بریکنگ نیوز
Home / کالم / عوام کے پیسوں پرشاہ خرچی

عوام کے پیسوں پرشاہ خرچی


ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے چاروں صوبوں میں کئی ایسے بیورو کریٹس پائے جاتے ہیں کہ جو ریٹائرمنٹ کے بعد ایک تو مقررہ عرصے کے اندر سرکاری رہائش گاہ نہیں چھوڑتے اور دوسرا یہ کہ جو سرکاری گاڑی نوکری کے دوران ان کے زیر تصرف ہوتی ہے اس پر بھی قبضہ جمائے رکھتے ہیں لیکن سب ریٹائرڈ افسران ایسا نہیں کرتے اس قسم کی جرات کرنے والے لوگ وہ سرکاری افسران ہوتے ہیں کہ جن کے ہاتھ کافی لمبے ہوتے ہیں ماضی میں اس قسم کی حرکات شاذ و نادر ہی کوئی سرکاری اہلکار کرنے کی جرات کر سکتا تھا آج کل سوشل میڈیا پر کینیڈا میں مقیم ایک پاکستانی نژاد ٹیکسی ڈرائیور کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ پاکستانیوں سے مخاطب ہو کر یہ کہتا ہے کہ ابھی ابھی وہ کینیڈا کے دو وزراء کو ان کے دفتر سے اپنی ٹیکسی میں بٹھا کر ان مقامات پر چھوڑ آیا ہے کہ جہاں انہوں نے ایک کانفرنس میں شمولیت کرنی تھی پھر وہ یہ کہتا ہے کہ اسے یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے اور اس کا دل یہ جان کر روتا ہے کہ پاکستان میں وزراء کے استعمال کیلئے کروڑوں بلکہ اربوں مالیت کی سرکاری گاڑیاں ہر سال دو سال بعد خریدی جاتی ہیں وہ یہ بھی کہتاہے کہ کینیڈا کا شمار دنیا کے مالدار ترین ممالک میں ہوتاہے لیکن ان کے حکمرانوں کا انداز زندگی رہن سہن بود و باش کے طریقے عام آدمیوں جیسے ہیں وہ ڈرائیور ہاتھ اٹھا کر ان وزراء کو بددعا دیتا ہے کہ اللہ ان کا بیڑا غرق کر دے انہوں نے پاکستان کو لوٹ کر کھا پی لیا ہے واقفان حال جانتے ہیں کہ سرکاری گاڑیاں سرکاری کاموں کیلئے کم اور نجی کاموں کیلئے زیادہ استعمال ہوتی ہیں واقفان حال اس طریقہ کار سے بھی بخوبی باخبر ہیں کہ کس طرح ان گاڑیوں میں پٹرول کی ایڈجسٹمنٹ کی جاتی ہے انکے ڈرائیورکن کن طریقوں سے پٹرول فروخت کرتے ہیں اور کون کون سے حربے استعمال کرکے وہ ان گاڑیوں کی مرمت کے بوگس بل بناتے ہیں۔

خدا لگتی یہ ہے کہ سرکاری گاڑیوں کا ٹرانسپورٹ سسٹم ایک ریکٹ بن چکا ہے کہ جس پر ہر سال ٹیکس دہندگان سے وصول کئے گئے پیسوں سے کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں اس پورے نظام کو جڑ سے اکھاڑے بغیر کام نہیں چلے گا جو نہی یہ نجی سرکاری گاڑیوں کا نظام ختم کیا جائے گا اس میں وی آئی پی کلچر کو ایک بہت بڑا دھچکا لگے گا آج کل ہماری سڑکوں پر دو چار نہایت ہی اعلیٰ درجے کی معیاری نجی ٹیکس سروسز بڑی کامیابی سے کام کررہی ہیں ان کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے پہلے تو ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم اور سرکلر ریلویز کے نظام کو بنایا جائے تاکہ ہر عام وخاص کو سرکاری گاڑیاں استعمال کرنیکی ضرورت ہی نہ پڑے تاوقتیکہ ایسا ممکن نہیں ہوتا وہ سرکاری اہلکار جو سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے کے مجاز ہیں ان کو اپنے گھر سے اپنے دفاتر تک آنے جانے کیلئے مناسب ٹیکسی الاؤنس دیا جائے جو ان کی ماہانہ تنخواہ کا ہی ایک حصہ بنا دیا جائے اس طرح وزراء کو بھی ماہانہ بنیادوں پر تنخواہ کیساتھ ٹیکس الاؤنس فراہم کیاجائے یقین کیجئے یہ سرکاری گاڑیاں اس ملک کے سالانہ بجٹ پر حد سے زیادہ بوجھ ہیں یہ غریب ملک ہے قرضوں پر یہ سانس لے رہا ہے۔

اس کے حکمرانوں اور بیورو کریٹس کو یہ بالکل زیب نہیں دیتا کہ روم جل رہا ہو اور وہ نیرو کی طرح بانسری بجائیں اگر ہمارے حکمرانوں اور پلاننگ ڈویژن سے متعلق بیورو کریٹس پاکستان بننے کے فوراً بعد اس ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم اور سرکلر ریلویز یا انڈر گراؤنڈ ریلویز کی تعمیر کی طرف خاطرخواہ توجہ دیتے تو جس طرح یورپ کے کئی ممالک کے اراکین پارلیمنٹ اور حکمران بشمول بیورو کریٹس اپنے دفاتر آنے جانے کیلئے ریلوے یا بسوں کااستعمال کرتے ہیں آج وہ بھی یہی طرز عمل اپناتے لیکن انہوں نے جان بوجھ کر نہ پبلک ٹرانسپورٹ کو منظم کیا اور نہ ریلویز کو یہ ان کی ترجیحات میں نہیں تھا وہ عام آدمی کے ساتھ بسوں اور ٹرینوں میں شانے سے شانہ ملا کر سفر کرنے کو اپنی توہین سمجھتے تھے وہ اپنے لئے ا یک نئی دنیا بنانا چاہتے تھے کہ جس میں لمبی لمبی گاڑیاں ہوں وردی میں ملبوس سرکاری ڈرائیور ہوں کہ جو ان کے لئے موٹر کارکا دروازہ کھولیں قوم کی اب بھی اگر آنکھیں نہ کھلیں تو پھر اس کا اللہ ہی حافظ ! وقت آ گیا ہے کہ سرکاری گاڑیوں کا موجودہ نظام سرے سے ہی ختم کر دیا جائے عوام اس قسم کی تبدیلی چاہتے ہیں پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اس ضمن میں پہلا قدم اٹھا کر اولیت حاصل کرسکتی ہے یہ کوئی ایسا مشکل کام بھی نہیں ہے وزیر اعلیٰ کے ایک حکم سے یہ روش بدل سکتی ہے۔