہے تاہم ماضی کے منصوبوں کو دیکھتے ہوئے بس کو سڑک پر لانے کیلئے مزید فول پروف انتظامات کرنا ہونگے، بس منصوبے کی سائٹ پشاور کی سب سے بڑی گزرگاہوں پر مشتمل ہے جن پر ٹریفک کیلئے متبادل انتظامات کئے جارہے ہیں، ان انتظامات میں جن سڑکوں اور راستوں کو متبادل ٹریفک کے طور پر استعمال کیاجائیگا ان پر ٹریفک کے موجودہ بہاؤ اور اس میں مشکلات کا جائزہ لیکر نیا بوجھ ڈالنے کیلئے منصوبہ بندی کرنا ہوگی اس کیلئے ایسی سڑکوں کا انتخاب کیا جائے جو لوڈ برداشت کر سکیں انہیں مزید ٹریفک کیلئے تیار کرنا بھی ضروری ہوگا‘ متعلقہ اداروں کو اگست کے وسط تک اس ضمن میں اپنی پلاننگ منظور کرانے کی ہدایت ناگزیر ہے تاکہ عوام کو اذیت سے بچایاجاسکے۔