بریکنگ نیوز
Home / کالم / عجیب مقدمہ

عجیب مقدمہ

موجودہ مقدمے کا موازنہ اگر ذوالفقا ر علی بھٹو کے مقدمہ سے کیا جائے تو بہت سی باتیں مشترک نظر آئیں گی۔ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے خلاف جو تحریک شروع ہوئی وہ انتخابات میں دھاندلی کے الزام سے شروع ہوئی۔حزب اختلاف کی طرف سے دھاندلی کا الزام لگایا گیا۔ہمیں یاد ہے کہ اسی الیکشن میں ہماری ڈیوٹی پریذائیڈنگ افسر کے طور پر ایبٹ آباد کے ایک نواحی گاؤں میں لگی تھی ۔ جب شام کو اپنا بوریا بستر لئے اُس گاؤ ں پہنچے تو وہاں کے ایک کرتا دھرتانے ہمار استقبال کیا اور ہمارے وہاں بیٹھتے ہی اُس نے مجھ پر حملہ کر دیا کہ تم فلاں پارٹی کے آدمی ہو اور تم ہمارے خلاف یعنی پی پی پی کے خلاف دھاندلی کرو گے میں نے اسے بتایا کہ جناب ہم حکومت کے ملازم ہیں ہماری کوئی پارٹی نہیں ہوتی ہم نے آپ لوگوں سے ووٹ لینا ہے اور اس سارے عمل میں آپ کو ساتھ رکھنا ہے۔ جب ووٹنگ کا وقت ختم ہو گا تو آپ کے سامنے گنتی کرنی ہے اور آپ کو نتیجہ لکھ کر اور اپنی مہر لگا کر دینا ہے۔

اس دوران اگر آپ کو کوئی غلطی نظر آئے تو ضرور نشان دہی کرنا۔خیر دن گزرا ہم نے ووٹوں کی گنتی کر کے سارے پولنگ ایجنٹوں کے حوالے کی۔ ان کے سامنے سارے تھیلوں کو سر بمہر کیا اور ووٹوں والا تھیلا پولیس کے حوالے کیا اور اور رات ہی کو واپسی کا سفر کیا اور رات کے ایک یا دو بجے گھر پہنچے۔ دوسرے دن ہم نے اگلے انتخابات کے ووٹ اور دیگر سامان لیا اور اسی گاؤں میں پہنچ گئے ۔ اب وہ صاحب ہمارے سامنے نہیں آئے کیونکہ ان کا نمائندہ ہمارے سٹیشن سے جیت چکا تھاادھر سویرے سویرے احکام پہنچ آئے کہ حزب اختلاف ( نو ستاروں والے ) نے بائیکاٹ کر دیا ہے کیونکہ الیکشن میں دھاندلی ہو گئی ہے۔ ہڑتالیں بھی چلتی رہیں اور مذاکرات بھی ہوتے رہے بھٹو صاحب نے دوبارہ الیکشن پر اتفاق کر لیا مگر یہاں ایجنڈا ہی اور تھا چنانچہ فوج کے سپہ سالار کو خطوط لکھے گئے کہ وہ حکومت کا تختہ الٹ کر اپنی زیر نگرانی الیکشن کروائیں چنانچہ جنرل ضیاء الحق نے حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی اور نوے دن میں الیکشن کا وعدہ کر لیامگر اب حزب اختلاف ( نو ستارے والے) کا ایک اور مطالبہ آ گیا کہ انتخابات سے پہلے احتساب ہونا چاہئے۔ احتساب جو شروع ہوا تو وہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر منتج ہوا اور نوے دن کے الیکشن کا وعدہ گیارہ سال پر محیط ہو گیااور اگر ہوائی حادثہ نہ ہوتا تو نہ جانے کب تک پاکستا ن وردی کے سائے میں رہتا۔ اب سارے لوگ فوج کو بد نام کرتے ہیں کہ اُس نے جمہوریت کی بساط لپیٹی مگر کوئی نہیں کہتا کہ یہ بساط خود جمہوری کہلانے والے لیڈروں کا کیا دھرا تھا۔

آج بھی پی پی پی والے ضیا ء الحق کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور ان کیساتھ وہ سارے لوگ بھی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں جو مارشل لاء کو دعوت دینے والے تھے آج بھی ایک احتساب جاری ہے۔کسی کو معلوم نہیں ہو رہا کہ اصل مقدمہ ہے کیا۔اگر کوئی رقم پاکستان سے گئی تو اس کا ثبوت تو مقدمہ دائر کرنے والے کو لانا ہے اگر مدعا الیہ الزام قبول نہیں کرتا تو مدعی کو سارے ثبوت عدلیہ میں پیش کرنے چاہئیں لیکن سوائے اس کے کہ کہا جا رہا ہے کہ رقم پاکستان سے غلط طریقے سے باہر گئی مگر ثبوت کسی کے پاس نہیں اسی تگ و دو میں کئی ماہ گزر چکے ہیں۔ اب لگتا ہے کہ مقدمہ ٹرائل کورٹ کو بھیجا جائے گا اس لئے کہ جو کاغذات پیش کئے جا رہے ہیں انکا فیصلہ سپریم کورٹ نہیں کر سکتی اس لئے کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے اس کورٹ میں ان ہی فیصلوں کو دیکھا جا سکتا ہے جو ٹرائل کورٹس کی طرف سے فیصلہ ہو کر آئیں اسکا کیا مستقبل ہے یہ ابھی تک واضع نہیں ہے مگر جس طرح کی تحقیق عدالت سے باہر ہو رہی ہے اس سے خطرہ ہے کہ کہیں جمہوریت کی بساط لپیٹ ہی نہ دی جائے اسلئے کہ کچھ ایسے حالات اس وقت بھی تھے جب بھٹو کیخلاف سیاسی لوگ میدان میں تھے اب وزیر اعظم کے استعفے کی بات ہو رہی ہے جمہوریت میں کسی بھی وزیر اعظم کو نکالنے کا ایک طریقہ دیا ہوا ہے کہ اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائیں اور اس کو نکال باہر کریں اور اگر آپ یہ نہیں کر سکتے تو آرام سے بیٹھ جائیں اور انتخابات کا انتظار کریں اور ایک کرپٹ پارٹی کو جیتنے نہ دیں اس کے علاوہ تو کوئی طریقہ نہیں ہے ۔ اگر وزیر اعظم کرپٹ ہے تو اسے نکالنے کا یہی ایک طریقہ ہے ورنہ انتظار ہی بہتر ہے تا کہ کوئی تیسری قوت حملہ آور نہ ہو جائے۔