بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / ایک اورڈیڈلائن گزر گئی

ایک اورڈیڈلائن گزر گئی

پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی سے متعلق خیبر پختونخوا حکومت کے فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے 13اپریل2017ء کو ایک حتمی روڈ میپ دیا گیا تھا صوبائی حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ صوبے میں نان ڈی گریڈیبل ( تحلیل نہ ہو سکنے والی) پلاسٹک مصنوعات بشمول پلاسٹک شاپنگ بیگزپرپابندی یقینی بنانے کیلئے قانون سازی مکمل کر لی گئی ہے جسکے تحت مذکورہ مصنوعات کی صوبے میں تیاری ‘درآمد‘ فروخت اور ذخیرہ کرنے پر پابندی ہوگی تاہم بائیو ڈی گریڈیبل (قدرتی طور پر تحلیل ہو سکنے والے ) پولی تھین بیگز کی تیاری اور فروخت کی جا سکے گی اس اعلان کے تحت خیبر پختونخوا میں نان ڈی گریڈیبل پلاسٹک شاپنگ بیگز کا کاروبار کرنے اور انھیں سودا سلف کی فروخت کیلئے استعمال میں لانے والے تاجروں کو متنبہ کیا گیا تھاکہ وہ تین ماہ کے اندر پولی تھین بیگز کا حاضر سٹاک استعمال میں لے آئیں یعنی ختم کر دیں تین ماہ کے بعدان پلاسٹک شاپنگ بیگزکا کاروبار کرنے یا انھیں استعمال میں لانے والے تاجروں کیخلاف قانون حرکت میں آئیگا اور قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے ہر شخص کو50ہزار سے پانچ لاکھ روپے تک جرمانے اوردو سال قید تک کی سزا دی جا سکے گی یہاں اس پس منظر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواپرویز خٹک نے اگست 2015ء کے اوائل میں پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیاتھا اس فیصلے پر عمل درآمد کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے تاجر نمائندوں کی مشاورت سے ابتدائی طور پر ستمبر 2015ء میں شاپنگ بیگز پر پابندی کے طریقہ کار کا تعین کیا۔

طے شدہ طریقہ کار کے تحت شاپنگ بیگز کا خام مال استعمال میں لانے کیلئے تین ماہ اور کالے رنگ کے شاپنگ بیگز کا حاضر سٹاک ختم کرنے کیلئے چھ ماہ کی مہلت دی گئی تھی یہ بھی طے پا یا تھا کہ چھ ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد کالے رنگ کے شاپنگ بیگز کی فروخت پر مکمل پابندی ہو گی جبکہ اس عرصے کے بعد مارکیٹ میں کم از کم50مائیکرون موٹائی کے شاپنگ بیگز ہی فروخت کئے جا سکیں گے یہ اتفاق رائے بھی ہوا تھا کہ اس عرصے کے دوران بحیثیت مجموعی شاپنگ بیگز کی تیاری کو بتدریج نان ڈی گریڈیبل ( نا قابل تحلیل ) ٹیکنالوجی سے بائیو ڈی گریڈیبل ( قدرتی طور پر قابل تحلیل) ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جائے گااور یہ عمل زیادہ سے زیادہ ایک سال کے عرصے میں مکمل کر لیا جا ئیگا ستمبر 2015ء میں حکومتی کمیٹی اور تاجر نمائندوں کے درمیان اتفاق رائے سے طے پانے والے معاملات پر جب عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آیا تو حکومتی کمیٹی ‘تاجر نمائندے اور متعلقہ سرکاری محکموں کے ذمہ داران ایک مرتبہ ھر سر جوڑ کر بیٹھے اورنان ڈی گریڈیبل پولی تھین بیگز کا خاتمہ یقینی بنانے کیلئے مجوزہ قانون سازی پر اتفاق رائے کیا گیا ساتھ ہی ساتھ یہ بھی طے ہوا کہ تاجروں کومذکورہ پلاسٹک شاپنگ بیگز ختم کرنے کیلئے تین ماہ کی حتمی ڈیڈ لائن دی جائے گی جس کے بعد صرف بائیو ڈی گریڈیبل پولی تھین بیگز کے استعمال ہی کی اجازت ہو گی ، نتیجتاً 13اپریل 2017ء کا وہ اعلان کیا گیا جس کی تفصیل اس تحریر کی ابتداء میں بیان کی گئی ہے ۔

اب جبکہ حکومت کی جانب سے دی گئی تین ماہ کی ڈیڈ لائن ختم چکی ہے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پورے خیبر پختونخوا بالخصوص پشاور میں نان ڈی گریڈیبل پلاسٹک شاپنگ بیگز کی خریدو فروخت اور استعمال بند ہو چکا ہو تا لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے ‘ان بیگز کی خریدو فروخت اور استعمال اسی طرح کھلے عام جاری ہے جس طرح 13 اپریل2017ء کو تھا اور تو اورکالے رنگ کے شاپنگ بیگز بھی اب تک آزادانہ استعمال ہو رہے ہیںیعنی خیبر پختونخوا حکومت کا وہ فیصلہ جو اگست 2015 ء میں لیا گیا تھا تقریباً دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود عمل درآمد کی راہ تک رہا ہے ماحول اور انسانی صحت کیلئے خطرناک حیثیت رکھنے والے پلاسٹک شاپنگ بیگز بازاروں میں کھلے عام فروخت ہو رہے ہیں اور تاجرو دکاندار انھیں بلا وخوف وخطر سودا سلف و اشیائے ضروریہ کی فروخت کے ضمن میں استعمال میں بھی لا رہے ہیں شہری سوال کرتے ہیں کہ پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی کے حکومتی فیصلے کی کھلی خلاف ورزی کب تک اس فیصلے کا منہ چڑاتی رہے گی؟ فیصلے پر عمل درآمد کی ذمہ دار خصوصی کمیٹی 13اپریل کے اعلان کو عملی جامع پہنانے کیلئے کب میدان میں نکلے گی ؟وہ قانون جس کا 13اپریل کو حوالہ دیا گیا تھا کب حرکت میں آئے گا؟ اورکیا موجودہ دور حکومت میں اس فیصلے پر عمل درآمد ہو بھی پائے گایا نہیں ؟۔